03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے کاغذ پر خلع کا کاغذ سمجھ کر دستخط کرنا
88535طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میری شادی کے بعد میری بیوی کے ساتھ کچھ اختلافات پیدا ہوگئے۔ وقت کے ساتھ یہ اختلافات بڑھتے گئے، یہاں تک کہ میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ شروع میں میں نے انکار کیا، لیکن بعد میں اس نے کہا کہ اگر آپ مجھے طلاق نہیں دیں گے تو میں خودکشی کر لوں گی۔ یہ سن کر مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ کوئی نقصان نہ کر بیٹھے۔چنانچہ میں نے اس سے کہا کہ کاغذات تیار کر لاؤ۔ جب وہ کاغذات لائی تو اس نے وہ میرے سامنے رکھ دیے۔ میں نے انہیں پڑھا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ کہیں وہ مجھ پر کوئی غلط الزام تو نہیں لگا رہی۔ پھر میں نے یہ سمجھ کر دستخط کر دیے کہ یہ خلع کے کاغذات ہیں، لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ طلاق کے کاغذات تھے، اور اس پر تین طلاقوں کا ذکر ہے ، میں نے نہ طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کیے اور نہ ہی نیت کی، صرف دستخط کیے تھے۔اس کے بعد میں نے بیوی کے گھر والوں سے رابطہ کیا کہ وہ مجھے وہ کاغذات دے دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اب ہم دونوں دوبارہ ایک ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔

تنقیح : سائل نے فون پر بتایا کہ انہوں نے کاغذات صرف اس لیے دیکھے کہ کہیں ان میں ان پر کوئی غلط الزام تو درج نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاغذات میں لکھی ہوئی طلاقوں پر ان کی توجہ ہی نہیں گئی، اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ تو لڑکی والوں کی جانب سے تیار کردہ پیپرز ہیں، اس لیے یقیناً خلع کے ہوں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً آپ کے علم میں نہیں تھا کہ مذکورہ کاغذ پر تین طلاق کے الفاظ لکھے ہیں اور نہ ہی آپ کی طلاق دینے کی نیت تھی، جیساکہ سوال میں آپ نے ذکر کیا ہے تو اس صورت میں آپ کی بیوی پر  دیانتاً تین طلاقیں واقع نہیں ہوئیں، کیونکہ طلاق کے وقوع کےلیے  زبانی یا تحریری طور پر لفظِ طلاق کا صدورہونا ضروری ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں آپ کو طلاق کے الفاظ کا علم نہ ہونے کی وجہ سے آپ کی طرف سے طلاق کا قصد اور ارادہ نہیں پایا گیا، لہذا عورت کو اگر آپ کے حلفیہ بیان پر یقین ہو تو وہ اس کے مطابق عمل کر سکتی ہے۔(اس مسئلے كی بناء در اصل قضاء القاضی بعلمہ ہے، جو کہ متقدمین کے نزدیک غیر حدود میں جائز ہے اور متاخرین نے اگرچہ فسادِ زمانہ کی وجہ سے اس کو ناجائز قرار دیا ہے، اس علت کا اثر صرف غير كے ليے قضاء پر پڑتا ہے، خود اپنی ذات کے لیے حکم معلوم کرنے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا، لہذا اپنے لیے اپنے علم کے مطابق عمل کرنا جائز ہے، کذا فی احسن الفتاوی: ج:5ص:161) تاہم چونکہ آپ نے کاغذ پر خلع کے کاغذات سمجھ کر دستخط کیے ہیں اور خلع بھی طلاق کی ایک قسم ہے، اس لیے مسئولہ صورت میں ایک طلاقِ بائن واقع ہونے کاغالب اندیشہ ہے، جس سے نکاح ختم ہو جاتا ہے، اس لیے آپ نکاح کی تجدید کریں اور آئندہ کے لیے طلاق کے معاملے میں احتیاط کریں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 379)

وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه كذا في المحيط والله أعلم بالصواب.

) فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 5)

وفي الخلاصة أيضا: قالت لزوجها: اقرأ علي اعتدي أنت طالق ثلاثا ففعل طلقت ثلاثا في القضاء لا فيما بينه وبين الله تعالى إذا لم يعلم الزوج ولم ينو، وهذا يوافق ما في المنصوري، ويخالف مقتضى ما ذكره آنفا من مسألة التلقين بالعربية، والذي يظهر من الشرع أن لا يقع بلا قصد لفظ الطلاق عند الله تعالى، وقوله فيمن سبق لسانه واقع: أي في القضاء، وقد يشير إليه قوله ولو كان بالعتاق يدين، بخلاف الهازل لأنه مكابر باللفظ فيستحق التغليظ، وسيذكر في أنت طالق إذا نوى به الطلاق من الوثاق يدين فيما بينه وبين الله تعالى مع أنه أصرح صريح في الباب ثم لم يعارض ذلك قوله ولا يحتاج إلى النية لأن المعنى لا يحتاج إلى النية: يعني اللفظ بعد القصد إلى اللفظ.والحاصل أنه إذا قصد السبب عالما بأنه سبب رتب الشرع حكمه عليه أراده أو لم يرده إلا إن أراد ما يحتمله. وأما أنه إذا لم يقصده أو لم يدر ما هو فيثبت الحكم عليه شرعا وهو غير راض بحكم اللفظ ولا باللفظ فمما ينبو عنه قواعد الشرع، وقد قال تعالى {لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم} [البقرة: 225] وفسر بأمرين: أن يحلف على أمر يظنه كما قال مع أنه قاصد للسبب عالم بحكمه فإلغاؤه لغلطه في ظن المحلوف عليه، والآخر أن يجري على لسانه بلا قصد إلى اليمين كلا والله بلى والله، فرفع حكمه الدنيوي من الكفارة لعدم قصده إليه، فهذا تشريع لعباده أن لا يرتبوا الأحكام على الأسباب التي لم تقصد، وكيف ولا فرق بينه وبين النائم عند العليم الخبير من حيث إنه لا قصد له إلى اللفظ ولا حكمه وإنما لا يصدقه غير العليم وهو القاضي.

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

5ربیع الاول  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب