03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے بعد بغیر حلالہ کے اکٹھے رہنے کا حکم
91912طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

اریبہ نامی ایک خاتون کو اس  کے شوہر نے طلاق دی اور اس نے عدت کے دوران کسی  قسم کی پابندی کی رعایت نہیں  کی، بلکہ نارمل زندگی گزارتی رہی،  بلکہ ارسلان نامی  ایک شخص  کے ساتھ ملاقات  بھی جاری رکھی، جس کے ساتھ وہ پہلے سے ایک محفوظ مقام پر منتقل ہو گئی تھی،  عدت     کا وقت مکمل ہونے کے بعد اس نے  ارسلان کے ساتھ شادی کر لی،  شادی کے تقریباً تین سال کے بعد لڑائی جھگڑے کے دوران ارسلان نے اریبہ کو  تین الگ الگ طلاقیں دی، ان  طلاقوں کے بعد اس کےوالدین نے اس کواپنےساتھ  رکھنے سے انکار کر دیا،  جس کے بعد وہ ایک دوسری جگہ پر پناہ لے کر الگ رہنے لگی،  طلاق کے دو تین ہفتے کے بعد  اس نے  اپنے حاملہ ہونے کا دعوی کیا،   جس کی وجہ سے ارسلان نے دوبارہ اریبہ کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور اب دونوں اکٹھے رہ رہے ہیں، اس تمام صورتِ حال کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس طرح اکٹھے رہنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں  خاتون نے عدت کے احکام کی پابندی  نہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عظیم حکم کی خلاف ورزی  کی ہے،  خصوصاً ایک اجنبی شخص کے  ساتھ  ملاقات جاری رکھنا انتہائی کبیرہ گناہ  تھا، جس  کی جہ  سے ان دونوں پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا ضروری  ہے اورآئندہ کے لیے اس طرح کے  انتہائی قبیح گناہ سے    بچنا لازم ہے۔باقی جہاں تک عدت کا تعلق  ہے تووہ وقت گزرنے سے بہرحال مکمل ہو چکی ہے،  اس لیے اس کے بعد اس خاتون کا ارسلان نامی شخص  کے ساتھ نکاح کرنا جائز تھا،بشرطیکہ خاتون خود نکاح کی مجلس میں موجود ہو،  کیونکہ دوگواہوں کی موجودگی میں شرعاً نکاح منعقد ہو جاتا ہے اور مذکورہ صورت میں  خاتون کا ایک غیر محرم  شخص اور دوسرا نکاح پڑھانے والا مسجد کا امام  موجود تھے،  باقی   اس صورت میں عورت خود اپنے نکاح کی ولیہ ہو گی اور غیر محرم شخص کو شرعا گواہ  تسلیم کیا جائے گا۔

البتہ اس کے بعد جب ارسلان  نے خاتون کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ  تینوں  طلاقیں  واقع ہونے کی وجہ سے اس پر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی،   کیونکہ شرعی اعتبار سے حالتِ حمل میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا اس کے بعد شرعی طریقہ کے مطابق حلالہ کے  بغیر فریقین کا اکٹھے رہنا ہرگزجائز نہیں ہے، یہ اللہ تعالی کے قرآن کریم میں بیان کیے گئے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، جس کی شریعت ہرگز اجازت نہیں دیتی،  لہذا ان دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرےسے علیحدگی  اختیار کریں اور سابقہ   قبیح جرم اور گناہ کبیرہ  پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار  بھی کریں۔پھر اگر فریقین دوبارہ نکاح کرنا چاہیں  تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ  بچے کی ولادت  سے  جب عورت کی عدت ختم ہو جائے گی تو اس کے بعد عورت  گواہوں کی موجودگی میں کسی شخص سے نکاح  کرے ، وہ شخص  اس کے ساتھ ہمبستری بھی کرے ، پھر وہ اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے دے یا وہ فوت ہو جائے تو اس کی عدت  گزارنے کے بعد  فریقین باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں  نئےمہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ کسی صورت  میں ان کا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

القرآن الکریم [البقرة: 230]:

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ}

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 186) دار احياء التراث العربي – بيروت:

قال: " ومن أمر رجلا بأن يزوج ابنته الصغيرة فزوجها والأب حاضر بشهادة رجل واحد سواهما جاز النكاح " لأن الأب يجعل مباشرا للعقد لاتحاد المجلس فيكون الوكيل سفيرا أو معبرا فيبقى المزوج شاهدا " وإن كان الأب غائبا لم يجز " لأن المجلس مختلف فلا يمكن أن يجعل الأب مباشرا وعلى هذا إذا زوج الأب ابنته البالغة بمحضر شاهد واحد إن كانت حاضرة جاز وإن كانت غائبة لم يجز.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

29/ربیع الاول 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب