03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹی کے دکان جانے پر طلا ق کو معلق کرنا
88507طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میری شادی کے کچھ عرصے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میرے شوہر شراب نوشی کے عادی ہیں اور آمدنی کمانے میں بھی غیر ذمہ دار ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے درمیان اکثر جھگڑے ہونے لگے۔ میں نے انہیں بارہا سمجھایا کہ شراب نوشی ترک کریں اور گھر اور بچوں کے اخراجات کے لیے ذمہ داری سے کمانا شروع کریں، لیکن انہوں نے اس کے برعکس روزمرہ کی بنیاد پر جھگڑے شروع کر دیے۔چھ سال قبل انہوں نے مجھے ایک طلاق اس انداز سے دی کہ انہوں نے کہا:اگر ہماری بیٹی (جو اس وقت تقریباً 11 سے 15 سال کی تھی) آج کے بعد نیچے دکان پر سودا سلف لینے گئی تو ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ یہ الفاظ انہوں نے ہوش و حواس میں کہے تھے۔بعد میں بیٹی کئی بار نیچے دکان پر سودا لینے گئی۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ بیٹی نیچے گئی ہے، لہٰذا طلاق واقع ہو گئی۔ اس پر میرے شوہر نے فوراً رجوع کر لیا۔میرا سوال یہ ہے:کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی تھی یا نہیں؟ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی تھی۔

حوالہ جات

(الفتاوی الھندیۃ : 1/415)

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

2ربیع الاول  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب