| 88537 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک لڑکی ہے۔ اس سے یہ غلطی ہو گئی کہ وہ موبائل پر کسی سے بات کرتی تھی۔ اس کی بھابھی وغیرہ نے شکایت کی، جس پر اس کے بھائیوں نے اسے بہت مارا اور اب گھر میں بند کر دیا ہے۔ کسی سے ملنے اور بات کرنے وغیرہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ نیز یہ کہا گیا کہ “جو تمہاری جان بخشی ہے اسے ہی غنیمت جانو” اور کہا گیا کہ “تم قتل کی حقدار ہو” وغیرہ، اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شریعت یہی حکم دیتی ہے۔ اس بچی نے معافی وغیرہ بھی مانگی ہے۔ نیز اس کی وہ بہن جو اس کے ساتھ تھی، اس کا کوئی قصور نہیں ہے؛ اسے بھی گھر میں بند کیا گیا ہے اور موبائل وغیرہ چھین لیا گیا ہے۔ اب اس کا کہنا ہے کہ اسے فتویٰ چاہیے — تفصیلی: کیا ان کے گھر والوں کا یہ عمل درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں لڑکی کا غیرمحرموں سےغیرضروری اورگناہ کی طرف لیجانے والی بات چیت کرناگناہ کاکام ہے ایسی صورت میں گھر والوں کو اصلاحی تادیب کا حق ہے، جیسے سمجھانا، تنبیہ کرنا، مناسب نگرانی رکھنا اور غیرمحفوظ وسائل مثلاً موبائل سے روک دینا تاکہ دوبارہ غلطی نہ ہو، لیکن یہ سب نرمی، خیر خواہی مناسب تادیب اور اصلاح کے دائرے میں ہونا چاہیے، نہ کہ تشدد اور ظلم کی صورت میں۔ اسی طرح معصوم بہن کو سزا دینا جبکہ اس کا کوئی قصورنہ ہوسراسر ناجائز اورظلم ہے، اور بے بنیاد الزام تراشی (قذف) سخت گناہ ہے اور شرعاً قابلِ مؤاخذہ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ بچی کا فعل گناہ تھا مگر اس پر گھر والوں کا قتل کی دھمکیاں دینا، سخت مارپیٹ اور طویل قید میں رکھنا شرعاً ظلم ہے۔ گھر والوں کو صرف اصلاحی نصیحت، مناسب ڈانٹ اور محدود درجے کی ہلکی تادیب کا اختیار ہے۔ نیز دوسری بے قصور بہن کو سزا دینا سخت گناہ ہے۔
حوالہ جات
في ’’ التنویر وشرحہ مع الشامیۃ ‘‘ :
(وإن وجب ضرب ابن عشر علیہا بید لا بخشبۃ) (تنویر وشرحہ) ۔ وفي الشامیۃ : (بید) أي ولا یجاوز الثلاث ،
وکذلک المعلم لیس لہ أن یجاوزہا ، قال علیہ الصلاۃ والسلام لمرداس المعلم : ’’ إیاک أن تضرب فوق الثلاث ، فإنک إذا ضربت فوق الثلاث اقتصّ اللہ منک ‘‘ اہـ ۔ اسماعیل عن أحکام الصغار للأسروشني ، وظاہرہ أنہ لا یضرب بالعصا في غیر الصلاۃ أیضًا ، ۔۔۔۔۔ قولہ : (قلت الخ) مرادہ من ہذین النقلین بیان أن الصبي ینبغي أن یؤمر بجمیع المأمورات ، وینہی عن جمیع المنہیات ۔ اہـ ۔ ح ۔ (۲/۴ ، ۵، کتاب الصلاۃ)
وفی مسند الحمیدی (رقم الحدیث1154) :
حدثنا الحميدي قال: ثنا سفيان، قال: ثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: «إذا ضرب احدكم فليجتنب الوجه؛ فإن الله خلق آدم علي صورته.
في ’’ التنویر وشرحہ مع الشامیۃ:
(والأب یعزّر الإبن علیہ) وقدمنا أن للولي ضرب ابن سبع علی الصلاۃ ، ویلحق بہ الزوج ۔ نہر ۔ وفي القنیۃ : لہ إکراہ طفلہ علی تعلم قرآن وأدب وعلم لفریضتہ علی الوالدین، ولو ضرب الیتیم فیما یضرب ولدہ (الصغر لا یمنع وجوب التعزیر) فیحری بین الصبیان ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیۃ : قولہ : (وفي القنیۃ الخ) وفیہا عن الروضۃ : ولو أمر غیرہ بضرب عبدہ حل للمأمور ضربہ ، بخلاف الحر ، قال : فہذا تنصیص علی عدم جواز ضرب ولد الآمر بأمرہ ، بخلاف المعلم ، لأن المأمور یضربہ نیابۃ عن الأب لمصلحۃ ، والمعلم یضربہ بحکم الملک بتملیک أبیہ لمصلحۃ الولد ۔ اہـ ۔ وہذا إذا لم یکن الضرب فاحشا کما یأتي في المتن قریبا ۔ (۶/۱۲۹، ۱۳۰، کتاب الحدود ، باب التعزیر ، مطلب في تعزیر المتہم)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : والأصل أن الواجب لا یتقید بوصف السلامۃ والمباح یتقید بہ ، ومنہ ضرب الأب ابنہ تأدیبا أو الأم أو الوصي ، ومن الأول ضرب الأب أو الوصي أو المعلم بإذن الأب تعلیما فمات لا ضمان ، فضرب التأدیب مقید لأنہ مباح ،وضرب التعلیم لا ، لأنہ واجب ومحلہ في الضرب المعتاد ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیۃ : قولہ : (ومحلہ في الضرب المعتاد) أي کمًا وکیفًا ومحلا ، فلو ضربہ علی الوجہ أو علی المذاکیر ، یجب بلا خوف ولو سوطا واحدا لأنہ إتلاف ۔ (۱۰/۲۱۹، ۲۲۰، کتاب الجنایات ، باب القود فیما دون النفس ، مطلب الصحیح أن الوجوب علی القاتل الخ)
و في ’’ رد المحتار ‘‘ :
أما المعلم فلہ ضربہ لأن المأمور یضربہ نیابۃ عن الأب لمصلحتہ ، والمعلم یضربہ بحکم الملک بتملیک أبیہ لمصلحۃ التعلیم ، وقیدہ الطرطوسي بأن یکون بغیر آلۃ جارحۃ ، وبأن لا یزید علی ثلاث ضربات ، ۔۔۔۔ قال الشرنبلالي : والنقل في کتاب الصلاۃ : یضرب الصغیر بالید لا بالخشبۃ ، ولا یزید علی ثلاث ضربات ۔(۹/۶۱۶، کتاب الحظر والإباحۃ ، فصل في البیع ، البحر الرائق :۵/۸۳، کتاب الحدود ، باب حد القذف ، قبیل کتاب السرقۃ)
في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ :
والخامس أن لا یضرب الصبیان ضربا مبرحا ولا یجاوز الحد فإنہ یحاسب یوم القیامۃ ۔ (۵/۳۷۹، کتاب الکراہیۃ ، الباب الثلاثون في المتفرقات)
و في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ :
کما اتفقوا علی أنہ یجب علی الولي تأدیب الصبي لترک الصلاۃ والطہارۃ ، ولتعلیم الفرائض ونحو ذلک ، وذلک بالقول إذا بلغ سبع سنین ، وبالضرب إن لزم لإصلاحہ إذا بلغ عشرا ، ۔۔۔۔۔۔۔ تثبت ولایۃ التأدیب للإمام ونوائبہ کالقاضي بالولایۃ العامۃ ۔ للولي بالولایۃ الخاصۃ أبا کان أو جدا أو وصیًا أو قیما من قبل القاضي ۔ للمعلم علی التلمیذ بإذن الولي ۔۔۔۔۔ یؤدب الصبي بالأمر بأداء الفرائض والنہي عن المنکرات بالقول ، ثم الوعید ثم التعنیف ثم الضرب إن لم تجد الطرق المذکور قبلہ ولا یضرب الصبي لترک الصلاۃ إذا إذا بلغ عشر سنین لحدیث : ’’ مُروا أولادکم بالصلاۃ وہم أبناء سبع سنین ، واضربوہم علیہا وہم أبناء عشر سنین ، وفرّقوا بینہم في المضاجع ‘‘ ۔ ولا یجاوز ثلاثا عند الحنفیۃ والمالکیۃ والحنابلۃ ، وہي أیضا علی الترتیب ، فلا یرقی إلی مرتبۃ إذا کان ما قبلہا یفي بالفروض وہو الإصلاح ۔ (۱۰/۲۰- ۲۴، تأدیب ، حکمہ التکلیفي ، ولایۃ التأدیب ، طرق تأدیب الصبي،اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا (
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
11/03/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


