03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوکن کو طلاق دلوانے کی دعاکرنا
88555طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک جاننے والی خاتون ہیں جن کی کوئی اولاد نہیں ہے، اسی وجہ سے ان کے شوہر نے دوسری شادی کی ہے۔ ابھی چار مہینے ہی ہوئے ہیں، اور وہ عورت بہت پریشان ہیں کیونکہ ان کی سوکن انہیں بہت تنگ کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ انہیں طلاق دلوا دے۔ اس خاتون نے کہا ہے کہ دعا کریں کہ یہ عورت ہماری زندگی سے نکل جائے اور میرا شوہر اسے کسی طرح طلاق دے دے۔ تو عرض یہ ہے کہ کیا میرے لیے درست ہے کہ میں اس طرح دعا کروں جیسا کہ اس عورت نے کہا ہے؟ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کو چاہئے کہ ایسی دعائیں نہ کریں جن کا مقصد کسی گھر کو برباد کرنا یا رشتہ ٹوٹوانا ہو۔ اس کے بجائے خیر اور بھلائی کی دعا کریں، مثلاً دعا کریں کہ اللہ دونوں کے دلوں میں سکون، افہام و تفہیم اور محبت پیدا فرمائے، اور اگر ظلم ہو رہا ہے تو اس کا ازالہ کرے۔

کسی کے گھر کو برباد کرنے، میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے یا کسی عورت کو طلاق دلوانے کے لیے دعا کرنا درست نہیں ہے۔ اسلام میں خاندان کے رشتوں کو توڑنے کی کوشش کرنا سخت گناہ ہے۔ حدیثِ شریف میں آیا ہے:“اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ حلال چیز طلاق ہے۔” (ابو داؤد) اسی طرح جو شخص میاں بیوی میں جدائی ڈالنے کی کوشش کرے، اس کے بارے میں وعیدآئی ہے۔

دوسری بیوی کےلئے بھی پہلی بیوی کو تنگ کرنا یا اسے طلاق دلوانے کے لیے سازش کرنا جائز نہیں ہے،اس کا یہ عمل نہ صرف گناہ ہے بلکہ اس کا جواب اللہ کے حضور اس کودینا پڑے گا۔

 بہتر یہ ہے کہ آپ اس جاننے والی خاتون کو تحمل اور حکمت کے ساتھ سمجھائیں کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے باہمی گفت‌وشنیدیا خاندان کے بزرگوں کی مداخلت زیادہ مناسب راستہ ہے۔ اگر کسی طرف ظلم یا زیادتی ہو رہی ہو تو شریعت کے مطابق جائز اور مشروع طریقے اپنائے جائیں،اوربدعاسے پرہیزکیاجائے۔

حوالہ جات

وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:

"3145 - وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لاتسأل المرأة طلاق أختها لتستفرغ صحفتها ولتنكح فإن لها ما قدر لها» . متفق عليه.

3145 - (وعنه أي: عن أبي هريرة (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لاتسأل المرأة بالجزم والرفع (طلاق أختها أي: ضرتها يعني أختها في الدين أو لكونهما من بنات آدم وحواء وسماها أختا لتميل إليها وتحن عليها واستقباحا لخصلة النهي عنها لما ورد من قوله عليه الصلاة والسلام: " «لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه» " ومفهومه أنه يكره لأخيه ما يكره لنفسه يعني لا تسأل المخطوبة الخاطب أن يطلق زوجته لتكون منفردة بالحظ منه وهذا معنى قوله (لتستفرغ صحفتها أي: لتجعل قصعة أختها فارغة عما فيها من الطعام وهذا مثل ضربه لحيازة الضرة حق صاحبتها لنفسها، وقال الطيبي أي لتفوز بحظها (ولتنكح بصيغة المعلوم منصوب بالعطف على لتستفرغ أي ولتنكح زوجها ليكون جميع مال ذلك الرجل للطالبة كذا قيل، والمعنى لتنكح هذه المرأة الزوج خاصة وإسناد النكاح إلى المرأة شائع قال تعالى {حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] أي لتنكح طالبة الطلاق زوج تلك المطلقة وإن كانت المطالبة والمطلوبة تحت رجل يحتمل أن يعود ضميره إلى المطلوبة يعني ولتنكح ضرتها زوجا آخر فلا تشترك معها فيه، أو مجزوم بالعطف على تسأل أي ولتنكح زوجا غيره وقيل: بصيغة المجهول أي لتجعل منكوحة له، وقال ابن الملك: في شرحه للمشارق: روي ولتنكح بصيغة الأمر المعلوم أو المجهول عطفا على قوله " لا تسأل " يعني لتثبت المرأة المنكوحة على نكاحها الكائن على الضرة قانعة بما يحصل لها فيه أو معناه لتنكح تلك المرأة الغير المنكوحة زوجا غير زوج أختها ولتترك ذلك الزوج أو معناه لتنكح تلك المخطوبة زوج أختها ولتكن ضرة عليها إذا كانت صالحة للجمع معها من غير أن تسأل طلاق أختها (فإن لها ما قدر لها أي: لن تعدو بذلك ما قسم لها ولن تستزيد به شيئا وفي المصابيح فإن مالها ما قدر لها قال ابن الملك: ما في ما لها موصولة والجملة الظرفية صلتها ويحتمل أن يكون مال اسم جنس مضافا إلى الهاء وفي بعض النسخ فإنما متصل فتكون ما كافة. (متفق عليه."(كتاب النكاح، باب إعلان النكاح والخطبة والشرط، 5 / 2067، ط: دار الفكر، بيروت – لبنان.

وفی المرقاہ شرح المشکاہ:

 قال - عليه الصلاة والسلام -: " «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» ) .(1/142)

قال النبي صلى الله عليه وسلم:

 ليس منَّا من خبب امرأة على زوجها أو عبدًا على سيدهرواه أبو داود وغيره

في صحيح مسلم

إن إبليس يضع عرشه على الماء، ثم يبعث سراياه فأدناهم منه منزلة أعظمهم فتنة، يجيء أحدهم فيقول: فعلت كذا وكذا، فيقول: ما صنعت شيئًا، ثم يجيء أحدهم فيقول: ما تركته حتى فرَّقت بينه وبين امرأته، فيدنيه منه، ويقول: نعم أنت، فيلتزمه.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

27/ربیع الالول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب