| 88541 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:آپ سے مؤدبانہ عرض ہے کہ میرا ایک مسئلہ ہے جسکا حل میں مجھے دینی پوائنٹ سے جلد مطلوب ہے تحریری جواب چاہیے۔
الحمد الله ہماری جوائنٹ فیملی ہے، ہم زمیں دار ہیں،ہمارے گھر کی ذمہ داری ہمارے دادا پردادا سنبھالتے آئےہیں،ہمارے والد صاحب گھر کے کھانے پینے کی ذمہ داری زمینوں کی آمدنی سے کرتے ہیں، باقی سب اخراجات میں اپنے نوکری کر کے پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں ،لیکن اکثر گھریلو ناچاقیوں کے باعث میں چاہتا ہوں کہ اپنےگھر یعنی بیوی بچوں کے کھانے کا انتظام خودکروں (والد صاحب سے ہٹ کر)میرے والد صاحب اسکی اجازت نہیں دے رہے،جبکہ بہت مجبوری اور گھریلو سکون اور دلوں میں دوریاں نہ بڑھنے کے باعث میں نے یہ فیصلہ لیا ہے،ایسے میں میری اصلاح کے لئے مجھے جواب درکار ہے کہ کیا کرنا چاہیے؟تحریری جواب کے منتظر ہیں کہ بڑوں تک بھی بات پہنچائی جاسکے۔
پھر دوسری بات کہ میری اہلیہ حافظہ قرآن ہیں، حفظ مکمل کرنے کے بعد الحمد اللہ پڑھا رہی ہیں، قرآن کی تعلیم پھیلانے کے لئے کبھی بڑوں نے بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونے دی، جس کے باعث آج الحمد الله اس تدریسی سلسلے کو تقریبا 12 سال ہوگئے ہیں ، تدریس کے لئے جو وقت دیتی ہیں تو ادارہ معاوضہ دیتا ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ جب سے میں نے علیحدگی کی بات کی تو والد صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ میری بہو مدرسے میں تدریس کے لئے نہیں جائے گی،واضح رہے کہ مجھے اہلیہ کے پڑھانے سے کوئی اعتراض نہیں اور حالات کے اعتبارسے ان کے وظیفے سے گھرکےاخراجات میں کچھ کچھ مدد بھی ہو جاتی ہے، 4 بچے ہیں، میں ڈرائیونگ کر تا ہوں،بچوں کی پڑھائی اور کچھ دیگر اخراجات ان کے وظیفے سے ہوتی ہے،یہ سب صرف میری تنخواہ سے پورا ہونا ممکن نہیں۔ایسی صورت حال میں والدصاحب کے اس اعتراض پر کیا کرنا چاہیے ؟
اہلیہ کے گھر بیٹھنے یعنی تدریس سےروکنے سے بچوں کی پڑھائی بھی رک سکتی ہے اور کچھ ضروریات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، برائے کرم ہماری اصلاح کی جائے کہ دین کو عام کرنا تدریس کے ذریعے اگر جائز نہیں تو بنات کے مدارس میں تو صرف خواتین ہوتی ہیں؟تفصیلاجواب سے آگاہ فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں مذکورہ صورت (کہ جوائنٹ فیملی میں ناچاقیوں کی وجہ سےذہنی سکون وغیرہ کےمسائل کی وجہ سےآپ والدصاحب سےالگ ہوکر اپنےاخراجات وغیرہ کا خودانتظام کرنے)میں شرعا کوئی حرج نہیں،البتہ والدصاحب کو راضی کرناشرعاآپ پرلازم ہے،کوشش کریں کہ حکمت ومصلحت کےساتھ والدصاحب کواس پر راضی کرلیں،والدصاحب کو یہ سمجھانےکی ضرورت ہےکہ اصل آپ کی خدمت ہمارے اوپر لازم ہے،الگ ہونےکی صورت میں میں اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہوگی،بلکہ پہلےسےزیادہ آپ کا خیال رکھاجائےگا،مزید یہ بات بھی کی جاسکتی ہےکہ اصل مقصد یہ ہےکہ ہم خوداپنےاخراجات پورےکریں،والدین نےجتنا خرچہ اٹھاناتھا وہ بچپن سےاب تک اٹھالیا،اب گھرکےاخراجات میں خود کرنا چاہتاہوں تاکہ والد پر بوجھ نہ پڑے،اس طرح ان کو اعتماد میں لےکر الگ ہونےمیں شرعاکوئی حرج نہیں ہوگا،بلکہ امید ہےکہ مزیدبہتر تعلقات برقراررہیں گے۔
دوسراسوال کہ والدصاحب آپ کےگھروالوں کو مدرسہ میں پڑھانےسےمنع کررہےہیں تو یہ بات بھی ان کو سمجھانےکی ضرورت ہےکہ شرعااس میں کوئی حر ج نہیں ،بلکہ قرآن کی تعلیم کو عام کرنابہت بڑاثواب ہے،اس سےگھرمیں بھی مستقل برکت رہےگی،اصل تربیت گھرمیں والدہ ہی کرتی ہے،جب والدہ دن کاآدھاحصہ مدرسہ میں قرآن پڑھنےپڑھانےمیں گزارےگی توباقی وقت بھی قرآن کی تعلیمات کےمطابق گزارنےکی کوشش ہوگی اور بچوں کی تربیت بھی بہتر طریقےسےہوسکےگی۔
اس طرح بھی کیاجاسکتاہےکہ ابھی فی الوقت والدکےکہنےپرکچھ عرصہ مدرسہ کی تدریس سےہٹادیاجائے،بعدمیں والد صاحب کو کسی طرح آمادہ کرکےدوبارہ تدریس کےلیےلگادیاجائے۔
اہم وضاحت واضح رہےکہ مذکورہ صورت شرعاصرف اس وقت جائزہوگی ،جبکہ مسائل دونوں طرف سےواقعتاہوں،اگر خدانخواستہ مسائل صرف بیوی کی طرف سےہوں،کہ وہ آپ کےوالدین کی کی بات نہیں مانتی،ان کی خدمت نہیں کرتی،اورا ٓپ صرف اس کےمطالبےپر الگ ہونےکی کوشش کررہےہیں تویہ شرعادرست نہیں ہوگا،ایسی صورت میں بیوی کوسمجھانا ضروری ہے کہ آپ کےوالدین کی خدمت اس پر اخلاقا لازم ہے،خاص طو ر پرجبکہ والدین کی عمر زیادہ ہو اور ان کوخدمت کی ضرور ت بھی ہو،ایسی صورت میں والدین سےالگ ہونا کسی صورت جائزنہیں ہوگا۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی فی سورۃ الاسراء23)
﴿وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُھُمَا أَوْ کِلاَھُمَا فَلاَ تَقُل لَّھُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُل لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً رَّبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوسِکُمْ إِن تَکُونُواْ صَالِحِیْنَ فَإِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوراً﴾
"الدر المختار" (600/3:
بيت منفرد من دار له غلق ۔زاد في الاختيار والعيني ومرافق ومراده لزوم كنيف ومطبخ وينبغي الإفتاء به۔
"رد المحتار" (600/3:
قوله ( وفي البحر عن الخانية ) عبارة الخانية فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لهاأن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها ا ۔
قال المصنف في شرحه فهم شيخنا أن قوله ثمة إشارة للدار لا البيت لكن في البزازية أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر
"بدائع الصنائع" (23/4:
ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
07/ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


