| 92035 | غصب اورضمان”Liability” کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ہمارے دیہی وقبائلی علاقے کا یہ مستقل عرف ہے کہ جب حکومت کسی کی ذاتی زمین پر سرکاری اسکول یا ہسپتال وغیرہ بناتی ہے تو مالکِ زمین کو زمین کے عوض کلاس فور یعنی چوکیدار اورمالی وغیرہ کی نوکریاں دی جاتی ہیں، اگرچہ سرکاری کا غذات میں اس کی کہیں تصریح نہیں ہوتی، لیکن عملاً ہوتا ہے اور سرکار مالک زمین سے ہی شناختی کارڈ مانتی ہے، اس نوکری کو جاری کروانے کے لیے سرکاری افسران کو مجبورا لاکھوں روپے ( رشوت ) بھی دینے پڑتے ہیں، بہر حال حالیہ مسئلے کا پس منظر درج ذیل ہے۔
ایک شخص کی ذاتی اور شرعی طور پرتقسیم شد ہ زمین پر اسکو ل بنا۔ یہ اسکول مالک زمین کے گھر کے بالکل سامنے ہے، مالکِ زمین کے اپنے گھر کے افراد (والدہ، چار بھائی ) پہلے سے ہی دیگر سرکاری ملازمتوں میں ہیں ، اس لیے ان کے شناختی کارڈ سرکاری طور پر اس نئی نوکری کے لیے استعمال نہیں ہو سکتے تھے، جبکہ ایک بھائی ابھی ڈاکٹری ( میڈیکل) کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ زمین چونکہ با قاعدہ تقسیم ہو چکی تھی، اس لیے والد کے دیگر خاندان ( چچا اور کزن وغیرہ ) کا اس زمین اور نوکری پر کوئی شرعی حق نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے زبردستی نوکری پر قبضہ کرنے اور تنخواہ لینے کے لیے شدید خاندانی جھگڑا اور فتنہ کھڑا کر دیا۔ اس شدید خاندانی فتن ، وشنی اور اپنے جائز حق کو ظالموں سے بچانے کے لیے مالکِ زمین نے ایک کاغذی تدبیر اختیار کی کہ خاندان سے باہر کے ایک فرد یعنی اپنے خالہ زاد بھائی ( جو والدہ کی طرف سے ہے اور والد کے قبیلے کا نہیں ہے ) کا شناختی کارڈ حاصل کر کے عملے کو لاکھوں روپے کی مجبوراً رشوت دے کر نوکری اس کے نام پر اس کی رضا مندی سے جاری کروادی۔ اسکول چونکہ مالکِ زمین کے گھر کے سامنے ہے، اور دیہات میں یہ اسکول اکثر بند رہتے ہیں، اس لیے اسکول کی دیکھ بھال ، صفائی اور نگرانی کے تمام عملی فرائض مالکِ زمین خود دیانتداری سے انجام دیتا ہے اور ماہانہ تنخواہ بھی خود لیتا، خالہ زاد کا کوئی عملی کردار نہیں ہے۔ اب وہ خالہ زاد بھائی شرعی گناہ ، کاغذی جھوٹ اور آخرت کے خوف سے شدید پریشان ہے اور بار بار اس معاملے کے جائز یا نا جائز ہونے کا شرعی حکم پوچھتا ہے، اس معاملے میں پینشن کی دو الگ الگ صورتیں سامنے آرہی ہیں، جن پر الگ الگ شرعی حکم مطلوب ہے۔
صورتِ اول: (اپنے نام کے بدلے تاحیات پیشن خود رکھنے کا معاہدہ کرنا ): اگر خالہ زاد بھائی اس شرط پر قائم رہے کہ ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والا یکمشت فنڈ تو وہ مالک زمین کو دے دے گا، لیکن اس کے بعد حکومت کی طرف سے تاحیات (مرتے دم تک) ملنے والی ماہانہ پیشن وہ خود وصول کرے گا اور اپنےذاتی استعمال میں لائے گا، تو اس صورت کا کیا حکم ہے؟ کیا شناختی کارڈ کے استعمال کے عوض تاحیات پینشن کھانا اس کے لیے شرعا حلال ہوگا یا حرام؟
صورتِ دوم: ( بغیر کسی مالی فائدے کے صرف کاغذی مدد کرنا) : اگر خالہ زادبھائی تاحیات پیشن یاکسی بھی قم کا مالی فائدہ لینے کی شرط سے بالکل دستبردار ہو جائے اور وہ تحریری طور پر یہ اقرار کرے کہ ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والا یکمشت فنڈ اور اس کے بعد تاحیات ملنے ولی ماہانہ پیشن سب مالک زمین کا حق ملنے ہے اور وہ صرف خاندانی جھگڑے سے بچانے کے لیے بطورِ امانت اپنا شناختی کارڈ (کاغذی واسطہ ) دے رہا ہے تو اس صورت کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کاغذی مدد پر وہ گناہ گار ہوگا یا اس کے لیے شرعی گنجائش نکلتی ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں دونوں صورتوں کا تفصیلی اور الگ الگ شرعی حکم مع حوالہ جات عنایت فرمائیں، تا کہ سائل اور اس کا خالہ زاد بھائی شرعی حدود کے مطابق فیصلہ کر سکیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی اعتبار سے تحریری یا زبانی طور پر جھوٹ اور غلط بیانی کا ارتکاب کرنا حرام اور ناجائز ہے، جس کی قرآن کریم میں مذمت بیان کی گئی ہے ، اس لیے شریعت میں اس کے ارتکاب کی قطعاً اجازت نہیں ہے، صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کا خالہ زاد بھائی اور آپ غلط بیانی کا ارتکاب کر چکے ہیں اس لیے اس پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کےلیے اس طرح کے کبیرہ گناہ سے بچنا ضروری ہے۔
باقی اگر حکومتی قانون کی رُو سے آپ اس ملازمت کے حق دار تھے اور اب آپ دیانتداری سے کام سرانجام دے رہے ہیں تو اس صورت میں آپ کےلیے اپنے کام کے عوض تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی پنشن بھی دراصل ملازمت کے عوض عطیہ کے طور پر ملازم کو دی جاتی ہے، اس لیے یہ پنشن بھی آپ کا ہی شرعی حق ہے ۔ لہذا سوال میں ذکر کی گئی پہلی صورت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ یہ ملازمت آپ کے خالہ زاد بھائی کا حق نہیں تھا اور اس نے ملازمت میں بھی کوئی کام نہیں کیا، اس لیے وہ صرف شناختی کارڈ کے استعمال کے عوض ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی پنشن کا کسی صورت حق دار نہیں ہے، لہذا اس کے ذمہ لازم ہے کہ ملازمت کے دوران اور ملازمت کے بعد حکومت کی طرف سے ملنے والی تمام رقوم آپ کے حوالے کرے۔
جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے تو آخرت میں اللہ کے دربار میں برئ الذمہ ہونے کے لیے دو باتوں کا اہتمام ضروری ہے کہ ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ وا ستغفار کرے، جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا۔ دوسری بات یہ کہ ملازمت کی وجہ سے ملنے والی پنشن اور فنڈز وغیرہ میں سے کچھ نہ لے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ تحریری طور پر ان سے مکمل طور پر برات کا اظہار کرکے وہ تحریر آپ کے حوالہ کرے ، تاکہ اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد میں سے کوئی شخص پنشن وغیرہ کا دعوی نہ کرسکے۔
حوالہ جات
جامع العلوم والحكم ت الأرنؤوط (2/ 264) الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت:
ويحتمل أن يفسر التناجش المنهي عنه في هذا الحديث بما هو أعم من ذلك، فإن أصل النجش في اللغة: إثارة الشيء بالمكر والحيلة والمخادعة، ومنه سمي الناجش في البيع ناجشا، ويسمى الصائد في اللغة ناجشا، لأنه يثير الصيد بحيلته عليه، وخداعه له، وحينئذ فيكون المعنى لا تتخادعوا، ولا يعامل بعضكم بعضا بالمكر والاحتيال. وإنما يراد بالمكر والمخادعة إيصال الأذى إلى المسلم: إما بطريق الأصالة، وإما اجتلاب نفعه بذلك، ويلزم منه وصول الضرر إليه، ودخوله عليه، وقد قال عز وجل: {ولا يحيق المكر السيئ إلا بأهله} [فاطر: 43] [فاطر: 43] . وفي حديث ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم: «من غشنا، فليس منا، والمكر والخداع في النار» . وقد ذكرنا فيما تقدم حديث أبي بكر الصديق المرفوع: «ملعون من ضار مسلما أو مكر به» خرجه الترمذي.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
6/ربیع الثانی 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


