03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شدید ضرر کا باعث ہونے کی صورت میں شوہر کے نامحرم لڑکی سے تعلق کی بناء پر فسخ نکاح کا حکم(جدید)
88545طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میرے سوال کا پس منظر یہ ہے کہ 2021ء میں میں نے اپنی بیٹی کا نکاح اس کی رضامندی کے ساتھ خاندان سے باہر ایک ایسے لڑکے سے کیا تھا، جس کے گھر میں ان کے والد اپاہج اور نابینا تھے اور والدہ کا انتقال ہوچکا تھا، چار بہنوں میں سے دو بہنیں شادی شدہ تھیں اور دو بہنیں عمر نکل جانے کی باعث گھر میں زندگی گزار رہی تھیں، داماد کے گھر میں اس کے غیر شادی شدہ بڑے بہن بھائی ہی گھر کا انتظام سنبھالتے تھے، تاہم اس طرح کے حالات اور مجبوریوں کے باوجود مجھے یہ لوگ بہت تمیزدار، پڑھے لکھے، باپ کے خدمت گذار اور رشتوں کا احترام کرنے والے لگے تھے، جس کی بناء پر میں بھی بیٹی کےلئے آئے ہوئے اس رشتے پر مطمئن ہوگیا تھا،جبکہ میری والدہ اور میرے دیگر بڑے بہن بھائیوں کو بھی یہ رشتہ مناسب لگا تھا، اسی لئے میں بیٹی کی شادی اس خاندان میں کردی تھی۔

 ابتداء میں میری بیٹی شادی کے بعد اس جوائنٹ فیملی سسٹم سے بھی مطمئن نظر آتی تھی، مگر اندرون خانہ حقیقت یہ تھی کہ بڑے بھائی اور بہن نے اپنے چھوٹے بھائی (یعنی میرے داماد) کی شادی اسے اخلاقی طور پر بلیک میل کرکے زبردستی کروائی تھی۔ (کیونکہ وہ اس شادی پر رضامند نہیں تھا، اور کسی اور لڑکی کو پسند کرتا تھا) اس کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب بیٹی کے نکاح سے ایک دن پہلے میرے گھر والوں (میری وائف اور بیٹی) کو مریم نامی ایک لڑکی کے میسج موصول ہوئے ،جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ آپ جس لڑکے سے اپنی بیٹی بیاہنے جارہے ہیں ،وہ دراصل کالج کے زمانے سے مجھ سے محبت کرتا ہے اور اس کے گھر والے اس کی شادی زبردستی آپ کی بیٹی سے کروا رہے ہیں اور ہمیں خبردار کیا کہ آپ کی بیٹی اس گھر میں کبھی خوش نہیں رہ سکے گی، ساتھ ہی اس نے ثبوت کے طور پر اپنی اور میرے ہونے والے داماد کے ساتھ کھینچی گئی ایک تصویر (سیلفی) بھی بھیجی تھی۔

نکاح سے عین ایک دن پہلے اس طرح کے میسجز آنے سے ہم بہت پریشان ہوگئے، داماد کے گھر والوں (سربراہ بہن بھائی) سے استفسار کیا تو انہوں نے دروغ گوئی کا سہارا لیتے ہوئے بتایا کہ یہ تو چھ سال پرانی بات ہے، ہم چھ سال قبل اپنے بھائی کے کہنے پر اس لڑکی کا رشتہ لینے گئے تھے،مگر ہمیں وہ لڑکی اور اس کے گھر والے ٹھیک نہیں لگے تو ہم نے وہاں رشتہ نہیں کیا، اب یہ بات پرانی ہوچکی ہے، (حالانکہ یہ محض چند ماہ پرانی بات تھی) انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارا بھائی ایک شریف النفس انسان ہے اور اس نے اس لڑکی سے اسی وقت ہر قسم کا رابطہ بھی ختم کرلیا تھا۔

دل میں شک آجانے کی باعث میں یہ رشتہ اس دن ختم کرنا چاہتا تھا، مگر اس موقع پر لڑکے (ہونے والے داماد) نے بھی میرے گھر آکر ہمیں یہی یقین دہانی کروائی کہ میرا اب اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں اور یہ بھی کہا کہ وہ بہت چالاک لڑکی ہے اور جان بوجھ کر ہمارے اس رشتے کو خراب کر رہی ہے۔ (درحقیقت اس وقت داماد نے بھی دروغ گوئی سے کام لیا تھا)

ان لوگوں کی ظاہری شرافت کو دیکھتے ہوئے ان کی بات کا یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ،بالخصوص ایسے وقت میں کہ جب نکاح کی تقریب میں صرف ایک دن رہ گیا تھا اور خود لڑکا بھی سنجیدگی سے وہی بات کر رہا تھا جیسی کہ اس کے گھر والوں نے بتائی تھی۔

اس وقت میں نے بیٹی اور ہونے والے داماد کی آپس میں بات بھی کروائی تھی، کیونکہ اس لڑکی کے میسجز آنے کے بعد سے بیٹی بہت رنجیدہ تھی اور رو رہی تھی۔

تاہم داماد کی یقین دہانیوں کے بعد صرف میں نے ہی نہیں، بلکہ میری بیٹی نے بھی ان سب کی باتوں پر یقین کرلیا اور یہ نکاح اپنے وقت پر ہوگیااور نکاح کے آٹھ ماہ بعد رخصتی بھی ہوگئی، نکاح اور رخصتی کے درمیانے عرصے میں، میں نے یا میرے گھر والوں نے جب جب داماد کو کال کی یا عید وغیرہ کے اہم موقعوں پر اسے دعوت پر بلایا تو اس نے اسے بالکل اہمیت نہیں دی،داماد کے رویہ میں اس سردمہری کو محسوس کرتے ہوئے میں نے اس کے بڑے بھائی (گھر کے سربراہ) سے اس مسئلے کو ڈسکس کیا جس پر انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ بھائی بہت شرمیلا اور کم گو ہے۔

ہم نے بھی اس رویہ کو شرم و حیا پر تعبیر کیا اور سوچا کہ رخصتی کے بعد وہ ہمارے خاندان میں بھی گھل مل جائے گا۔

مگر بدقسمتی سے رخصتی کے بعد بھی اس کی سرد مہری میں کمی نہیں آئی، ہم دعوت پر بلاتے تو وہ کسی نہ کسی بہانے سے منع کردیتا،بیٹی کو زیادہ تر گھر کے باہر سے ہی چھوڑ کر چلاجاتا، گھر کے اندر بہت اصرار کرنے پر ہی آتا تھا،بیٹی کو (ایک دن کا کہہ کر) میکے میں رہنے کیلئے چھوڑ جاتا تھا ،مگر (دوسرے دن) اسے لینے نہیں آتا تھا، پھر تیسرے دن بھی کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر کہتا کہ فی الحال آپ اپنے گھر پر ہی رہیں مجھے فرصت ملے گی تو لے جاؤں گا، بالاخر (سسرال میں گھر کے کام کاج میں تنگی ہونے لگتی تو اس وقت بھی) بڑی بہن کے حکم کی وجہ سے پورے ہفتے بعد بیوی کو لینے آتا تھا۔

بیٹی اسے چھٹی لینے کا کہتی تو زیادہ کام یا آڈٹ کا بہانہ بنادیتا تھا اور جب بیٹی ہمارے گھر پر ہوتی تو بیماری کے بہانے سے آفس سے چھٹی کرلیتا تھا، بیٹی فکر کا مظاہرہ کرتی تو اسے کہتا تھا کہ آپ اپنے گھر پر ہی رہیں، میں ٹھیک ہوجاؤں گا تو آپ کو لینے آجاؤں گا، اس کے بعد گھر سے باہر چلا جاتا اور بیٹی کے میسج یا کال بھی اٹینڈ نہیں کرتا تھا، یوں سمجھئے کہ ہروقت اپنی  نوبیاہتا بیوی سے جان چھڑانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔

شادی کے فورا بعد کوئی بھی مرد اپنی بیوی سے ایسا روکھا برتاؤ نہیں رکھتا، ا س لئے میرے داماد کی اس طرح کی سرد مہری سے مجھے بحیثیت باپ اپنی بیٹی کی ازدواجی زندگی کی فکر ہونے لگی،میں نے محسوس کیا کہ بیٹی رات گئے تک ویڈیو کال پر میری چھوٹی بیٹی اور اپنی والدہ سے گپ شپ کرتی رہتی ہے، مگر انہیں بھی شوہر کے حوالے سے کچھ نہ بتاتی، بس اپنے روزمرہ کے کاموں کے حوالوں سے یا سسرال میں ہونے والی ہنسی مذاق کی باتیں بتاتی تھی، ہمیں کچھ ظاہر نہیں کرتی تھی۔

میں نے جب روزانہ اسے اتنی رات گئے تک ماں اور بہن سے باتیں کرتے دیکھا تو اس سے ایک دن داماد کی روٹین کے بارے میں پوچھا،جس پر اس نے جواب دیا کہ وہ روزانہ رات دس بجے آتے ہیں اور پھر کھانا کھا کر کچھ دیر اپنے ابا کے پاؤں دباتے ہیں اور اس کے بعد اپنے دوستوں کے پاس چلے جاتے ہیں اور پھر اپنے کمرے میں ان کی واپسی رات کو ڈھائی تین بجے کے بعد ہی ہوتی ہے۔

مجھے داماد کی یہ روٹین بہت عجیب لگی، کیونکہ صبح سات بجے جاگ کر اور سارا دن آفس میں مغز کھپانے کے بعدتھکن کے باوجود اتنی رات گئے تک بغیر کسی جائز وجہ کے گھر سے غائب رہنا شرافت کی نشانی نہیں سمجھی جاتی۔

میں نے اس سلسلے میں اس کے بڑے بھائی اور بہن سے ہلکی پھلکی شکایت کی تو بڑے بھائی نے لاپرواہی سے کہا کہ "آجکل تو یہ پھر بھی جلدی آجاتا ہے،پہلے تو یہ چار پانچ بجے آتا تھا"

میں نے کہا کہ "لیکن اب تو اس کی شادی ہوگئی ہے اسے کہیں کہ ٹائم سے گھر آجایا کرے، یہ باتیں سمجھانا گھر کے بڑوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمیں بھی ہمارے والدین نے شادی کے بعد گھر جلدی آنے کا پابند کیا تھا،مگر ان کے بڑے بھائی نے پھر لاپروائی سے کہا کہ "آپ کچھ زیادہ ہی حساس ہورہے ہیں، ورنہ مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں"۔

نہ صرف یہ کہ انہوں نے میری شکایت کو اہمیت نہیں دی، بلکہ ہمارے جانے کے بعد وہ (داماد کے بڑے بھائی)  میری بیٹی پر برس پڑے کہ تم اپنے شوہر کی ہر بات اپنے گھر والوں کو کیوں بتاتی ہو۔

واضح رہے کہ بیٹی نے تو ابتدائی تین ماہ میں ہمیں کوئی بھی بات نہیں بتائی تھی،یہ تو میں نے بحیثیت باپ خود ہی نوٹ کیا تھا کہ بیٹی اپنی ازدواجی زندگی کا صرف جھوٹا بھرم رکھ رہی ہے، ایک ازدواجی اطمینان اور سچی خوشی جو نئی شادی شدہ لڑکی کے چہرے پر نظر آتی ہے وہ مجھے اپنی بیٹی کے چہرے پر کبھی نظر نہیں آئی۔

ایک دن جب بیٹی بھی داماد کے سرد مہر رویئے سے تنگ آگئی تو اس نے مجھ سے برملا اظہار کیا اور کہا کہ میں اس بار جب ملنے کیلئے گھر پر آؤں تو آپ مجھے واپس نہیں جانے دیجئے گا اور ساتھ ہی وہ فون پر رونے بھی لگی، اس کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر گھر میں موجود ہو تب بھی خود سے کوئی بات نہیں کرتا، میں اگر کچھ پوچھ لوں تو مختصر جواب دے دیتا ہے۔ مجھ سےآج تک نظر تک نہیں ملائی، ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بات کا جواب دیتا ہے، اس کے علاوہ بس ہر وقت فون پر کسی سے چیٹ کرتا رہتا ہے۔

چونکہ میں خود بھی بیٹی کی حقیقی پریشانی کو محسوس کر چکا تھا، اس لئے میں نے اس کی بات مان لی اور جب وہ گھر آئی  اسے اپنے گھر پر روک لیا اور داماد کو کہا کہ جس دن تم اپنی روٹین تبدیل کرلو گے اس دن اسے لینے آجانا،میرا خیال تھا کہ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہوگا،مگر اس کی تو جیسے جان چھوٹ گئی اور وہ تین ہفتے تک اسے لینے نہیں آیا۔

میرے بڑے بھائی کو یہ بات پتہ چلی تو وہ مجھے کہنے لگے کہ اس طرح کہیں تمہاری بیٹی کا گھر خراب نہ ہوجائے، اگر وہ تمہاری بات کو سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں تو میں ان سے بات کرلیتا ہوں،پھر انہوں نے نجانے کیا بات کی کہ داماد میری بیٹی کو خود ہی لینے کیلئے آگیا اوربیٹی واپس چلی  گئی تو ہم یہی دعا کرتے رہے کہ اللہ کریم ہمارے داماد کو عقل سلیم عطا کرے، تاکہ یہ گھر بسا رہے،بالآخر بیٹی کے ہاں اولاد کی امید بندھی تو ہمیں لگا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا،مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔

اس پریگننسی کے دوران جب جب بیٹی کو چیک اپ کیلئے کلینک جانا ہوتا تھا تو وہ لاپرواہی برتتا تھا،اسی دوران بیٹی کے سسر کا انتقال بھی ہوگیا تھا ،اس لئے ہم نے بھی ان کے گھر والوں سے دوبارہ کوئی شکایت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

بالآخر بیٹی کے ہاں ایک بچی کی ولادت ہوئی، اس ولادت سے بیس دن پہلے اس کے سسرال والوں نے بیٹی کو ہمارے گھر یہ کہہ کر بھیج دیا کہ ہمیں بچے کی ولادت کے معاملات کا کوئی علم نہیں ہے، گوکہ ولادت کا خرچہ داماد نے ہی اٹھایا مگر اس کا رویہ جوں کا توں رہا، بیٹی اپنی بچی کی ولادت کے ایک ماہ بعد سسرال واپس گئی، اس دوران داماد اپنی بچی اور بیوی سے ملنے صرف ایک یا دو مرتبہ ہی آیا،وہ بھی ہمارے انتہائی اصرار کے بعد۔

جب بیٹی واپس گئی تو ایک بار پھر داماد کی وہی روٹین شروع ہوگئی،بالاخر ایک دن جب داماد سو رہا تھااور میری بیٹی اپنی بچی کو فیڈ کروا رہی تھی تب داماد کے موبائل پر اس کے کسی دوست کا میسج آیا، اسکرین پر میسج کا نوٹیفکیشن چمکا تو بیٹی کی نظر اس پر پڑی جس سے پتہ چلتا تھا کہ موبائل میں نام تو کسی لڑکے کا ہے، مگر درحقیقت یہ بیہودہ اور بےتکلفی والا میسج کسی لڑکی کا تھا،بیٹی نے شوہر پر کبھی شک نہیں کیا تھا، مگر اس میسج کو دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی اور جب اس نے میسج کھولا تو اسے پتہ چلا کہ یہ اسی لڑکی (مریم) کا میسج ہے جس نے نکاح سے ایک دن پہلے ہم گھروالوں کو میسج کئے تھے۔

مزید تکلیف دہ بات یہ تھی کہ یہ ایک میسج نہیں تھا، بلکہ موبائل میں اس لڑکی کی دو تین سال تک کی چیٹ محفوظ تھی،جسے پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوتا تھا کہ ان دونوں کا تعلق کبھی بھی ختم نہیں ہوا تھا،ان کی چیٹ سے ظاہر ہوتا تھا جیسے ان میں (میاں بیوی جیسا) حد سے زیادہ بےتکلف رشتہ موجود ہو، ان میسجز میں داماد نے اس لڑکی کو یقین دلایا تھا کہ وہ روحاب (یعنی میری بیٹی) سے زیادہ بات نہیں کرتا اور نوزائیدہ بچی کے حوالے سے اس لڑکی کے شکوے کے جواب میں یہ بھی لکھا کہ "اولاد پیدا کرنا تو میری مجبوری تھی، ورنہ میں تو اس کی جانب دیکھتا تک نہیں ،بالکل سیدھا سوتا ہوں"

بیٹی نے یہ میسجز پڑھ کر بےبسی سے رونا شروع کردیا اور داماد کو جگا کر اس سے بازپرس کی اور کہا کہ آپ اب تک جھوٹ بولتے رہے ہیں۔ مجھے ابھی اپنے گھر جانا ہے اگر آپ مجھے چھوڑ کر نہیں آئیں گے تو میں خود ابا جان کو بلالوں گی۔

داماد یہ راز کھل جانے پر گھبرا گیا اور بولا کہ اپنے ابا کو مت بلائیں میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس لڑکی سے تعلق ختم کرلوں گا،بیٹی نے اپنا گھر بچانے کی خاطر اس کے وعدے پر اعتبار تو کرلیا، مگر داماد کو کہا کہ آپ کے کہنے پر میں اپنے ابا کو کچھ نہیں بتاؤں گی،لیکن آپ اسی وقت اپنے بڑے بھائی کے سامنے جا کر یہ اعتراف کریں کہ آپ نے اس لڑکی سے تعلق ختم نہیں کیا تھا، کیونکہ میں جب بھی ان سے آپ کے رویہ کی شکایت کرتی تھی تو وہ آپ کی بجائے میرے گھر والوں کو موردالزام ٹھہراتے تھے اور یہی کہتے آئے ہیں کہ تمہارے والدین تمہارے دل میں شکوک ڈال کر تمہارا گھر خراب کر رہے ہیں، لیکن انہیں نہیں معلوم کہ اپنا گھر تو آپ خود برباد کر رہے ہیں۔

داماد نے غلطی تسلیم کرنے کیلئے فوراً ہامی بھرلی اور اپنے بڑے بھائی کے سامنے جاکر اپنی غلطی کا اعتراف بھی کرلیا،مگر حیرت انگیز طور پر ان کے بڑے بھائی نے بہت ہلکا ردعمل دیا اور میری بیٹی کو بس اتنا ہی کہا کہ تم فکر نہ کرو ہم اس لڑکی سے نمٹ لیں گے۔

جس پر بیٹی نے کہا دو طرفہ تعلق ختم کرنے کیلئے کوئی ایک شخص بھی پیچھے ہٹ جائے تو تعلق ختم ہوجاتا ہے اور یہ مجھ سے وعدہ کرچکے ہیں، اس لئے مجھے امید ہے کہ اس لڑکی سے نمٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، لہذابیٹی کی اس بات پر اس وقت بات آئی گئی ہوگئی۔

مگر داماد کا یہ وعدہ دو دن بھی قائم نہ رہا، داماد نے اسی لڑکی کا نام اور نمبر ڈیلیٹ کرنے کی بجائے اس بار ایک دوسرے مردانہ نام سے محفوظ کرلیا تھا،وہ نہ صرف اس لڑکی سے رابطے میں تھا ،بلکہ میری بیٹی کو مسلسل دھوکہ بھی دے رہا تھا۔

بالآخر بیٹی نے اس کے مسلسل دھوکوں سے دکھی ہوکر مجھے یہ ساری باتیں بتادیں،جس پر مجھے دکھ بھی ہوا اور غصہ بھی آیا، مگر میں نے اس خوف سے کہ کہیں بیٹی کا گھر برباد نہ ہوجائے،خوب ٹھنڈے دل سے سوچ سمجھ کر اپنے داماد کو سمجھانے کیلئے اسے ایک ریسٹورنٹ پر بلایا اور اسے پیار سے سمجھایا کہ تم چار بہنوں والے گھر سے تعلق رکھتے ہواور اب تو تمہاری ایک بیٹی بھی ہے، ذرا اس دن سے ڈرو کہ اگر تمہارا داماد بھی تمہاری بیٹی کی بجائے کسی اور سے تعلق قائم رکھے گا تو تمہیں کیسا لگے گا؟

میری ان باتوں پر داماد تھوڑا بہت شرمندہ ہوا اور مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ اس لڑکی سے ہمیشہ کیلئے رابطہ ختم کردے گا، یہ تیسرا وعدہ تھا جو اس نے کیا، مگر اس پر بھی وہ قائم نہیں رہا،بیٹی نے تنگ آکر اس بار اسے خود کہہ دیا کہ آپ اس لڑکی سے نکاح کرلیں، مگر اس طرح ناجائز طریقے سے چھپ چھپ کر نہ ملیں۔

مگر وہ صاف مکر گیا اور کہا کہ میں اس لڑکی سے اب بالکل نہیں ملتا،حالانکہ اس دن کے بعد سے بیٹی نے اس کے موبائل پر نظر رکھی ہوئی تھی،جہاں اس نے اس لڑکی کا نمبر مردانہ نام سے محفوظ کر رکھا رکھا تھا۔ 

ڈیڑھ سال تک بار بار جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے سے بیٹی کا صبر جواب دے گیا، اس نے عید الفطر 2023 والے دن مجھے فون کیا اور کہا کہ مجھے لینے آجائیں، اب اس گھر میں میرا دم گھٹنے لگا ہے۔ (کیونکہ اس دن بھی وہ مسلسل اس لڑکی سے میسج پر بات کر رہا تھا اور اس سے کہا تھا کہ جب روحاب (میری بیٹی) اپنے گھر چلی جائے گی تو میں تمہیں ویڈیو کال کرونگا) بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ گھر کا کوئی اور فرد بھی میرے ساتھ نہیں ہے، گھر والوں کو بس وقت پر کھانا اور صفائی چاہئے،  یہ سب بہن بھائی، اپنے بھائی کو اس کی غلطی کے اعتراف کے باوجود بالکل بےقصور سمجھتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ  بیٹی کو سسرال میں اس کی بڑی نند نے شادی کے محض دوسرے دن سے ہی کچن اور گھر کی تمام ذمہ داریاں سونپ دی تھیں،جسے الحمدللہ میری بیٹی نے خندہ پیشانی سے قبول کیا تھا، حالانکہ یہ ذمہ داریاں اتنی زیادہ تھیں کہ نند اسے وقت پر نماز پڑھنے کی اجازت بھی اکثر اوقات نہیں دیتی تھیں، بس یہی کہتی تھیں کہ بعد میں پڑھ لینا۔

جبکہ ان کے اس تکلیف دہ رویئے کی شکایت بیٹی نے ہمارے سامنے کبھی بھی نہیں کی تھی، البتہ جب میں عید الفطر 2023 والے دن اسے مستقل گھر لے کر آگیا، تب اس نے سسرال میں اپنے آپ کے ساتھ روا رکھے جانے والے تمام رویوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً بتایا۔ 

جب میں اسے گھر لایا تب تک میری بیٹی کی صحت بہت زیادہ گر چکی تھی، اس کی آنکھوں کے گرد حلقے پڑ چکے تھے۔ شوہر اور سسرال کے رویئے کی وجہ سے وہ اندر ہی اندر گھل رہی تھی۔ اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی۔ (اگر آپ چاہیں گے تو میں اس کی سسرال والے دنوں کی تصاویر بھی مہیا کردوں گا)

محترم! کوئی باپ نہیں چاہتا کہ اس کی بیٹی کا گھر اجڑ جائے، مگر اتنے جسمانی اور ذہنی مظالم کے باوجود اگر میں اپنی بیٹی کو سسرال میں ہی رہنے پر ہی مجبور کرتا تو یہ اس پر مزید ظلم کہلاتا، اس لئے میں نے باپ کا فرض نبھایا اور اسے وہاں سے لے آیا، اس وقت میری نواسی کی عمر محض ڈھائی ماہ تھی۔

جبکہ اب وہ ڈھائی سال کی ہوچکی ہے،اس عرصے میں داماد نے کبھی بھی خود سے رابطہ نہیں کیا اور نا ہی اپنی بچی اور بیوی کے نان نفقے یا خرچے کی کوئی بات کی، البتہ ہم نے اس سے تقاضابھی نہیں کیا، کیونکہ اس ساری ناراضگی میں بات پیسے کی نہیں، بلکہ توجہ، عزت نفس اور پرخلوص محبت کی تھی، جو میری بیٹی کو اس کے شوہر یا سسرال کی جانب سے کبھی نہیں ملی۔

ابتداء میں میرے بڑے بھائی نے ایک بار پھر مصالحت کی کوشش کی، مگر داماد کے بڑے بھائی نے انتہائی نخوت سے میرے بھائی کو کہا کہ "آپ اس مسئلے میں کچھ نہیں بولیں۔ یہ دونوں میاں بیوی اپنا مسئلہ خود حل کرلیں گے" ،جبکہ میں نے اپنی بیٹی کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ شوہر کے ساتھ واپس جانے یا نا جانے کا فیصلہ آپ کی مرضی کے مطابق ہوگا، میں آپ کے فیصلے کا ساتھ دوں گا۔ اور آپ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالوں گا۔

میں نے یہ بات اسلئے کی کہ میری بیٹی نے اپنا گھر بچانے کیلئے ڈیڑھ سال تک بھرپور کوششیں کی تھیں، سسرال کی خاطر اپنے آپ کو مٹی کرلیا تھا،بچی کے پہلی سالگرہ کے دو دن بعد داماد کی ایک شادی شدہ بہن اور بہنوئی بچی پر حق جتانے کی نیت سے اس کا تحفہ لے کر ہمارے گھر آئے، ہم نے دونوں میاں بیوی کو گھر بٹھایا اور باتوں باتوں میں ان سے داماد کے نہ آنے کا شکوہ کیا تو اس کی بہن نے کہا کہ وہ تو خیر اس گھر میں کبھی نہیں آئے گا۔

جس پر میری بیوی نے کہا کہ اگر باپ کو اپنی  بچی کا خیال نہیں تو پھر آپ خود کس رشتے سے یہاں آئی ہیں،جس پر داماد کی بہن نے خوب واویلا کیا اور الٹا ہمیں ہی قصوروار گردانتے ہوئے اپنے شوہر کے ساتھ واپس چلی گئی۔

محترم! اتنے ناقابل برداشت حالات میں ہم تو پچھلے سال ہی خلع کا کیس کرنا چاہتے تھے، مگر ہمیں پتہ چلا کہ داماد کا نام اپنے ادارے کی جانب سے حج کیلئے نامزد ہوا ہے،چونکہ ہم سب گھر والوں نے دو سال تک مسلسل داماد کی ہدایت کی دعائیں مانگی تھیں، یہاں تک کہ اپنے آپ کیلئے بھی یہی دعا مانگی تھی کہ اگر ہم غلط ہیں تو اللہ کریم ہمارے دل بھی صحیح سمت میں پھیر دے۔

اسلئے اس کے سفر حج کا سن کر ہم نے خلع کے کیس کا ارادہ روک دیا،خیال تھا کہ حج کا سفر اس کے اندر مثبت تبدیلی لائے گا، اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگا، مگر اس کے رویئے میں حج کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

بالآخر مجبور ہو کر ہم نے خلع کا کیس دائر کردیا، عدالت کی جانب سے کئی تاریخیں ملیں، مگر میرا داماد صرف ایک بار عدالت میں آیا اور جج سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ بچی کو ماں اور باپ دونوں کا پیار ملتا رہے اور یہ کہ علیحدہ گھر کے علاوہ ان کی کوئی شرط ہے تو بتادیں میں اسے پورا کردوں گا، گھر میں اوپر کا پورشن خالی ہے، یہ چاہیں تو یہ اپنا کھانا پکانا الگ بھی کر سکتی ہیں۔

بیٹی نے جج کے سامنے داماد سے کہا میری اس طرح کی کوئی شرط نہیں ہے، مجھے الگ گھر کی خواہش نہ پہلے تھی نہ اب ہے، بس آپ اپنی بچی کو ایک بار گود میں لے کر پیار کرلیں،میں اپنی بچی کے مستقبل کی خاطر آپ کے ساتھ اسی گھر میں چلی جاؤں گی۔

معزز عدالت نے داماد کو تین ہفتے کا وقت دیا اور کہا کہ سارے معاملے میں تمہاری بےرغبتی کی وجہ سے تمہارا قصور بہت زیادہ ہے، اس لئے اب بچی کو گود میں لے کر معاملہ مصالحت کی جانب لے جانا تمہاری ذمہ داری ہے اور یہ بھی کہا کہ یہ تو بہت چھوٹی سی شرط ہے جسے تم باآسانی پورا کرلو گے اور اس کے ساتھ ہی داماد کو وارننگ بھی دی کہ اگر ان تین ہفتوں میں تم کوئی مخلصانہ کوشش کرنے میں ناکام ہوئے تو میں تمہیں اگلی پیشی پر ہی ان کا خلع گرانٹ کردوں گا۔

داماد نے جج سے وعدہ کیا کہ آپ کو شکایت نہیں ہوگی، میں بچی کو گود میں لے لوں گا،مگر حسب عادت داماد نے بےرغبتی کا مظاہرہ کیا اور ان تین ہفتوں میں بھی نہیں آیا، حالانکہ بیٹی نے اسے بچی کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بھجوائیں تھیں، تاکہ اس کے دل میں اپنی اولاد کو دیکھ کر کچھ پیار آجائے، عدالت کی جانب سے ملنے والے تین ہفتوں کے بعد عدالت نے دو مرتبہ مزید تاریخ بھی دی، مگر یہ تاریخیں کبھی ہڑتال اور کبھی جج کی غیر حاضری کی وجہ سے منسوخ ہوتی رہیں، ان منسوخ ہونے والی تاریخوں کے درمیان بھی داماد کے پاس مصالحت کیلئے بہترین وقت تھا، مگر اس دوران داماد نہ تو دوبارہ عدالت میں حاضر ہوا اور نہ ہی میری بیٹی سے فون پر کوئی رابطہ کیا اور نہ اس کے کسی میسج کا جواب دیا ،حالانکہ اسے مصالحت کے مزید آٹھ ہفتے بھی میسر ہوگئے تھے، اس دوران عید الفطر جیسا سنہرا موقع بھی آیا۔

داماد نے عدالت میں اپنی واحد پیشی میں یہ جملہ کہا تو تھا کہ میں اس رشتے کو ختم نہیں کرنا چاہتا، مگر اس نے اس رشتے کو قائم رکھنے کیلئے کوئی سنجیدہ یا مخلصانہ کوشش بھی نہیں کی، حتی کہ خلع گرانٹ ہونے سے دو دن پہلے داماد نے بیٹی کو میسج کیا کہ کیا آپ بچی کو لے کر اپنے گھر سے باہر کہیں اور لا سکتی ہیں؟ جس پر بیٹی نے فوراً ہامی بھرلی اور کہا کہ ہاں میں لے آؤں گی، آپ مجھے بتادیں کہ کہاں آنا ہوگا؟

جس پر داماد نے کہا کہ میں کل تک بتادوں گا۔ ہم کسی پارک وغیرہ میں مل لیں گے،مگر یہ کہنے کے بعد بھی داماد نے کوئی رابطہ نہیں کیا، اس کی اس حرکت سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوگیا کہ اس نے یہ رابطہ صرف اس لئے کیا تھا کہ وہ عدالت میں ان مسیجز کے ذریعے محض یہ ثابت کرسکے کہ معاملات مصالحت کی جانب جارہے ہیں،اس طرح عدلیہ مزید تاریخ دے دیگی اور یوں یہ کیس بغیر کسی فیصلے کے مزید لٹک جائے گا۔

ہم نے یہ بات اپنے تجربہ کار وکیل کو بتائی تو اس کا بھی یہی کہنا تھا ایسے کیسز میں بیوی کو مزید بیزار اور تنگ کرنے کیلئے اکثر مرد حضرات تاخیری حربے آزماتے ہیں ،تاکہ عورت کہیں اور نکاح نہ کرسکے،یونہی عدالت میں زیادہ سے زیادہ خوار ہوتی رہے۔

دس مئی 2025 کو جج نے عدالت لگائی تو اس دن بھی حسب توقع داماد موجود نہیں تھا، جبکہ عدالت میں اس کا وکیل بھی اس کی جانب سے یہ لکھوا کر غائب ہوگیا کہ معاملات مصالحت کی جانب جارہے ہیں، داماد اور وکیل کا یہ رویہ دیکھتے ہوئے معزز عدالت نے بیٹی کا خلع گرانٹ کردیا۔

مذکورہ بالا تمہید کے تناظر میں میرا سوال ہے کہ کیا عدالت کا یہ فیصلہ شرعی طور پر بھی درست ہے؟ کیا اس فیصلے سے نکاح ختم ہوگیا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر کا کسی دوسری لڑکی سے ناجائز تعلق ازدواجی زندگی کی تباہی کا سبب ہے،جس کے نتیجے میں بیوی  کے حقوق اور ذمہ داریوں میں کوتاہی یقینی ہے،علاوہ ازیں بچوں پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں،اس لئے مالکیہ کے مذہب کے مطابق فسخ نکاح کی گنجائش ہے۔

لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں عدالت نے عورت سے اس کے دعوی پر گواہ طلب نہیں کیے، اس لیےمالکیہ کے مذہب کے مطابق بھی شرعا عدالت کا یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوا اور لڑکی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں ہے،جب تک سابقہ نکاح ختم نہیں ہوجاتا تب تک یہ عورت کسی اور جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔

چنانچہ اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے تو سب سے پہلے تو لڑکے کے خاندان کے بڑوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لڑکے کو سمجھانے کی سنجید ہ کوشش کریں کہ وہ دوسری لڑکی سے ناجائز تعلق سے باز آجائے اور اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ سچی محبت کرے اور ان کے حقوق اور ذمہ داریاں اداکرکے اس رشتے کو نبھائے،لیکن اگر لڑکے کے خاندان کے ذمہ دار افراد اس کے لئے کسی سنجیدہ کوشش پر آمادہ نہیں ہوتے  ،یا سمجھانے کے باوجود لڑکا باز نہیں آتااور نباہ کا کوئی امکان نہ رہے تو پھرنکاح کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ کسی مناسب طریقے سے کوشش کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر وہ بغیر عوض کے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو کسی عوض مثلا مہر وغیرہ کے بدلے اس سے خلع لینے کی کوشش کرلی جائے،اگرچہ شوہر کے قصوروار ہونے کی صورت میں اس کے لئےخلع کے بدلے کوئی عوض لینا جائز نہیں۔

لیکن  اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ خلع پراور نہ ہی دوسری لڑکی سے ناجائز تعلق سے باز آکر بیوی کے حقوق کی رعایت رکھتے ہوئے اسے ساتھ رکھنے کے لئے تیار ہو اور لڑکی کے لئے شوہر کے ساتھ رہنا  شدید ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا باعث ہو،جو بالآخر کئی دماغی اور جسمانی امراض کا سبب بنتا ہےتو پھر آپ لوگ دوبارہ عدالت سے رجوع کریں اور خلع کا مدار اس پر رکھیں کہ شوہر کا کسی دوسری لڑکی سے ناجائز تعلق ہے،جس کی وجہ سے وہ بیوی اور بچی کے حقوق کی ادائیگی میں سنگین کوتاہی کا مرتکب ہورہا ہے،جو بیوی کے لئے شدیدتکلیف کا باعث ہے اور اس لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلق کے ہوتے ہوئے بیوی کے لئے شوہر کے ساتھ رہنا اور ازدواجی رشتے کو نباہنا ممکن  نہیں اور اپنی بات ثابت کرنے کے لیے اپنے دعوی کے ساتھ دو گواہ بھی پیش کریں ،موبائل کا ڈیٹا ریکارڈ اور دیگر ثبوت بھی گواہ کی جگہ کارآمد ہےاور جج سے درخواست کریں کہ وہ ان کی گواہی سن لے یا اسٹام پیپر پر ان کی تحریری گواہی جج کے سامنے پیش کریں،جب دو گواہوں کی گواہی کے ساتھ عورت کا دعوی صحیح ثابت ہوجائے تو پھر عدالت شوہر کو سمن بھجواکر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم نامہ جاری کرے،جب شوہر عدالت آجائے تو اس سے بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کرے،اگر و ہ طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو یا عدالت آئے ہی نہیں تو اس کے بعد قاضی کو بغیر کسی مہلت کے فوری طور پر نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا ، اس کے بعد لڑکی عدت گزارے گی،عدت گزرنے کے بعد اسے کسی اور سے نکاح کا حق حاصل ہوگا۔

اور اگر دوبارہ عدالت سے رجوع میں مشکل ہو تو اپنے علاقے کی پنچائیت میں اس معاملے کو لے جائیں اور اس کے سامنے اپنی بات کو گواہوں سے ثابت کردیں،اس کے بعد پنچائیت کو مذکورہ بالا طریقہ کار کے مطابق عورت کے نکاح کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

تنبیہ: اگر پنچائیت سے فیصلہ کرایا جائے تو اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ پنچائیت کم از کم تین ایسے ارکان پر مشتمل ہو جو سب علماء ہوں،اگر سب علماء میسر نہ ہوسکیں توان میں سے کم از کم  ایک کا ایسا مستند عالم دین ہونا ضروری ہے جو شہادت اور قضاء کے احکام سے بخوبی واقف ہو ،جبکہ بقیہ ارکان بھی نیک وصالح ہوں ،نیز فسخِ نکاح کا فیصلہ پنچائیت کے تمام ارکان کے اتفاقِ رائے سے ہو،کسی کا اختلاف نہ ہو۔

شوہر کا کسی دوسری لڑکی سے ناجائز تعلق ازدواجی زندگی کی تباہی کا سبب ہے،جس کے نتیجے میں بیوی  کے حقوق اور ذمہ داریوں میں کوتاہی یقینی ہے،علاوہ ازیں بچوں پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں،اس لئے مالکیہ کے مذہب کے مطابق فسخ نکاح کی گنجائش ہے۔

لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں عدالت نے عورت سے اس کے دعوی پر گواہ طلب نہیں کیے، اس لیےمالکیہ کے مذہب کے مطابق بھی شرعا عدالت کا یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوا اور لڑکی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں ہے،جب تک سابقہ نکاح ختم نہیں ہوجاتا تب تک یہ عورت کسی اور جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔

چنانچہ اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیل حقیقت پر مبنی ہے تو سب سے پہلے تو لڑکے کے خاندان کے بڑوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لڑکے کو سمجھانے کی سنجید ہ کوشش کریں کہ وہ دوسری لڑکی سے ناجائز تعلق سے باز آجائے اور اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ سچی محبت کرے اور ان کے حقوق اور ذمہ داریاں اداکرکے اس رشتے کو نبھائے،لیکن اگر لڑکے کے خاندان کے ذمہ دار افراد اس کے لئے کسی سنجیدہ کوشش پر آمادہ نہیں ہوتے  ،یا سمجھانے کے باوجود لڑکا باز نہیں آتااور نباہ کا کوئی امکان نہ رہے تو پھرنکاح کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ کسی مناسب طریقے سے کوشش کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر وہ بغیر عوض کے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو کسی عوض مثلا مہر وغیرہ کے بدلے اس سے خلع لینے کی کوشش کرلی جائے،اگرچہ شوہر کے قصوروار ہونے کی صورت میں اس کے لئےخلع کے بدلے کوئی عوض لینا جائز نہیں۔

لیکن  اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ خلع پراور نہ ہی دوسری لڑکی سے ناجائز تعلق سے باز آکر بیوی کے حقوق کی رعایت رکھتے ہوئے اسے ساتھ رکھنے کے لئے تیار ہو اور لڑکی کے لئے شوہر کے ساتھ رہنا  شدید ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا باعث ہو،جو بالآخر کئی دماغی اور جسمانی امراض کا سبب بنتا ہےتو پھر آپ لوگ دوبارہ عدالت سے رجوع کریں اور خلع کا مدار اس پر رکھیں کہ شوہر کا کسی دوسری لڑکی سے ناجائز تعلق ہے،جس کی وجہ سے وہ بیوی اور بچی کے حقوق کی ادائیگی میں سنگین کوتاہی کا مرتکب ہورہا ہے،جو بیوی کے لئے شدیدتکلیف کا باعث ہے اور اس لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلق کے ہوتے ہوئے بیوی کے لئے شوہر کے ساتھ رہنا اور ازدواجی رشتے کو نباہنا ممکن  نہیں اور اپنی بات ثابت کرنے کے لیے اپنے دعوی کے ساتھ دو گواہ بھی پیش کریں ،موبائل کا ڈیٹا ریکارڈ اور دیگر ثبوت بھی گواہ کی جگہ کارآمد ہےاور جج سے درخواست کریں کہ وہ ان کی گواہی سن لے یا اسٹام پیپر پر ان کی تحریری گواہی جج کے سامنے پیش کریں،جب دو گواہوں کی گواہی کے ساتھ عورت کا دعوی صحیح ثابت ہوجائے تو پھر عدالت شوہر کو سمن بھجواکر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم نامہ جاری کرے،جب شوہر عدالت آجائے تو اس سے بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کرے،اگر و ہ طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو یا عدالت آئے ہی نہیں تو اس کے بعد قاضی کو بغیر کسی مہلت کے فوری طور پر نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا ، اس کے بعد لڑکی عدت گزارے گی،عدت گزرنے کے بعد اسے کسی اور سے نکاح کا حق حاصل ہوگا۔

اور اگر دوبارہ عدالت سے رجوع میں مشکل ہو تو اپنے علاقے کی پنچائیت میں اس معاملے کو لے جائیں اور اس کے سامنے اپنی بات کو گواہوں سے ثابت کردیں،اس کے بعد پنچائیت کو مذکورہ بالا طریقہ کار کے مطابق عورت کے نکاح کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

تنبیہ: اگر پنچائیت سے فیصلہ کرایا جائے تو اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ پنچائیت کم از کم تین ایسے ارکان پر مشتمل ہو جو سب علماء ہوں،اگر سب علماء میسر نہ ہوسکیں توان میں سے کم از کم  ایک کا ایسا مستند عالم دین ہونا ضروری ہے جو شہادت اور قضاء کے احکام سے بخوبی واقف ہو ،جبکہ بقیہ ارکان بھی نیک وصالح ہوں ،نیز فسخِ نکاح کا فیصلہ پنچائیت کے تمام ارکان کے اتفاقِ رائے سے ہو،کسی کا اختلاف نہ ہو۔

حوالہ جات

"مواهب الجليل في شرح مختصر خليل" (4/ 17):

" (ولها التطليق بالضرر)

ش: قال ابن فرحون في شرح ابن الحاجب: من الضرر قطع كلامه عنها وتحويل وجهه في الفراش عنها وإيثار امرأة عليها وضربها ضربا مؤلما وليس من الضرر منعها من الحمام والنزاهة وتأديبها على ترك الصلاة ولا فعل التسري، انتهى.

وقد تقدم الاختلاف فيمن يوقع هذا الطلاق هل الحاكم أو الزوجة في فصل العيوب؟ وكذلك إن أوقع أكثر من واحدة، وﷲ أعلم. وسيأتي عند قول المصنف في باب الخلع ورد المال بشهادة سماع على الضرر الكلام على شهادة السماع بالضرر".

"مواهب الجليل في شرح مختصر خليل "(3/ 489):

"وفي أحكام ابن سهل اختلاف بين الشيوخ في هذه المسألة ومافي معناھا من امرأة المولى والمعتقة تحت العبد وغير ذلك، هل تكون المرأة هي الموقعة للطلاق أو السلطان؟ اهـ.

وقال في التوضيح في باب المعسر بالنفقة: واختلف هل الحاكم الذي يطلق كما هو ظاهر كلامه يعني ابن الحاجب ابن عبد السلام وهو الصحيح، أو يبيح للمرأة الإيقاع على قولين اهـ. ونقل ابن عرفة عن المتيطي تشهير القول بأن الإمام هو الذي يوقع الطلاق ونصه المتيطي في كون الطلاق بالعيب للإمام يوقعه أو يفوضه إليها قولان للمشهور وابن زيد عن ابن القاسم اهـ.

 ونقل ابن سهل في باب الطلاق أن ابن عات أفتى أن المرأة هي التي توقع الطلاق ورجحه ابن مالك ورجحه ابن سهل أيضا وقال ابن فرحون في التبصرة في القسم الثالث من الفصل الأول من الركن السادس في كيفية القضاء:والقسم الأول لا بد فيه من حكم الحاكم وهو ما يحتاج إلى نظر وتحرير وبذل جهد في تحرير سببه وذلك كالطلاق بالإعسار والطلاق بالإضرار والطلاق على المولى؛ لأنه يفتقر إلى تحقيق الإعسار، وهل هو ممن يلزمه الطلاق بعد النفقة أم لا؟ كما إذا تزوجت فقيرا، علمت بفقره فإنها لا تطلق بالإعسار بالنفقة وكذلك تحقيق صورة الإضرار.

 وكذلك يمين المولى هل لعذر أو لا؟ كمن حلف أن لا يطأها وهي مرضع خوفا على ولده فينظر فيما ادعاه فإن كان مقصوده الإضرار ،طلقت عليه وإن كان لمصلحة لم تطلق عليه، وكذلك التطليق على الغائب والمعترض ونحوهما.

(تنبيه) إذا تقرر أن هذه المسائل وما أشبهها لا بد فيها من حكم الحاكم فهل صدور الطلاق فيها صادر عن الحاكم أو عن الزوجة أو بعضه عن الزوجة وبعضه عن الحاكم؟

 اختلف في هذه المسألة فحكى ابن سهل فيها: أن القاضي أبا محمد بن سراج أجاب فيها أن الطلاق للرجل إلا ما وقع فيه تخيير أو تمليك ،ثم ذكر أن ابن عات أجاب بخلاف جوابه وأطال الكلام في ذلك ثم قال في آخر كلامه: وجملة القول أن الحق إذا كان للمرأة خالصا فإنفاذ الطلاق إليها مع إباحة الحاكم لها ذلك كما جاء في حديث بريرة ونسبة الطلاق إلى القاضي لكونه ينفذه ويحكم به كما يقال: فرق الحاكم بينهما وكما يقال: قطع الأمير السارق ورجم وجلد وهو لم يفعل وإنما أمر به، فما جاء من تفريق السلطان فهو من هذا المعنى اهـ. كلام ابن فرحون وما أفتى به ابن عات تقدم أن ابن مالك رجحه وكذلك ابن سهل.

(فرع) قال ابن عبد السلام عن أصبغ: وأرى في الإمام إن طلق في الإيلاء والنفقة والإضرار والجنون والجذام بأكثر من واحدة لا يلزم منه إلا واحدة اهـ. ونقله في التوضيح.

(تنبيه) سيأتي في كلام المصنف في آخر طلاق السنة أنه لا يطلق على من به عيب في الحيض والنفاس، حتى تطهر المرأة وسيأتي في شرحه حكم ما إذا وقع الطلاق فيها " وﷲ أعلم".

"شرح مختصر خليل للخرشي" (4/ 9):

"(ص) ولها التطليق بالضرر ولو لم تشهد البينة بتكرره (ش) يعني أنه إذا ثبت بالبينة عند القاضي أن الزوج يضارر زوجته وهي في عصمته ولو كان الضرر مرة واحدة فالمشهور أنه يثبت للزوجة الخيار فإن شاءت أقامت على هذه الحالة وإن شاءت طلقت نفسها بطلقة واحدة بائنة لخبر «لا ضرر ولا ضرار» فلو أوقعت أكثر من واحدة فإن الزائد على الواحدة لا يلزم الزوج.

 ومن الضرر قطع كلامه عنها، وتحويل وجهه عنها، وضربها ضربا مؤلما لا منعها الحمام أو تأديبها على الصلاة والتسري، والتزوج عليها وكلام المؤلف إذا أرادت الفراق فلا ينافي قوله وبتعديه زجره الحاكم؛ لأن ذلك إذا أرادت البقاء وظاهر قوله :"ولها إلخ" أنه يجري في غير البالغين ثم إنه يجري هنا هل يطلق الحاكم أو يأمرها به ثم يحكم به، قولان".

"الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي" (2/ 345):

(ولها) أي للزوجة (التطليق) على الزوج (بالضرر) وهو ما لا يجوز شرعا كهجرها بلا موجب شرعي وضربها كذلك وسبها وسب أبيها، نحو يا بنت الكلب! يا بنت الكافر! يا بنت الملعون !كما يقع كثيرا من رعاع الناس ويؤدب على ذلك زيادة على التطليق كما هو ظاهر وكوطئها في دبرها لا بمنعها من حمام وفرجة وتأديبها على ترك صلاة أو تسر أو تزوج عليها ومتى شهدت بينة بأصل الضرر فلها اختيار الفراق (ولو لم تشهد البينة بتكرره) أي الضرر أي ولها اختيار البقاء معه ويزجره الحاكم ولو سفيهة أو صغيرة ولا كلام لوليها في ذلك فقوله آنفا وبتعديه زجره الحاكم فيما إذا اختارت البقاء معه ويجري هنا هل يطلق الحاكم أو يأمرها به ثم يحكم ،قولان".

"الفواكه الدواني "(2/ 41):

"(تنبيهات) الأول: لم ينص المصنف على من ترفع له زوجة المفقود، وقد ذكرنا عن خليل أنه القاضي أو الوالي أو جماعة المسلمين، ولكن عند وجود الثلاثة لا ترفع إلا للقاضي لا لغيره، فإن رفعت لغيره مع التمكن من الرفع له حرم عليها ذلك، وإن مضى ما فعله إن كان هو الوالي أو والي الماء لا جماعة المسلمين، هذا ما يظهر من كلام ابن عرفة كما قاله الأجهوري، وأما لو رفعت لجماعة المسلمين مع وجود الوالي أو والي الماء فالظاهر مضي فعلهم.

وفي السنهوري وتبعه اللقاني أن ظاهر كلام خليل أن الثلاث في مرتبة واحدة وهو كذلك إلا أن القاضي أضبط، ووجود القاضي أو غيره مما ذكر مع كونه يجوز أو يأخذ المال الكثير بمنزلة عدمه فترفع لجماعة المسلمين".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

08/ربیع الاول1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب