03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرسے میں طلبہ کو دیے جانے والے کھانے میں تصرف کے احکام
89359وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

ہمارے مدرسے کے مطبخ سے کھانا لینے کا اصول یہ ہے کہ ہر جماعت الگ الگ برتن میں مطبخ سے کھانا لیتی ہے۔ کھانا لاتے وقت ہمارے درمیان کچھ مسائل پیش آتے ہیں: ۱۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ 23 طالب علم کا کھانا لایا گیا ہے، لیکن حاضر طالب علم کی تعداد صرف 21 ہیں اور 2 طالب علم غیر حاضر ہیں۔ ایسی صورت میں باقی دو طالب علم کے حصے کا کھانا (مچھلی، گوشت، انڈہ وغیرہ) دوسروں کے لیے لینا جائز ہے یا نہیں؟2۔ مطبخ کی طرف سے برتن میں ہر طالب علم کے لیے مقررہ مقدار کی مچھلی یا گوشت دینے کے بعد جو ٹوٹے پھوٹے یا بچے ہوئے ٹکڑے بچ جاتے ہیں، کیا کوئی انہیں کھا سکتا ہے؟ 3۔ اگر کسی طالب علم کی مچھلی یا گوشت پسند نہ آئے، یا وہ گھر جاتے وقت کسی دوسرے کو اپنی  جگہ کھانا لینے کی اجازت دے دے، تو کیا اجازت یافتہ شخص وہ کھانا لے سکتا ہے؟ 4۔ حاضری کے مطابق کھانا دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم وقتِ حاضری موجود نہ ہو، لیکن بعد میں کسی طرح رضامندی کے ذریعے یا باورچی سے یا مچھلی زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے کھانا دیا جائے، تو کیا اس کے لیے وہ کھانا لینا جائز ہے؟ 5۔ اگر کوئی باورچی اپنی طرف سے ایک یا دو مچھلیاں یا اسی طرح کی کوئی چیز اضافی دے دے، بغیر ذمہ دار افراد کی اجازت کے، تو کیا کسی طالب علم کے لیے اسے لینا جائز ہے؟ واضح رہے کہ مدرسے کے مطبخ میں بعض طلبہ ماہانہ پورے پیسے دے کر کھانا کھاتے ہیں، بعض آدھے پیسے دیتے ہیں، اور کچھ طلبہ مفت کھانا لیتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 ۱۔  عام طور پر   مدارس میں جب کسی کمرے یا کلاس  کا کھانا دیا جاتا ہے تو  اس میں اندازے سے کھانا دیا جاتا ہے ۔اس میں 23طلبہ اور 21  کے کھانے میں کوئی   خاص فرق نہیں کیا جاتا ۔لہذا جو کھانا دیا جاتا ہے وہ حاضر طلبہ  کھا سکتے ہیں ۔تاہم  اگر کبھی  زیادہ تعداد میں  طلبہ مو جود نہ ہوں تو  ادارے کو  بر وقت اطلاع دی جائے تاکہ  کھانا  ضرورت  کے بقدر بنایا جائے  اور ضائع نہ ہو۔

۲۔ بچے ہوئے  ٹکڑوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کھانے کی گنجائش ہے۔

۳۔اگر طلبہ پیسے  دے کر کھانا کھاتے ہوں اور انہیں کھانا بھی انفرادی طور پر دیا جاتا ہو  تو وہ اپنا کھانا خود بھی کھا سکتے ہیں اور کسی دوسرے کو لینے کی اجازت بھی دے سکتے ہیں ۔

اگر طلبہ  آدھے   پیسے دے کر یا بغیر  پیسے دیے  کھانا کھاتے ہوں  تو ان کے لیے  اپنا کھانا کسی کو دینا یا لینے کی اجازت دینا جائز نہیں۔

۴۔انتظامی طور پر  یہ طے کرنا جائز ہے کہ  فلاں وقت کھانا ملے گا اور اس کے علاوہ نہیں  ملے گا ۔تاہم ،کیونکہ یہ کھانا   طلبہ  ہی   کے لیے بنا ہے تو اگر طالب علم  معقول عذر پیش کرے  اور انتظامیہ  اجازت دے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔

۵۔باورچی کو چاہیے کہ وہ   ہر طالب علم کو اتنا کھانا دے  جتنا ادارے کی طرف سے  دینے کی اجازت ہے، ورنہ وہ خائن شمار ہوگا ۔اور طالب علم کو چاہیے کہ وہ مقررہ مقدار سے زیادہ لینے سے گریز کرے   اگر باورچی    مقررہ مقدار سے زیادہ  دے تو اگر معمولی فرق   تو  لے لےاور اگر واضح فرق ہوتو کسی اور طالب علم کو شریک کر لے   ۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية) 5/ 344ص(:

رجل دعا قوما إلى طعام وفرقهم على أخونة ليس لأهل هذا الخوان أن يتناول من طعام خوان آخر؛ لأن صاحب الطعام إنما أباح لأهل كل خوان أن يأكل ما كان على خوانه لا غير وقال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى -: القياس كذلك، وفي الاستحسان إذا أعطى من كان في ضيافة تلك جاز، وإن أعطى بعض الخدم الذي هناك جاز أيضا، وكذا لو ناول والضيف من المائدة شيئا من الخبز أو قليلا من اللحم جاز استحسانا، وإن ناول الطعام الفاسد أو الخبز المحترق فذلك جائز عندهم؛ لأنه مأذون بذلك، كذا في فتاوى قاضي خان.

الفروق للقرافی ،193/1)ص(:

تمليك الانتفاع عبارة عن الإذن للشخص في أن يباشر هو بنفسه فقط كالإذن في سكنى المدارس والربط والمجالس في الجوامع والمساجد والأسواق ومواضع النسك كالمطاف والمسعى ونحو ذلك.

الاختيار لتعليل المختار). 2/ 156ص(:

وكل عقد جاز أن يعقده بنفسه جاز أن يوكل به،فيجوز بالخصومة في جميع الحقوق وإيفائها واستيفائها إلا الحدود.

حاشیہ ابن عابدین،269/2)ص(:

وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل.

سلیم اصغر بن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

24/جمادی الثانیہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب