| 88704 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
( حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جرح پر پہلی روایت پیش کرتے ہوئےاسکالر نے کہا کہ)حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے متعدد صحیح اسانید سے یہ حدیث مروی ہے کہ امرت بقتال الناکثین والقاسطین والمارقین۔
مجھے عہد شکنوں یعنی طلحہ وزبیر اور ظالموں یعنی معاویہ اور ان کے ساتھیوں اور دین سے نکل جانے والوں یعنی خوارج سےجنگ کاحکم دیا ہے۔
امام ابن ابی عاصم نے السنۃ میں اس کاذکر کیا ہے،شیخ البانی نے اس حدیث کوصحیح قرار دیا ہے،اور دیگر علماء محدثین نے بھی اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔
سؤال: کیا یہ روایت ثابت اور صحیح ہے؟اور کیا اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جرح پر استدلال درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصل روایت کو مع جملہ طرق نقل کیا جاتا ہے، ہر طریق کے ساتھ اس پر محدثین کا کلام نقل کیا جائے گا اور ساتھ ہی اس روایت سے عدالت صحابہ بالخصوص عدالت معاویہ پر اعتراض کا جواب بھی لکھا جائے گا۔
یہ روایت پانچ طرق (حضرت علی ،ابو ایوب انصاری، عمار ،عبد اللہ بن مسعود ،ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم )سے مروی ہے ،البتہ اس کے دو طریق زیادہ مشہور ہیں لہذا ان پرکسی قدر تفصیلی جبکہ دیگر طرق پر اجمالا لکھا جاتا ہے۔
اول طریق علی رضی اللہ عنہ: یہ طریق متعدد اسانید کے ساتھ مختلف محدثین نے روایت کیا ہے ، یہاں صرف دو روایتوں کو ذکر کیا جاتا ہے۔ روایت امام ابن ابی عاصم( سؤال میں اسی کا حوالہ دیا گیا ہے۔) اور روایت طبرانی( سؤال کے مطابق روایت یہی ہے۔)
(۱)طریق علی رضی اللہ عنہ بروایت السنۃ از امام ابن ابی عاصم :
كتاب السنه لعمرو بن أبي العاصم - (ج 2 / ص 15): (ومعه ظلال الجنة في تخريج السنة بقلم محمد ناصر الدين الالباني ):
. 907 -ثنا الحسين بن علي بن يزيد الصدائي ، ثنا أبي ، عن فطر ، عن حكيم بن جبير ، عن ابراهيم النخعي ، عن علقمة قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يوم النهروان يقول : أمرت بقتال المارقين ،وهؤلاء المارقون .
قال الالبانی : 907 - حديث صحيح ، وإسناده ضعيف ، حكيم بن جبيرضعيف ، وعلي بن يزيد الصدائي فيه لين ، لكنه قد توبع ، وسائرالرواة ثقات . والحديث أخرجه البزار (ص 235) : حدثنا علي بن المنذرثنا عبد الله بن نمير ثنا فطر ابن خليفة به . وللحديث شاهد من حديث ابن مسعود قال : " أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتال الناكثين ، والقاسطين ، والمارقين " . رواه الطبراني بإسناد قال الهيثمي (6 / 235) : فيه من لم أعرفه . ثم ذكر له شاهدا آخر من حديث أبي أيوب الأنصاري ، وفيه محمد بن كثير الكوفي وهو ضعيف .وحديث ابن مسعود أخرجه أبو يعلى (1 / 153) والبزار من حديث علي أيضا ، لكن فيه الربيع بن سهل وهو ضعيف ، وسائر رجاله ثقات .
پہلی بات تو یہ ہےکہ اسکالر موصوف نے جو روایت پیش کی ہے ، وہ السنہ میں نہیں، اور جو روایت امام ابن ابی عاصم نےکتاب السنۃ میں ذکر کی ہے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طریق سے توہے ،لیکن اول تو اس میں صرف مارقین کا ذکر ہے اور خود اسی روایت میں اہل نہروان کوبطور مصدق مارقین کے متعین کیا گیا ہے،لیکن قاسطین اور ناکثین کا ذکر نہیں اور نہ ہی ان کی تعیین کا سؤال پیدا ہوتا ہے ، دوسری بات یہ کہ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے بھی ظلال الجنۃ میں اسی کی تخریج کی ہے اور اس کو صحیح، اسنادہ ضعیف کہا ہےیعنی اس کےاسنادی ضعف کے باوجود تعدد طرق کی وجہ سے صحیح لغیرہ کہا ہے،لہذاجس حدیث کو اسکالر نے پیش کیا ہے وہ پوری روایت ابن ابی عاصم کی السنۃ میں نہیں، اور نہ ہی اس کی البانی یا کسی دوسرے محدث نےاس پوری روایت کی تصحیح کی ہے، لہذا علامہ البانی سمیت دیگر علماء محدثین کی طرف اس کی تصحیح کی نسبت محض خیانت، فریب اور دھوکہ ہے۔
واضح رہے کہ امام عقیلی رحمہ اللہ تعالی کی تحقیق کے حوالے سےعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک بھی اس پوری روایت کا صرف آخری ( خوارج سے متعلق) حصہ صحیح ہے۔
الضعفاء الكبير العقيلي - (ج 3 / ص 51):
قال الاسانيد في هذا الحديث عن علي لينة الطرق والرواية عنه في الحرورية صحيح۔
(۲) طریق علی رضی اللہ عنہ بروایت طبرانی در معجم کبیر واوسط وغیرہ:
یہ طریق متعدد سندوں سےمنقول ہے جن میں سے طبرانی درمعجم اوسط اور مسند ابو یعلی وغیرہ سے دو روایتیں مع سند وکلام کے بعینہ ذیل میں نقل کی جاتی ہیں:
المعجم الأوسط لأبو القاسم الطبراني - (ج 8 / ص 213):
8433 - حدثنا موسى بن أبي حصين قال نا جعفر بن مروان السمري قال نا حفص بن راشد عن يحيى بن سلمة بن كهيل عن أبيه عن أبي صادق عن ربيعة بن ناجد قال سمعت عليا يقول أمرت بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين ۔لم يرو هذا الحديث عن ربيعة بن ناجد إلا سلمة تفرد به ابنه
مسند أبي يعلى لأحمد الموصلي - (ج 1 / ص 397):
519 - حدثنا إسماعيل بن موسى حدثنا الربيع بن سهل عن سعيد بن عبيد عن علي بن ربيعة قال سمعت عليا على منبركم هذا يقول : عهد إلي النبي صلى الله عليه و سلم أن أقاتل الناكثين والقاسطين والمارقين
لیکن اس روایت سے بھی استدلال درست نہیں ، اس لیے کہ علامہ البانی سمیت جملہ حضرات متقدمین نے اس طریق کو اپنی تمام اسانید سمیت ضعیف اور کمزور کہا ہے،چنانچہ امام سیوطی رحمہ اللہ تعالی نے اللآلی المصنوعہ میں امام عقیلی رحمہ اللہ تعالی سے ایسا ہی نقل فرمایا ہے اور امام عقیلی رحمہ اللہ تعالی کاتعدد طرق کے باوجود صحیح یاحسن کا حکم نہ لگانا ان طرق میں شدت ضعف کی واضح دلیل ہےاور ایسی کمزور روایات کسی مسلمان کی جرح کے لیے بھی کافی نہیں،چہ جائیکہ ایسے عظیم صحابہ کرام کی عدالت پر ان سے اعتراض کیا جائے ،جو قطعی نصوص ودلائل سے ثابت ہو۔
دوسری بات یہ ہے کہ سؤال میں مذکور طریق(علی) کےجس روایت میں ناکثین اور قاسطین اور مارقین کی تعیین موجود ہے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول کسی روایت میں نہیں، بلکہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی طریق میں ہے، اور وہ کتاب السنۃ میں نہیں،بلکہ خطیب بغدادی کی تاریخ اورصحیح ابن حبان میں ہے۔اسکالر نے ایک طرف تو السنہ کی طرف غیر متعلقہ روایت کی نسبت کی ،جبکہ دوسری طرف اس میں وہ اضافہ کیا جو اس طریق کا حصہ ہی نہیں، بلکہ طریق ابی ایوب انصاری کا حصہ ہے۔لہذا ذیل میں اس طریق کی روایت پر کلام اور اس سے عدالت معاویہ پر اعتراض کا جائزہ لیا جاتا ہے:
دوم طریق ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ:
۱۔ بروایت خطیب : جس میں حضرت علی کی معیت میں ناکثین،قاسطین اور مارقین کے خلاف جنگ کرنے کاحکم ہونے کے ساتھ ان جماعتوں کے مصداق کی تعیین بھی ہے اور اس میں خود ان کا جنگ صفین میں شرکت کا ذکر بھی ہے۔
۲۔ بروایت ابن حبان و مستدرک حاکم:جس میں صرف حضرت علی کی معیت میں ناکثین،قاسطین اور مارقین کے خلاف جنگ کرنے کا حکم نبوی ہونے کا ذکر ہے۔
۳۔ بروایت طبرانی :
المعجم الكبير الطبراني - (ج 4 / ص 172):
حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا محمد بن الصباح الجرجرائي ثنا محمد بن كثير عن الحارث بن حصيرة عن أبي صادق عن أبي محنف بن سليم قال : أتينا أبا أيوب الأنصاري وهو يعلف خيلا له بصعنبى فقلنا عنده فقلت له : أبا أيوب قاتلت المشركين مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم جئت تقاتل المسلمين قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرني بقتال ثلاثة الناكثين والقاسطين والمارقين فقد قاتلت الناكثين وقاتلت القاسطين وأنا مقاتل إن شاء الله المارقين بالشعفات بالطرقات بالنهراوات وما أدري ما هم ؟
وفی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنور الدين الهيثمي - (ج 6 / ص 353):رواه الطبراني وفيه محمد بن كثير الكوفي وهو ضعيف
سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة - (ج 10 / ص 560):
قلت : حاله شر من ذلك ؛ فقد قال فيه أحمد :"خرقنا حديثه" . وقال ابن المديني :"كتبنا عنه عجائب ، وخططت على حديثه" . وقال البخاري :"منكر الحديث" .والحارث بن حصيرة شيعي مختلف فيه ؛ كما تقدم بيانه تحت الحديث (4886) .ومما سبق ؛ يتبين أنه ليس في هذه الطرق ما يقوي بعضها بعضاً !
فلننظر في الشواهد التي سبقت الإشارة إليها ، وهي مروية عن ابن مسعود ، وعلي ، وأبي سعيد الخدري رضي الله عنهم
۴۔ بروایت مستدرک حاکم:
المستدرك على الصحيحين للحاكم مع تعليقات الذهبي في التلخيص - (ج 4 / ص 237):
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي ثنا الحسن بن علي بن شبيب المعمري ثنا محمد بن حميد ثنا سلمة بن الفضل حدثني أبو زيد الأحول عن عقاب بن ثعلبة حدثني أبو أيوب الأنصاري في خلافة عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب بقتال الناكثين و القاسطين و المارقين۔ وفی تعليق الذهبي قي التلخيص : لم يصح
سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة - (ج 10 / ص 559):
عتاب بن ثعلبة لايعرف ؛ قال الذهبي في ترجمته من "الميزان" :
"عداده في التابعين . روى عنه أبو زيد الأحول حديث : قتال الناكثين . والإسناد مظلم ، والمتن منكر"
وأقره الحافظ في "اللسان" :وسلمة بن الفضل ، ومحمد بن حميد ؛ كلاهما ضعيف .
لیکن اس روایت سے بھی جرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پراستدلال چند وجوہ سے درست نہیں :
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے جس طریق میں (یعنی بروایت خطیب ) ناکثین اور قاسطین اور مارقین کی تعیین موجود ہے، اورجس طریق میں تعیین نہیں( یعنی براویت ابن حبان ) ان دونوں کو کئی کبار معروف ائمہ تخریج حدیث نے بے بنیاد اور منگھڑت قرار دیا ہے ،چنانچہ ابن جوزی نے موضوعات میں پہلے کوموضوع بلاشک اور دوسرے کو اصبغ بن نباتہ اور علی بن حزور(ابن حبان)/ علي بن أبي فاطمة (مستدرک) کی وجہ سے لایصح کہا ہے ۔ وعلي بن أبي فاطمة هو ابن الحزور واه بمرۃ( المغني في الضعفاءللذهبي - (ج 1 / ص 443)اورعلامہ سیوطی رحمہ اللہ تعالی نے بھی ان کی پیروی میں ایسا ہی کہا ہے،البتہ حاکم وغیرہ سے اس کےکچھ شواہد پیش کئے ہیں ،لیکن اولا خود ان شواہد کی سند میں کلام ہے،چنانچہ علامہ ذہبی مستدرک حاکم کی روایت پر تعلق میں لکھتے ہیں کہ : لم يصح، ثانیاان شواہد سے مصداق کی تعیین میں متابعت ثابت نہیں ہوتی،ثالثا شواہد کے بعد بھی اس پوری روایت پر حسن لغیرہ کا حکم نہیں لگایاگیا۔(مزید تفصیل آگے عنوان تیسری بات کے تحت آرہی ہے۔) اسی طرح الفوائد المجموعہ میں علامہ شوكاني رحمہ اللہ تعالی نے بھی دوسری روایت بن حبان ومستدرک کو في إسناده متروكان ، کہا ہےاور العلل المتناهية في الأحاديث الواهية میں بھی اس روایت کو لایصح کہا ہےاور تلخيص كتاب الموضوعات للذهبي میں اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔
واضح رہے کہ لایصح کا مطلب کتب تخریج میں یہ ہوتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں،یعنی محض بے بنیاد اور منگھڑت روایت ہے،نیزواضح رہے کہ ابو ایوب کی روایت موضوع ہونے کے علاوہ معلول بھی ہے، چنانچہ اس میں ابوایوب کے جنگ صفین میں شرکت کا ذکر ہے، حالانکہ ان کا صفین میں جانا ثابت نہیں،بلکہ نہ جانا ثابت ہے۔
قال الیسوطی رحمہ اللہ تعالی فی اللآلي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة:وأبو أيوب لم يشهد صفين
اللآلي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة للسيوطي - (ج 1 / ص 374):
(قلت) له طرق غير هذه أخرجها الحاكم في الأربعين(وقال بعد نقل الطرق 🙂قال العقيلي والأسانيد في هذا الحديث عن علي لينة الطرق( ثم ساق بعض الشواھد للحدیث حکم علی بعضھا بالضعف وسکت علی البعض الاخر و سیاتی حکم الشاھد فیما یاتی ۔من الناقل)
دیگرتین طرق اور ان پر مختصر کلام:
مذکورہ بالا دو طریقوں کے علاوہ دیگر تین طرق(طریق عبد اللہ بن مسعود، طریق عمار، وطریق ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم) بھی ضعف سے خالی نہیں، یہ تینوں طریق طبرانی وغیرہ کے حوالے سے مجمع الزاوئد میں نقل کر کے ان پر کلام کیا گیا ہے:
سوم طریق عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ:
المعجم الكبير الطبراني - (ج 10 / ص 91)
10053 - حدثنا محمد بن هشام المستملي ثنا عبد الرحمن بن صالح ثنا عائذ بن حبيب ثنا بكير بن ربيعة ثنا يزيد بن قيس عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين
المعجم الأوسط لأبو القاسم الطبراني - (ج 9 / ص 165)
9434 - حدثنا هيثم نا محمد بن عبيد المحاربي ثنا الوليد عن أبي عبد الرحمن الحارثي عن مسلم الملائي عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله بن مسعود قال أمر علي بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين لم يرو هذا الحديث عن مسلم إلا أبو عبد الرحمن ولا عن أبي عبد الرحمن إلا الوليد تفرد به محمد بن عبيد
چہارم طریق عمار بن یاسررضی اللہ عنہ: یہ دو سندوں سے طبرانی کبیر اور مسند ابو یعلی میں منقول ہے۔(مجمع الزوائد)
مسند أبي يعلى لأحمد الموصلي - (ج 3 / ص 194):
حدثنا الصلت بن مسعود الجحدري حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا الخليل بن مرة عن القاسم بن سليمان عن أبيه عن جده قال : سمعت عمار بن ياسر يقول أمرت أن أقاتل الناكثين والقاسطين والمارقين
پنجم طریق ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ : یہ طریق حاکم نے اربعین میں نقل فرمایا ہے۔( تنزیہ الشریعہ)
علامہ نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ایسے تمام طرق طبرانی وغیرہ سے نقل کئے ہیں، لیکن کسی کے بارے میں بسند ضعیف، کسی کو فیہ مجھول ،یافیہ متروک،یا فیہ من لم اعرف کہا ہے، چنانچہ عبد اللہ بن مسعود کے طریق کی طبرانی کبیر کی روایت کو فیہ من لم اعرف کہہ کر اورمعجم اوسط کی روایت کو وفيه مسلم بن كيسان الملائي وهو ضعيف کہہ کر ضعیف قرار دیا ہے اور حضرت عماررضی اللہ عنہ کے طریق کے بارے میں رواه الطبراني وأبو سعيد متروك ، ورواه أبو يعلى بإسناد ضعيف کہہ کر تضعیف کی ہے اور تنزیہ الشریعۃ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے طریق کو مستدرک کے حوالے سے بسند ضعیف کہہ کر نقل کیا ہے،جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی سلسلہ الضعیفہ والموضوعۃ میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کے تمام طرق اپنی تمام اسانید کے ساتھ شدید کمزورہیں اور ان میں اکثر راوی شیعہ اور روافض ہیں جن میں اکثر متہم بالوضع بھی ہیں،لہذا کثرت طرق کے باوجود یہ روایت صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتی۔ اسی طرح سل السنان میں بھی اس روایت کے سولہ کے سولہ تمام طرق واسانیدپر شدت ضعف کا حکم لگایا گیاہے۔اورامام عقیلی رحمہ اللہ تعالی کے والأسانيد في هذا الحديث عن علي لينة الطرق کہنے سےبھی اس موقف کی تایید ہوتی ہے،ورنہ کثرت طرق کی وجہ سے حسن لغیرہ ضرور قرار دے دیتے۔
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنور الدين الهيثمي - (ج 6 / ص 352):
وعن عبد الله - يعني ابن مسعود - قال : أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين ۔ رواه الطبراني وفيه من لم أعرفه
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنور الدين الهيثمي - (ج 7 / ص 481):
وعن عبد الله بن مسعود قال : أمر علي بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين ۔ رواه الطبراني في الأوسط وفيه مسلم بن كيسان الملائي وهو ضعيف
وعن أبي سعيد عقيصاء قال : سمعت عمارا ونحن نريد صفين يقول : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين ۔رواه الطبراني وأبو سعيد متروك . ورواه أبو يعلى بإسناد ضعيف
تنزيه الشريعة المرفوعة لأبو الحسن الكناني - (ج 1 / ص 387):
فأخرجه الحاكم فى الأربعين من طريقين وأخرجه من حديث على بلفظ أمرت بقتال ثلاثة فذكره وأخرجه من حديث أبى سعيد الخدرى بسند ضعيف
السلسة الضعيفة لمحمد الألباني - (ج / ص 3):
وبالجملة ؛ فليس في هذه الشواهد ما يشد من عضد الطرف الأول من حديث الترجمة ؛ لشدة ضعفها ، وبعضها أشد ضعفاً من بعض ، لا سيما وفي رواتها كثير من الشيعة والرافضة ، فهم مظنة التهمة ؛ ولو لم يصرح أحد باتهامهم ، فكيف وكثير منهم متهمون بالكذب والوضع ؟!
والحديث ؛ أورده ابن عراق في الفصل الثاني من "تنزيه الشريعة" (1/ 387) ، ولم يستقص طرقه استقصاءنا ، ولا تعرض مطلقاً لبيان عللها ، وإنما ذكر قول العقيلي المتقدم :"وأسانيدها لينة" !
أما ما وجه لينها ، وما نسبة اللين فيها ؛ فهذا كله مما لم يعرج عليه ! فالحمد لله الذي وفقنا للقيام بذلك ، وهو المرجو أن يزيدنا من فضله ؛ إنه سميع مجيب .
سل السنان في الذب عن معاوية بن أبي سفيان - (ج 1 / ص 90):
هذا الحديث جاء من عدة طرق عن علي وأبي أيوب الأنصاري وعمار وابن مسعود وأبي سعيد الخدري رضي الله عنهم أجمعين وكل هذه الطرق لا يصح منها شيء !
تیسری بات یہ ہےکہ اگر بعض صحیح شواہد روایات کی وجہ سے اسے ثابت اور صحیح مان بھی لیا جائے تو بھی جس صحیح روایت سے اس کی متابعت ثابت ہوتی ہے، اس سے صرف اس قدر ثبوت ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں لڑنے والے اجتہادی غلطی پر ہونگے اور حضرت علی جانب بہ حق ہونگےاور یہ بات اہل سنت کے موقف کے عین مطابق ہے ، اس لیے کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اجتہادی غلطی پر سمجھتے ہیں۔
تنزيه الشريعة المرفوعة لأبو الحسن الكناني - (ج 1 / ص 387):
حديث أبى أيوب أمرنا بقتال الناكثين والقاسطين والمارقين مع على ( حب ) وفيه أصبغ بن نباتة وعنه على بن الحزور شيعى متروك ( تعقب ) بأن له طرقا أخرى غير هذه فأخرجه الحاكم فى الأربعين من طريقين وأخرجه من حديث على بلفظ أمرت بقتال ثلاثة فذكره وأخرجه من حديث أبى سعيد الخدرى بسند ضعيف ومن حديث ابن مسعود وكذا الطبرانى من طريقين وأخرجه أبو يعلى والخطيب والحافظ عبد الغنى فى إيضاح الاشكال من حديث على قال العقيلى وأسانيدها لينة وأخرجه الطبرانى من حديث عمار ( قلت ) وأخرج الحاكم فى الأربعين شاهدا له من حديث أبى سعيد سمعت رسول الله يقول إن منكم من يقاتل على تأويل القرآن كما قاتلت على تنزيله قال أبو بكر أنا هو يا رسول الله قال لا قال عمر أنا هو يا رسول الله قال لا ولكن خاصف النعل قال وكان أعطى عليا نعله يخصفها قال الحاكم صحيح على شرط الشيخين والله أعلم
چوتھی اورآخری بات یہ ہے کہ اگر اس روایت کوتعدد طرق کی وجہ سے صحیح یا حسن مان بھی لیا جائے تو بھی اس سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت مجروح نہیں ہوتی، اس لیے کہ کسی بھی مرفوع ضعیف روایت میں اہل شام وغیرہ کے مصداقات کی تصریح نہیں،(بلکہ موضوع روایت میں اس کا ذکر ہے۔) لہذا اس کو اہل شام پر منطبق کرنا ان حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاایک اجتہادی معاملہ وتطبیق ہے ، جس کا خود صریح نص حدیث سے کوئی تعلق نہیں،بالخصوص جبکہ حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما تو عشرہ مبشرہ میں سے بھی ہیں،لہذا بفرض صحت روایت بھی یہ حدیث عدالت بعض صحابہ مثل حضرت معاویہ وغیرہ رضی اللہ عنہم کے مجروحیت کی دلیل نہیں بنتی۔لان المجتھد ان اصاب فلہ اجران وان اخطا فلہ اجر واحد۔
اوراس دعوی کی تاییدوتصدیق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ان آثار سے بھی ہوتی ہے جن میں انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت کے کفر اور نفاق کا واضح انکار کیا اور صرف اجتہادی نوعیت کی غلطی پر تنبیہ کی اورچونکہ مجتہد پر اپنے اجتہاد پر عمل لازم ہوتا ہے ،لہذا اس بنیاد پر انہوں نے ان کی طرف (متنازع اور مجتہد فیہ) بغاوت کی نسبت کی ہے اور اس پر عملی اقدام بھی کیا۔ جس کی دلیل ان کا یہ کہنا ہے کہ قتلنا فی الجنۃ و قتلی ھم فی الجنۃ۔
حوالہ جات
تعظيم قدر الصلاة لمحمد المروزي - (ج 2 / ص 543):
وقد ولى علي بن أبي طالب رضي الله عنه قتال أهل البغي وروى عن النبي صلى الله عليه و سلم فيهم ما روى وسماهم مؤمنين وحكم فيهم بأحكام المؤمنين وكذلك عمار بن ياسر
591 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم أنا يحيى بن آدم ثنا مفضل بن مهلهل عن الشيباني عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال كنت عند علي حين فرغ من قتال أهل النهروان فقيل له أمشركون هم قال من الشرك فروا فقيل منافقون قال المنافقون لا يذكرون الله إلا قليلا قيل فما هم قال قوم بغوا علينا فقاتلناهم
592 - حدثنا إسحاق أنا وكيع عن مسعر عن عامر بن شقيق عن أبي وائل قال قال رجل من دعا إلى البغلة الشهباء يوم قتل المشركين فقال علي من الشرك فروا قال المنافقون قال إن المنافقين لا يذكرون الله إلا قليلا قال فما هم قال قوم بغوا علينا فقاتلناهم فنصرنا عليهم
593 - وحدثنا وكيع ثنا ابن أبي خالد عن حكيم بن جابر قال قالوا لعلي حين قتل أهل النهروان أمشركون هم قال من الشرك فروا قيل فمنافقون قال المنافقون لا يذكرون الله إلا قليلا قيل فما هم قال قوم حاربونا فحاربناهم وقاتلونا فقاتلناهم
594 - حدثنا إسحاق أنا أبو نعيم ثنا سفيان عن جعفر بن محمد عن أبيه قال سمع علي يوم الجمل أو يوم صفين رجلا يغلو في القول فقال لا تقولوا إنما هم قوم زعموا أنا بغينا عليهم وزعمنا أنهم بغوا علينا فقاتلناهم فذكر لأبي جعفر أنه أخذ منهم السلاح فقال ما كان أغناه عن ذلك
595 - حدثنا محمد بن يحيى ثنا أحمد بن خالد ثنا محمد بن راشد عن مكحول أن أصحاب علي سألوه عن من قتل من أصحاب معاوية ما هم قال هم المؤمنون
596 - حدثنا محمد بن يحيى ثنا أحمد بن خالد ثنا عبدالعزيز ابن عبدالله بن أبي سلمة عن عبد الواحد بن أبي عون قال مر علي وهو متكيء على الأشتر على قتلى صفين فإذا حابس اليماني مقتول فقال الأشتر إنا لله وإنا إليه راجعون حابس اليماني معهم يا أمير المؤمنين عليه علامة معاوية أما والله لقد عهدته مؤمنا فقال علي والآن هو مؤمن قال وكان حابس رجلا من أهل اليمن من أهل العبادة والاجتهاد۔
تلخيص كتاب الموضوعات للذهبي - (ج 1 / ص 123):
حديث علي بن المثنى الكوفي ثنا يعقوب بن خليفة عن صالح بن أبي الأسود عن علي ابن الحزور عن أصبغ بن نباتة عن أبي أيوب قال أمرنا بقتال الناكثينوالقاسطين والمارقين
قلت لم يرو لأحد من الصحابة في الفضائل أكثر مما روي لعلي -عليه السلام- لكنها ثلاثة أقسام قسم صحاح وحسان وقسم ضعاف وواهيات وفيها كثرة وقسم أباطيل وموضوعات وهي كثيرة إلی الغاية لعل بعضها ضلال وزندقة قاتل الله من افتراها وغالب ما هنا من القسم الثالث
المستدرك على الصحيحين للحاكم مع تعليقات الذهبي في التلخيص - (ج 4 / ص 237):
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي ثنا الحسن بن علي بن شبيب المعمري ثنا محمد بن حميد ثنا سلمة بن الفضل حدثني أبو زيد الأحول عن عقاب بن ثعلبة حدثني أبو أيوب الأنصاري في خلافة عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب بقتال الناكثين و القاسطين و المارقين
تعليق الذهبي قي التلخيص : لم يصح
كتاب تنبيه الهاجد للحويني - (ج 2 / ص 344):
و أخرج البزار (774- البحر ) قال : حدثنا عباد بن يعقوب ، قال : نا الربيع بن سعد ، قال نا سعيد ابن عبيد عن علي بن ربيعة عن علي قال : عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم في قتال الناكثين والقاسطين والمارقين .
قال البزار :
" وهذا الحديث لا نعلمه يروى من حديث علي بن ربيعة عن علي إلا بهذا الإسناد ، ولم نسمعه إلا من عباد بن يعقوب " .
قلت : رضى الله عنك !
فقد توبع عباد بن يعقوب ، تابعه اسماعيل بن موسي ، قال : حدثنا الربيع ابن سعد بسنده سواء .
أخرجه أبو يعلى فى " مسنده " ( ج 1/رقم 519 ) و العقيلى فى " الضعفاء " ( 2 / 51 ) و قال : " الأسانيد فى هذا الحديث عن على لينة الطرق ، و الرواية عنه فى الحرورية صحيحة " أهـ .
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنور الدين الهيثمي - (ج 5 / ص 338):
وعن علي بن ربيعة قال : سمعت عليا على منبركم هذا يقول : عهد إلي النبي صلى الله عليه و سلم أن أقاتل الناكثين والقاسطين والمارقين
رواه أبو يعلى وفيه الربيع بن سهل ولم أعرفه وبقية رجاله ثقات
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنور الدين الهيثمي - (ج 6 / ص 353):
وعن محنف بن سليم قال : أتينا أبا أيوب الأنصاري وهو يعلف خيلا له بصنعاء فقلنا عنده فقلت له : يا أبا أيوب قاتلت المشركين مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم جئت تقاتل المسلمين قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرني بقتال ثلاثة : الناكثين والقاسطين والمارقين فقد قاتلت الناكثين وقاتلت القاسطين وأنا مقاتل إن شاء الله المارقين بالتسعفات بالطرقات بالنهروانات وما أدري أين هم ؟
رواه الطبراني وفيه محمد بن كثير الكوفي وهو ضعيف
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۹ ربیع الاول۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


