| 88538 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے شوہر دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں، مجھ سے بھی محبت کرتے ہیں لیکن وہ دوسری بھی کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اپنی پسند کی لائیں گا۔ میں کیسے برداشت کروں کسی دوسری کو ؟ دن رات وہ شادی کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ میرے تین بچے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نے مسلمان کے لیے چار تک نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، قرآن کریم میں ہے۔ فانكحوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ( النساء /13) لیکن نان و نفقہ، سکنی اور حسن معاشرت وغیرہ میں مساوات ضروری قرار دیا ہے۔ اس لیے جو شخص بیویوں کے درمیان مساوات نہیں رکھ سکتا شریعت نے ایسے شخص کو صرف ایک نکاح کرنے کی ہدایت کی ہے، لقولہ تعالى : فإن خفتم إِنَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَة [النساء /13)
دوسری شادی کے لیے خاوند کا پہلی بیوی سے اجازت لینا یا اس کو راضی کرنا شرعاً کوئی ضروری نہیں، اس کو ضروری سمجھنا خلاف شرع ہے۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں اگر خاوند اپنے شرعی حق کو استعمال کرتے ہوئے دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو پہلی بیوی کا اس پر اعتراض کرنا اور عدم برداشت کا رویہ اختیار کرنا درست طرز عمل نہیں ہے، پہلی بیوی کو اس سے باز آنا چاہیے۔ البتہ خاوند کو بھی چاہیے کہ ہر وقت بیوی کے سامنے اس کا تذکرہ کر کے اس کو تنگ نہ کرے، اور بہتر ہوگا کہ مناسب ماحول بنا کر پہلی بیوی کی رضامندی سے دوسری شادی کرے، اگرچہ شرعاً اس کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا لازم نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالى:
فانكحوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أيمانكم) [النساء : 3]
وفي الدر المختار - (48/3)
(و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر.
وفي الدر المختار (201/3)
(یجب) و ظاهر الأية أنہ فرض نهر (أن يعدل ) أي أن لا يجور ( فيه ) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة و في (الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب.
وفي الدر المختار - (7/3)
ومكروه لخوف الجور) فإن تيقنه حرم ذلك.
وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (7/3)
(قوله : ومكروها) أي تحريميا بحر (قوله : فإن تيقنه ) أي تيقن الجور حرم لأن النكاح إنما شرع لمصلحة تحصين النفس، وتحصيل الثواب، وبالجور يأثم ويرتكب المحرمات فتتعدم المصالح لرجحان هذه المفاسد بحر وترك الشارح قسما ساد ما ذكره في البحر عن المجتبى وهو الإباحة إن خاف العجز عن الایفاء بموجبہ أی خوفا غیر راجح،وإلالکان مکروھا تحریما،لأن عدم الجورمن مواجبہ الخ
وفي الفتاوى الهندية - (341/1)
وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لا يعدل بينهما لا يسعه ذلك وإن كان لايخاف وسعه ذلك والامتناع أولى ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية.
قال الله تعالى:
ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرضتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة وإن تصلحوا وتلقوا فإن الله كان غفور از جبها] [النساء : 129]
وفي أحكام القرآن للجصاص (271/3)
قوله فتذروها كالمعلقة قال ابن عباس وسعيد بن جبير والحسن ومجاهد وقتادة لا ایم ولا ذات زوج>
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
09/03/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


