03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تراویح میں قرآن مجید سنانے کا معاوضہ لینا
88560نماز کا بیانتراویح کابیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ(1) کیا تراویح میں قرآن مجید سنانے والا  معاوضہ لے سکتا ہے  ؟ (2) کیا معاوضہ لینے کے لیے لوگوں کو ترغیب دیتے ہوئے جو حدیث مبارک میں ہے کہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ سفرمیں تھے اور صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کے پاس خرچہ (اخراجات) ختم ہو گیا ، صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم ( ایک بستی میں تھے، انہوں نے بستی والوں سے کچھ مانگا۔   بستی والوں نے انکار کر دیا، بستی والوں کا ایک آدمی بیمار ہو گیا، جو بستی والوں کا سربراہ تھا ،وہ ٹھیک نہیں ہو رہا تھا ۔ بستی والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور کہا  کہ  کیا  تم  ہمارے آدمی کا علاج کر دو گے ؟ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے فرمایا   کر دیں گے، لیکن 40 بکریاں معاوضہ لیں گے ۔صحابی رسول نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا،   ان کا آدمی ٹھیک ہو گیا ۔ بستی والوں نے وعدہ کے مطابق 40 بکریاں دے دیں ۔  صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم  کو  یہ محسوس ہوا  کہ  کیا یہ  جائز  بھی ہے؟  صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم نے آپ  ﷺ سے  پوچھا؛ آپﷺ  نے جائز ہونے کا  فرمایا اور ان کی دلجوئی  کے لیے  اس میں  اپنے لئے بھی  حصہ رکھنے کا  فرمایا۔کیا اب  تراویح میں قرآن  مجید  سنانے والا  اس حدیث مبارک کو دلیل بنا کر معاوضہ لے سکتا ہے ؟نیز  ہمارے سوال میں کوئی غلطی ہوئی  ہو تودرست فرمادیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ متأخرین فقہا ء  احناف  نے قرآن اور دینی تعلیم کے پڑھانے پر اجرت کے جواز کا قول ضروت کی بنا ءپر اختیار کیا ہے،تاکہ دین اور دینی شعائر محفوظ رہ سکیں ،کیونکہ اگر علماء حضرات   طلبِ معاش میں  مصروف ہوجاتے ہیں تو دین اور دینی شعائر ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے اس  صورت میں فقہا ءکرام نے وقت کےعوض دینی خدمات (امامت،اذان،تعلیمِ قرآن وغیرہ) کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔

نمازِ تراویح  میں  ایک بار  قرآن کریم مکمل کرنا سنت  ہے،فرض یا واجب کے درجہ میں  نہیں اور نہ  اسلام کے  ان شعائرِ  میں سے ہے جن  پر دین کی  بقاء موقوف ہو، جہاں   کوئی حافظ میسر نہ ہو، وہاں مختصر سورتوں کے ساتھ تراویح ادا کی جاسکتی ہے،اس لیے  تراویح کی نماز میں قرآن مجید سنا کر اجرت لینااور لوگوں کے لیے اجرت  دینا ، دونوں ناجائز ہے،لینے اور دینے والے  دونوں گنہگار ہوں گے اور ثواب بھی نہیں ملے گا۔تاہم اگر کہیں حافظ قرآن کو رمضان المبارک کے لیے نائب امام بنا دیا جائے اور اس کو  ایک دو نمازیں سپرد کردی جائیں تو  اس خدمت کے عوض تنخواہ کے نام پر اسے کچھ دیا جائے تو اس کے  لینے اور  دینے کی گنجائش ہے۔  

مذکورہ بالا حدیث   کو تراویح    کے معا وضے  پر دلیل بنا نا درست  نہیں،  مذکورہ بالا حدیث    دم اور رقیہ کے جواز کی دلیل ہے جو ایک طرح کا  علاج ہے اور علاج کرنے  پر اجرت جائز ہے۔

حوالہ جات

وفی مصنف ابن أبي شيبة :قال : حدثنا سفيان ، عن واقد ، عن زاذان ، قال سمعته يقول : من قرأ القرآن يأكل به جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم.(مصنف ابن أبي شيبة: 2/ 400)

قال العلامۃ الحصکفی  رحمہ اللہ : (و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان.

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :قوله:( ولا لأجل الطاعات) الأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليها عندنا لقوله عليه الصلاة والسلام «اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به» وفي آخر ما عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عمرو بن العاص «وإن اتخذت مؤذنا فلا تأخذ على الأذان أجرا» ولأن القربة متى حصلت وقعت على العامل ولهذا تتعين أهليته، فلا يجوز له أخذ الأجرة من غيره كما في الصوم والصلاة هداية. مطلب تحرير مهم في عدم جواز الاستئجار على التلاوة والتهليل ونحوه مما لا ضرورة إليه.

قوله :(ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ.(الدر المختار مع  رد المحتار: 6/ 55)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : واختلفوا في الاستئجار على قراءة القرآن مدة معلومة قال بعضهم لا يجوز وقال بعضهم يجوز وهو المختار اه  والصواب أن يقال على تعليم القرآن فإن الخلاف فيه كما علمت لا في القراءة المجردة فإنه لا ضرورة فيها. (حاشية ابن عابدين  : 6/ 56)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون - اهـ .(حاشية ابن عابدين  : 6/ 56)

سخی گل  بن گل محمد             

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

/10ربیع الاول ،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب