03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیم میراث کے وقت ترکہ میں موجود مشترک مکان میں کی گئی تعمیرکا حکم
88515میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد صاحب جن کی وفات 1993ء میں ہوئی ،ان کی ملکیت میں ایک مکان جو 2206 فٹ پر بنا ہوا ہے،دوسرا ایک پلاٹ جو ساڑھے چھ سو فٹ کاہے،تین دکانیں تھیں،والد صاحب کی زندگی میں دوہزار دو سو چھ فٹ کے پلاٹ پر چار کمرے،کچن ،بیت الخلاء کی تعمیر ہوئی تھی،اس کے علاوہ اسی پلاٹ پر تین بھائیوں نے اپنی ذاتی ملکیت سے تعمیر کی ،ا ب  وراثت کی تقسیم  میں سب بھائیوں کو برابر حصہ ملے گایا پھر جن بھائیوں نے اپنی ذاتی رقم سے تعمیر کی،انہیں اس تعمیر کے الگ سے پیسے ملیں گے؟ اگر الگ سے تعمیر کے پیسے ملیں گے تو جس وقت بنایا تھا اس وقت کی قیمت لگے گی یا پھر فروخت کرتے وقت کی؟

تنقیح: والد صاحب کی وفات کے بعد ان بھائیوں نے اپنی رہائش کے لئے کمرے تعمیر کروائے ہیں اور تعمیر کے وقت ایسی کوئی بات طے نہیں ہوئی کہ جو تعمیر بھائی کروارہے ہیں ،تقسیم کے وقت اس کی کیاحیثیت ہوگی؟

نیز اب سب ورثا اسے فروخت کرکے اس کی قیمت آپس میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں جن بھائیوں نے والد کی وفات کے بعد اپنی رہائش کے لئے کمرےوغیرہ تعمیر کروائے ہیں وہ  تعمیرات انہیں کی ملکیت ہیں ،جبکہ پلاٹ کا رقبہ اور والد صاحب کی جانب سےکی گئی تعمیرات تمام ورثا کی مشترکہ ملکیت ہے۔

چونکہ اب تمام ورثا اس مکان کو فروخت کرکے اس کی قیمت تقسیم کرنا چاہتے ہیں تواس  کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ غیر جانبدار ماہرینِ تعمیرات سے مذکورہ جگہ کی کل قیمت بھی لگوالیں اور والد صاحب کی وفات کے بعد بھائیوں نے جو تعمیرات کی ہیں ان کے بغیر بھی اس جگہ کی قیمت لگوالیں،پھر اس جگہ کی کل قیمت سے دونوں قیمتوں میں جو فرق ہووہ ان بھائیوں کوجنہوں تعمیرات کی ہیں ان کی تعمیرات کے تناسب سے دے دیا جائے۔

حوالہ جات

"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام "(3/ 315):

"الاحتمال الثالث : إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه. انظر المادة (831) وشرح المادة (906)".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

08/ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب