| 88522 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم! پاکستان میں قائم ہونے والے اسلامی بینکوں کی مارکیٹنگ اور تشہیری سرگرمیوں میں یہ امر مشاہدے میں آیا ہے کہ اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے جو مواد سوشل میڈ یا پر ڈالا جاتا ہے، اس میں خواتین کا استعمال کیا جاتا ہےجس میں شرعی اصولوں کی منافی تصاویر ہوتی ہیں۔ اسی طرح کا مشاہدہ ان بینکوں کے اسٹاف کے حوالے سے بھی دیکھا گیا ہے، جہاں خواتین کا لباس شرعی اصولوں کے منافی ہوتا ہے، جیسا کہ بغیر دوپٹہ یا تنگ اور چست لباس ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر،درج ذیل سوالات پر آپ کی شرعی رہنمائی درکار ہے:
1۔کیا ایسی تشہیری سرگرمیاں، جو کہ خاص طور پر بینکوں کی اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے ہوں اور ان میں خواتین کا استعمال ہو،لباس میں شرعی اصولوں کا خیال نہ رکھا جائے، ان بینکوں کے لیے شرعاً جائز ہیں؟
2۔کیا مندرجہ بالا خرابیوں کی وجہ سے ان اداروں کے لیے خود کو " مکمل اسلامی بینک " کہلانے کا دعویٰ درست ہے، جبکہ ان کی عملی صور تحال اسلامی تعلیمات سے متصادم ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔شریعت کی نظر میں عورت نمائش کی چیز نہیں، یہ اس کے وقار اور عزتِ نفس کے خلاف ہے۔ شریعت نے ایک طرف مردوں کو نگاہیں نیچی کرنے کا حکم دیا ہے تو دوسری طرف خود عورتوں کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مردوں کی نظروں سے چھپانے کا اہتمام کریں، حتی الامکان گھر کی چار دیواری میں رہیں، اگر کسی حاجت کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑے تو اپنا جسم مکمل ڈھانپ کر جائیں، ایسے اسباب اختیار نہ کریں جو لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کا سبب بنتے ہوں، مثلا خوشبو لگانا یا آواز اور جھنکار والے زیورات پہننا، راستوں کے بیچ میں نہ جائیں، بلکہ کنارے پر جائیں۔ اس تفصیل کی روشنی میں مصنوعات (Products) کی تشہیر، کسی مصنوع کا خواتین سے تعلق دکھانے اور اس کے توسط سے گاہک کو راغب کرنے کے لیے عورت سے آن لائن مارکیٹنگ کرانا اور عورت کو اس کے لیے استعمال کرنا شریعت کے اس بنیادی فلسفے اور مزاج سے متصادم اور ناجائز ہے، جس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔
2۔ اسلامی بینکنگ ایک مالیاتی نظام ہے جو شریعت کے اصولوں کے مطابق مالی معاملات کو منظم کرتا ہے، اس کا مقصد عقود جیسے مضاربہ، مشارکہ، مرابحہ وغیرہ کو سود سے پاک اور شرعی اصولوں کے مطابق نافذ کرنا ہے، شریعت نے معاملات کی حلت و حرمت کا دارومدار ان کی نوعیت اور اصولوں پر رکھا ہے،لہٰذا اگر ایک بینک سود سے پاک اور شریعت کے مطابق مالیاتی طریقوں پر کاربند ہے، تو اس کے ساتھ معاملات کیے جاسکتے ہیں، البتہ ظاہری آداب اور اسلامی شعائر کی رعایت کی تلقین و کوشش ضرور کرنی چاہیے اور بینکوں کو بھی ایسے امور سے اجتناب کرناچاہیےجو شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ یا ناجائز ہوں۔
حوالہ جات
القرآن الکریم، [النور[:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ۔۔۔الی آخر الآیة۔
تكملة فتح الملهم(4/225):
إن للحجاب الشرعي المأمور به في الكتاب والسنة ثلاث درجات، بعضها فوق بعض فی الاحتجاب والاستتار، وکلها مذکورة فی الکتاب والسنة، ولم يتسخ منها شيئ، و لكنها مأمورة بها في أحوال مختلفة، وهي :-
1-حجاب أشخاص النساءبالبيوت والجدر، والخدور والهوادج وأمثالها،بحيث لايري الرجال الأجانب شيئاًمن أشخاصهن ولا لباسهن وزينتهن الظاهرة أوالباطنة ،ولا شيئاً من جسدهن من الوجه والكفين وسائر البدن .
2-الحجاب بالبرقع والجلباب،بحيث لا يبدو شيئ من الوجه والكفين ،وسائر الجسد ولباس الزينة ،فلايري إلا أشخاصهن مستورة من فوق الرأس إلي القدم.
3-الحجاب بالجلابيب وأمثالهامع كشف الوجه والكفين والقدمين.
والدرجة الثالثة من الحجاب، هي أن تخرج النساء مستورة الأبدان من الرأس إلي القدم مع كشف الوجه والكفين عند الحاجة بشرط الأمن من الفتنة
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
08/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


