| 89280 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا اپنا ایک چھوٹا سا مکان ہے جو ایک کمرے پر مشتمل ہے، اسی میں میری والدہ، بہنیں اور میں رہتے ہیں۔ میں شادی شدہ بھی ہوں اور اپنے لیے اوپر ایک کمرہ بنایا ہوا ہے۔ میرے مکان کے دونوں طرف والے گھروں کے مالکان اپنے گھر بیچنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ البتہ میرے گھر کے پیچھے ایک سوسائٹی قائم ہے جس کی زمین اصل میں قبضہ شدہ ہے )اس سوسائٹی کی زمین پر ایک شخص نے ملکیت کا دعوی کر رکھا ہے ،اور اس نے قابضوں سے قبضہ چھڑانے کی کوشش بھی کی لیکن قابضوں نے وہ زمین سوسائٹی والوں کو فروخت کردی ،بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مکمل زمین اس دعوے دار کی نہیں ہے لیکن صحیح صورت حال کا کسی کو پتہ نہیں (اس سوسائٹی میں ایک خالی پلاٹ میرے گھر کے بالکل برابر تھا۔ گھر کی شدید تنگی اور رہائشی مجبوری کی وجہ سے میں نے وہ پلاٹ اس نیت سے خرید لیا کہ اسے اپنے گھر کے ساتھ ملا کر جگہ وسیع کر سکوں۔ مزید یہ کہ اگر میں یہ پلاٹ نہ لیتا تو کوئی اور شخص اسے خرید لیتا، اس لیے یہ موقع بھی میرے سامنے تھا کہ کم از کم میں اسے لے لوں تاکہ اپنی مجبوری حل کر سکوں۔ اس سوسائٹی کی زمین اگرچہ قبضہ پر بنی ہوئی ہے، مگر اب وہاں تقریباً 50 فیصد آبادکاری ہو چکی ہے، مسجد بھی تعمیر ہو چکی ہے اور باقاعدگی سے نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔ اب میرا شرعی سوال یہ ہے: 1. کیا ایسی سوسائٹی کی زمین (جو اصل میں قبضہ کی گئی ہو) میں لیا ہوا پلاٹ اپنے پاس رکھنا، اس پر تعمیر کرنا یا اس میں رہائش اختیار کرنا شرعاً جائز ہے؟ 2. اگر اسے رکھنا جائز نہیں تو کیا میں اسے آگے بیچ سکتا ہوں؟ 3. ایسی زمین پر بنی مسجد میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ 4. میری مجبوری یہ تھی کہ اگر میں یہ پلاٹ نہ لیتا تو مجھے کسی اور علاقے میں ہجرت کرنی پڑتی، اور میری والدہ بھی اس بات پر راضی نہیں تھیں۔ کیا ایسی مجبوری کا کوئی شرعی اعتبار ہوگا؟ براہِ کرم تفصیلی شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۔اگر قبضہ کی جگہ ہونے کا یقین ہے تو مقبوضہ زمین کے پلاٹ کو اپنے پاس رکھنا ،اس پر تعمیر کرنا یا اس میں رہائش اختیار کرنا یا اس کو آگے بیچنا شرعا جائز نہیں ۔آ پ کو چاہیے کہ اپنی فیملی کے لیے مناسب جگہ رہائش کا بندوبست کریں اور یہ پلاٹ مقبوضہ سوسائٹی والوں کو واپس دے کر اپنے پیسے واپس لے لیں ۔اگر یہی پلاٹ ہی لینا ضروری ہے تو اس کے اصل مالک کو تلاش کرکے اس سے لے سکتے ہیں ۔
۲۔ ایسی زمین پر بنی مسجد میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
۳۔آپ اپنی والدہ کو مناسب طریقے سے راضی کریں ،ایسی مجبوری کا شرعا کوئی اعتبار نہیں ۔
حوالہ جات
سنن بیہقی (11652/6):
لا يحل لمسلم ان ياخذ مال اخيه بغير حق وذلك لما حرم الله مال المسلم على المسلم ان ياخذ عصا اخيه بغير طيب نفس. وفي رواية لا يحل لمسلم ان ياخذ عصا اخيه بغير طيب نفس.
مشكاة المصابيح ( 887/2):
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية )1/ 109(:
الصلاة في أرض مغصوبة جائزة ولكن يعاقب بظلمه فما كان بينه وبين الله تعالى يثاب وما كان بينه وبين العباد يعاقب. كذا في مختار الفتاوى الصلاة جائزة في جميع ذلك لاستجماع شرائطها وأركانها وتعاد على وجه غير مكروه وهو الحكم في كل صلاة أديت مع الكراهة. كذا في الهداية فإن كانت تلك الكراهة كراهة تحريم تجب الإعادة أو تنزيه تستحب فإن الكراهة التحريمية في رتبة الواجب كذا في فتح القدير.
تكملة فتح القدير) 9/ 321(:
قال (وعلى الغاصب رد العين المغصوبة) معناه ما دام قائما لقوله عليه الصلاة والسلام :على اليد ما أخذت حتى ترد وقال عليه الصلاة والسلام لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا، فإن أخذه فليرده عليه: ولأن اليد حق مقصود وقد فوتها عليه فيجب إعادتها بالرد إليه، وهو الموجب الأصلي على ما قالوا.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي )1/ 381(:
(قوله: وأرض مغصوبة أو للغير) لا حاجة إلى قوله أو للغير إذ الغصب يستلزمه.. وفي الواقعات بنى مسجدا على سور المدينة لا ينبغي أن يصلي فيه؛ لأنه من حق العامة فلم يخلص لله تعالى كالمبني في أرض مغصوبة اهـ.
محمد سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


