| 88536 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے دو بیٹوں کی بیویاں آپس میں لڑ پڑیں ۔ بڑے بیٹے کی بیوی نے اپنے ماں باپ کو بلا کر کہا کہ مجھے کمرے میں بند کر کے چار افراد نے مارا ہے جو کہ مکمل جھوٹ تھا، اسکے والدین نے ایک گھنٹے تک ادھم مچائی ،اونچی آواز سے بداخلاقی اورگالی گلوچ کی جس پراہل محلہ جمع ہوئے، لڑکے کا باپ یہ کہتا رہا کہ بھائی کچھ اپنائیت کا خیال کرو،بھائی کچھ اپنائیت کا خیال کرو۔ مگر وہ لوگ نہ مانےپھر یہ کہا کہ میری بیٹی کا جائیداد میں سے حصہ دو،پورے محلے میں ہماری بے عزتی کرائی ،برائے مہربانی یہ بتائیں کہ
کیا ہم ان کے کہنے پر جائیداد میں ان کی بیٹی کو حصہ دیں؟ شریعت کا کیا حکم ہے ،ایسے شرپسند لوگوں کا اسلام میں کیا حصہ بنتا ہے؟ شریعت کیا حکم دیتی ہے ایسے لوگوں کیلئے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیٹے کی بیوی (بہو) کا اپنے سسر یا ساس کی جائیداد میں شرعاً کوئی حصہ نہیں بنتا، جائیداد کا وارث صرف وہی ہوتا ہے جسے شریعت نے وارث قرار دیا ہے، جیسے بیٹے،بیٹیاں،والدین یا بیوی/ شوہر۔ بہو ان ورثاء میں شامل نہیں،اوریہ لوگ وارث تب بنتے ہیں جب مورث کا انتقال ہوجائے،ان کی زندگی میں بیٹوں سمیت کسی وارث کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
لہٰذابہو یا اس کے والدین کا یہ مطالبہ کرنا کہ"جائیداد میں حصہ دو"بالکل ناجائزاوربے بنیاد ہے، اگربہوکےوالدین بیٹی کے شوہرکے حصے کی بات کررہےہوں تو یادرکھیے کہ والد کی زندگی میں بیٹابھی ان کی جائیداد کا وارث نہیں،والد ہی اپنی جائیداد کا مالک ہوتاہے،لہذا اس بنیاد بھی ان کا مطالبہ کرنا غلط ہوگا۔
جھوٹا الزام لگانا،شوروغل اور گالی گلوچ کرنا سخت گناہ اور کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن و حدیث میں جھوٹ اور ظلم کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے،ایسے لوگوں پرلازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ واستغفار کریں اورلڑکے کی فیملی سے معافی مانگیں۔
خلاصہ یہ ہےکہ:
آپ پر لازم نہیں کہ بہو کو جائیداد میں حصہ دیں، نہ ہی ان کے اس ناجائز مطالبے کی کوئی شرعی حیثیت ہے۔ تاہم ایسے مواقع پرصبراور حکمت سے کام لینا چاہیے،اور اگر وہ اپنی زیادتی پر قائم رہیں تو قانونی راستہ اختیارکرتے ہوئے آپ اپنے آپ کو ان کی شر سے بچاسکتے ہیں۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية( 1/ 230):
كل يتصرف في ملكه كيف ما شاء.
رد المحتار: (کتاب الفرائض، 769/6، ط: سعید(
شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث.
تکملة فتح الملهم( ۲/۱۷-۱۸):
’’ولو کان مدار الإرث علی الیتم والفقر والحاجة لما ورث أحد من الأقرباء والأغنیاء، وذهب المیراث کله إلی الیتامیٰ والمساکین … وأن معیار الإرث لیس هو القرابة المحضة ولا الیُتم والمسکنة، وإنما هو الأقربیة إلی المیت‘‘.
وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا . (الاحزاب:58)
'' عن علي قال: البهتان على البراء أثقل من السموات. الحكيم''. (كنز العمال (3/ 802)، رقم الحدیث: 8810)
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا ينبغي لصديق أن يكون لعانا» . رواه مسلم. (مشکاة المصابيح،كتاب الآداب،باب حفظ اللسان، الفصل الاول، رقم الحديث:4819)
''لا یرمي رجلٌ رجلاً بالفسوق ولا یرمیه بالکفر إلا ارتدت علیه إن لم یکن صاحبه کذلک'' . (صحیح البخاري، كتاب الادب،باب ما ینهی عن السباب واللعن،رقم الحديث:6045)
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ ‘ (المؤمن:52)
"عن ابن مسعود - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:((سِباب المؤمن فسوق، وقتاله كُفر))؛ متفق عليه".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
09/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


