| 88571 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمہ اللہ و برکاته!
1۔ میرا نام ............. ولد .................. ہے ،میری شادی 2000میں ہوئی ہے،لیکن اولاد کی نعمت اللہ تعالی نے نہیں دی ہے،ہم نے بہن کی بیٹی گود لی ہے 2003میں،صبر نہیں کیا، گود لے کر پرورش کرنا اچھی بات ہے،مگر اسے اپنے نام دے کر گناہ کاکام کیا ہے،اب جبکہ علم ہوا تو بڑا دکھ ہواہے،میں اللہ تعالی سے رجوع کرکے اپنے گناہ پر استغفار کررہاہوں،زندگی بھر کرتارہوں گا،اب بیٹی کی شادی14/11/2025 میں قرار پائی ہے ،میں نکاح نامہ میں اس کا نسب تحریری طور پر لکھوانا چاہ رہاہوں،میری بیٹی کے تمام ڈاکومنٹس اور شناختی کارڈ سب کے سب میرے نام ہیں،آپ سے عرض ہے کہ جناب اس کاحل کیا ہے؟اور شرعی اعتبار سے میری راہنمائی فرمائیں۔
2۔ نادرا سے ڈاکومنٹس میں تبدیلی کروانا مشکل ہے اور بہت ٹائم لگ جاتاہے،جبکہ شادی 14 نومبر کو ہے،تو اگر نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب لڑکی کا نام اصل ولدیت کے ساتھ لے کر نکاح پڑھالیں،جبکہ ڈاکومنٹس میں ہم تبدیلی نہ کرائیں تو ایسا شرعا درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ڈاکومنٹس میں والد کی جگہ حقیقی والد کا نام لکھوانے کےلیے اپنی کوشش جاری رکھیں،اگر یہ مشکل ہوتو کم از کم اپنا نام والد کے بجائے سرپرست کے طور پر لکھوالیں۔
2۔نکاح کے صحیح ہونے کے لئے ایجاب و قبول کے وقت لڑکی کا اتنا تعارف کافی ہے جس سے گواہوں کو اس کے متعلق معلوم ہوجائے،لہذا مذکورہ صورت میں جب نکاح کے موقع پر موجود گواہ اس لڑکی کے نام سے اسے جانتے ہوں،حقیقی والد کانام بھی لیاجائے، تو یہ کافی ہے،باقی نکاح نامے میں غیر حقیقی والد کا نام نہ لکھا جائے،تاہم اگر کسی نے پردہ پوشی کے لئے لکھ لیا تو اس سے نکاح کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
حوالہ جات
"صفوة التفاسير" (2/ 470):
"ثم أمر تعالى بردّ نسب هؤلاء إلى آبائهم فقال: {ادعوهم لآبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ﷲ} أي انسبوا هؤلاء الذين جعلتموهم لكم أبناء لآبائهم الأصلاء {هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ﷲ} أي هو أعدلُ وأقسط في حكم ﷲ وشرعه .
قال ابن جرير: أي دعاؤكم إياهم لآبائهم هو أعدل عند ﷲ وأصدقُ وأصوب من دعائكم إياهم لغير آبائهم .{فَإِن لَّمْ تعلموا آبَاءَهُمْ فَإِخوَانُكُمْ فِي الدين} أي فإن لم تعرفوا آباءهم الأصلاء فتنسبوهم إليهم فهم إخوانكم في الإسلام {وَمَوَالِيكُمْ} أي أولياؤكم في الدين، فليقل أحدكم: يا أخي! ويا مولاي! يقصد أخوَّة الدين وولايته. قال ابن كثير: أمر تعالى بردّ أنساب الأدعياء إلى آبائهم إن عُرفوا، فإن لم يُعرفوا فهم إخوانهم في الدين ومواليهم، عوضاً عما فاتهم من النسب، ولهذا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لزید بن حارثة: «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا». وقال ابن عمر: ما كنا ندعو «زيد ابن حارثة» إلا زيد بن محمد، حتى نزلت {ادعوهم لآبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ﷲ} {وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَآ أَخْطَأْتُمْ بِهِ} أي وليس عليكم أيها المؤمنون! ذنبٌ أو إثم فيمن نسبتموهم إلى غير آبائهم خطأً .{ولكن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ} أي ولكنَّ الإثم فيما تقصدتم وتعمدتم نسبته إلى غير أبيه".
"رد المحتار"(3/ 15):
"(قوله: ولا المنكوحة مجهولة) فلو زوج بنته منه وله بنتان لا يصح إلا إذا كانت إحداهما متزوجة، فينصرف إلى الفارغة كما في البزازية نهر، وفي معناه ما إذا كانت إحداهما محرمة عليه فليراجع رحمتي وإطلاق قوله لا يصح دال على عدم الصحة، ولو جرت مقدمات الخطبة على واحدة منهما بعينها لتتميز المنكوحة عند الشهود فإنه لا بد منه رملي.
قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي
واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها كما إذا كانت إحداهما متزوجة، ويؤيده ما سيأتي من أنها لو كانت غائبة وزوجها وكيلها فإن عرفها الشهود وعلموا أنه أرادها كفى ذكر اسمها، وإلا لا بد من ذكر الأب والجد أيضا"
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
29/ ربیع الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


