| 88523 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میری شادی کو 10 سال ہوگئے ہیں۔ 7 سال سےمیراشوہر کے ساتھ کوئی ازدواجی تعلق نہیں ہے، کیونکہ وہ جرمنی میں ہے۔ وہاں اس نے شادی کرلی ہے اور دو بچے بھی ہیں۔ اب میرے گھر والے طلاق کروانا چاہ رہے ہیں، انہوں نے پیپر سائن کرکے بھیج بھی دیئے ہیں اور میرا ایک اور جگہ سے رشتہ آیا ہوا ہے۔ مجھے یہ بتا دیں کہ عدت واجب ہے یا نہیں؟جبکہ ان 10 سالوں کے رشتے دوران بہت بار وہ مجھے غصے میں بول چکے ہیں کہ "تم کو چھوڑ چکا ہوں"، "طلاق دیتا ہوں"۔ جب میں نے پوچھا تو ہمیشہ یہ بولا کہ غصے میں کہا ہے۔ 7 سال سے صرف فون پر بات چیت کے علاوہ میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہیں ہوا۔ آپ مجھے فتویٰ دیں تاکہ میرے لیے آگے رشتہ کرنے میں آسانی ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"تم کو چھوڑ چکا ہوں"، "طلاق دیتا ہوں" جیسے الفاظ جومتعددبارشوہربول چکاہے طلاق میں صریح ہیں۔ ان سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، چاہے کہنے والا یہ الفاظ غصے میں کہے، کیونکہ شرعاً غصے میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ بلکہ عام طور پر طلاق دی ہی غصے میں جاتی ہے، پیار میں کون طلاق دیتا ہے؟ لہٰذا زبانی الفاظِ طلاق بولنے کے بعد وقوعِ طلاق کے لیے تحریر اور اس پر سائن وغیرہ کی شرعاً کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
لہٰذا طلاق کا پہلا لفظ زبانی بولنے کےبعداگر شوہر نے عدت میں رجوع نہیں کیا تھا تو آپ کی عدت پہلی طلاق سے شروع ہوگئی تھی، اور اگر رجوع کیا تھا تو دوسری طلاق سے، اور اگر اس کے بعد بھی عدت میں رجوع کیا تھا تو تیسری زبانی طلاق سے شروع ہو کر تین حیض (تین ماہواریوں) کے اختتام پر ختم ہوگئی تھی۔
لہٰذا تین حیض کے بعد سے آپ آزاد ہوچکی ہیں اور آگے نکاح کرسکتی ہیں۔ اور اگر ابھی تک تین حیض مکمل نہیں آئے ہوں (جو بظاہر مشکل ہے) تو تین حیضوں تک انتظار ضروری ہوگا۔
حوالہ جات
فی القرآن الکریم:
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ [البقرة/228]
وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى يَبْلُغَ الْكِتَابُ اَجَلَهٗ (البقرۃ :۲۳۵)
وفی الھندیۃ (۵۳۴/۱):
لا يجوز للأجنبي خطبة المعتدة صريحا سواء كانت مطلقة أو متوفى عنها زوجها كذا في البدائع.
وفی اعلاء السنن:
عن إبراہیم النخعي عن علي رضي اللّٰہ عنہ أنہ قال في المرأۃ تتزوج في عدتہا: یفرق بینہا وبین زوجہا الآخر، ولہا الصداق منہ بما استحل من فرجہا، وتستکمل ما بقي من عدتہا من الأول، وتعتد من الآخر عدۃ مستقبلۃ، ثم یتزوج الآخر إن شاء۔ رواہ محمد في الحجج لہ (۲۹۷)، وهو مرسل صحیح ومراسیل النخعي صحاح۔ (إعلاء السنن / باب من تزوج امرأۃ في عدتہا یفرق بینہما وتستکمل العدۃ ثم یتزوجہا إن شاء ۱۱؍۱۵۳ رقم: ۳۲۱۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
09/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


