03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بڑے بھائی کی ذاتی کمائی سے بنائی گئی جائیداد میں دیگر بھائیوں کی شرکت کا حکم
88542میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

جب ہمارےوالد اور والدہ حیات تھےتو والد کی آمدنی کا واحد ذریعہ  کھجوروں کے چوبیس عدد درخت تھے، جن سے سالانہ تقریبا 12000 سے 24000 روپے آمدنی ہوتی تھی  اور وہ بھی والدہ کے علاج پر خرچ ہو جاتی تھی ،جبکہ تمام بھائی ایک ساتھ رہتے تھے اور گھر کے اخراجات کے لئے بڑے بھائی کی تنخواہ کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ آمدن موجود نہ تھا، باقی بھائی بالغ ہونے کے باوجود کسی نوکری یا ذریعہ آمدن میں شریک نہ تھے، ایسی صورت میں اگر بڑےبھائی نےاپنی ذاتی کمائی سے کوئی جائیداد خریدی ہو تو کیا دیگر بھائی اس جائیداد میں شرکت کا دعوی کرسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں بڑےبھائی نے اپنی ذاتی کمائی سے جو جائیداد بنائی ہے وہ اس کی ذاتی ملک ہے،دیگر بھائیوں کی جانب سے اس میں شرکت کا دعوی درست نہیں ہے۔

حوالہ جات

"شرح المجلة لخالد الاتاسی" (4/ 320):

"قال فی الفتاوی الخیریة :قول علمائنا اب وابن ،یکتسبان فی صنعة واحدة ولم یکن لھما شیء ثم اجتمع لھما ،قال: یکون کلہ للاب إذا کان الابن فی عیالہ،ھو مشروط کما یعلم من عبارتھم بشروط: منھا اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لھماوکون الابن فی عیال ابیہ فإذا عدم واحد منھا،لایکون کسب الابن للأب.......

اقول: استفید من کون مدار الحکم ثبوت کون الابن معینا لابیہ أنہ لیس المراد باتحاد الصنعة اتحادھا نوعا، بل المراد أن یعملا بھا یدا واحدة ویکون الکسب الحاصل غیر متمیز ،حتی لوکان کل منھما حداد ا مثلا إلا أن کلا منھما یعمل فی دکان لہ علی حدة وأمر الابن فی عملہ لیس عائدا لأبیہ،لایکون معینا لہ وإن کان فی عیالہ، بل یکون کسبہ لہ خاصة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

09/ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب