03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگر معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اس کوقتل کرڈالو۔ کیا یہ صحیح حدیث ہے؟
88713ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

(گیارہویں روایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ) اور ایک حدیث میں ہے کہ  إذا رأيتم معاویۃ  علی منبری فاقتلوہ  متعدد سندوں سے یہ روایت منقول ہے۔حضرت ابو سعید خدری،حضرت سہل ابن حنیف، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبد الرحمان بن سہل انصاری، حضرت ابو لیلی  انصاری، حضرت محمود ابن لبید، حضرت انس بن مالک، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابو ذر غفاری اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہم سے یہ روایت منقول ہے۔اور اس کی سندیں صحیح اور حسن ہیں اور اسی لیے حضرت علی معاویہ کو طاغیۃیعنی طاغوت کہتے تھے اور حضرت حسن کو جب  ان کی دفات کی خبر ملی تو فرمایا مات ھذ الطاغوت، اس لیے کہ اس طاغوت نے امت پر دوسرا طاغوت مسلط کیا تھا، جو نماز نہیں پڑھتا تھا اور شراب پیتا تھا ،جو اپنی ستیلی ماؤں اور  بہنوں سے زنا کرتا تھا۔

سؤال: کیا یہ روایات اور باتیں صحیح ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  سب سے پہلے اول الذکر روایت ملاحظہ ہو۔

الكامل لابن عدي - (ج 2 / ص 209):

أخبرنا علي بن العباس ثنا عباد بن يعقوب ثنا الحكم بن ظهير عن عاصم عن زر عن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه

امام بخاري  نے تاريخ أوسط  میں نقل فرمایا ہے کہ امام ابوبکر ابن عیاش  رحمہ اللہ تعالی  امام اعمش رحمہ اللہ تعالی   سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم  اللہ سے ان باتوں کی روایتوں کی معافی طلب کرتے ہیں جن روایتوں اور باتوں کو ہم نے بطور تعجب کے نقل کیا کہ یہ  بات کیونکر ممکن ہوسکتی ہے؟ جبکہ آگے چل کر لوگوں نے اسے ایک نظریہ اور مذہب بناکر اختیار کرلیا،یعنی  اس قسم کی روایت کو بیان کرنے سے  ہمارا مقصد  یہ تھا کہ  اگر  مثلایہ حدیث صحیح ہوتی تو حضرت  معاویہ  رضی اللہ عنہ کو منبر رسول پر دیکھنے والے  صحابہ وتابعین اس حکم نبوی پر ضرور عمل کرتے، ورنہ تمام صحابہ  اورتا بعین کا خائن یا مرتد ہونا لازم آتا ہے، لہذاان   بے ہودہ باتوں کوحدیث رسول صلی  اللہ  علیہ وسلم یا قول صحابی  سمجھنا یا اس  طور پر بیان کرنا مسلمہ حقائق  کے منافی ہونے کے باعث ناجائز اور گناہ ہے،بلکہ ایمان کےلیے خطرناک  بھی ہے۔

 سؤال میں پیش کردہ روایت بھی اسی قبیل سے اورباجماع محدثین موضوع اور منگھڑت  ہے ،لہذا اس روایت کا صرف کا مل ابن عدی میں ہونا ہی اس کے غیر معتبر ہونے کی ایک بڑی اور مستقل دلیل ہے، اس کے علاوہ تقریبا تمام ائمہ جرح و تعدیل  اور ائمہ تخریج  احادیث نےبھی اس حدیث کوواضح الفاظ  میں بالاتفاق   باطل اور بے بنیاد کہا ہے، چنانچہ امام سیوطی رحمہ اللہ تعالی  نے "اللآلىء" میں اور ابن عدی رحمہ اللہ تعالی   نے الكامل (5/101) میں ا ورامام عقيلي رحمہ اللہ تعالی  نے الضعفاء (3/997) میں اورابن حبان رحمہ اللہ تعالی   نے  مجروحین   میں،امام خطيب بغدادی رحمہ اللہ تعالی   نے اپنی تاريخ کی کتاب کے (12/181)  پراورامام ابن الجوزي رحمہ اللہ تعالی نے الموضوعات (2/266) پراورامام ابن عساكررحمہ اللہ تعالی نےتاريخ دمشق  کے(59/157) پر اورعلامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی   نے منہاج السنۃ النبویہ  میں، علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی   نے البدایہ والنہایہ  میں اورعلامہ ذہبی رحمہ اللہ تعالی   نے سیر اعلام النبلاء میں اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی   نے السلسة الضعيفة میں اس روایت کو تمام طرق  واسانید سمیت  منگھڑت  اوربے بنیاد قرار دیا ہے۔(مزید تفصیل کے لیے سل السنان في الذب عن معاوية بن أبي سفيان - (ج 1 / ص 112) ملاحظہ ہو۔)

اس  روایت کے علاوہ سؤال میں   دیگر   تمام باتیں  بھی    بلاسندروافض کی  منگھڑت  روایات  اور تاریخی افسانےہیں،  جن کا کتب صحاح  اور دیگر مستند کتب حدیث اور تاریخ  میں کوئی وجود نہیں ،بلکہ سؤال میں  اسکالر موصوف کی طرف  سےحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  کے بارے میں منقول باتوں میں بعض باتیں  تونصوص قطعیہ  کی مخالفت   کے علاوہ   تاریخی مسلمہ حقائق کے  بھی خلاف ہیں،چنانچہ   اگرحضرت حسن رضی اللہ عنہ انہیں طاغوت مانتے تھے تو پھر ان کی خلافت کیوں تسلیم کی؟ اور ان کے ہاتھ پر بیعت کیوں کی؟ اور ان سے  بہت بڑی مالی امداد سالانہ کیوں لیتے تھے؟ کیا اس  جھوٹی بات کو ثابت ماننے سے  حضرت حسن رضی عنہ کا خائن اور منافق ہونا لازم نہیں  آتا؟ واللازم باطل فالملزوم کذالک

اسی طرح یزید کے بارے میں اس کا مسلمان ہونا متفق علیہ اوراجمالا فاسق ہونا بھی مشہور ہے ،لیکن محض اس بنیاد پر تاریخی روایات کے سہارے  ان پر شرب خمر اور زنا کی نسبت کرنا بغیر کسی شرعی  گواہی کے کیونکر جائز ہوگا؟ کیا یہ قرآنی حکم کی صریح مخالفت نہیں؟ کیا فقہ جعفری سمیت کسی بھی  مسلمہ فقہ میں اس کا شرعی جواز ہے؟کیا اس طرح کہنے والا خود عند اللہ حد قذف کا  مستحق نہیں  بنتا؟ھاتو برھانکم ان کنتم صادقین

اسی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یزید کو خلیفہ بنانا بھی ایک اجتہادی معاملہ تھا،جس میں انہوں نے جان بوجھ کر    کوتاہی نہیں کی، اس لیے کہ ان کے دور خلافت میں  امت مسلمہ  کے لیے جس قدر عظیم اقدامات  ہوئے تھے ان کے تسلسل کے لیے انہیں اپنا بیٹا ہی موزوں نظر آیا تھا، اورعین ممکن ہے کہ اس وقت تک ان کی کوئی  عملی کوتاہی    حضرت معاویہ رضی اللہ  عنہ  پر ظاہر نہ ہوئی ہو،لہذا اس کو ایک منصبی خیانت کے انداز میں پیش کرنا بجائے خود ایک بڑی علمی خیانت  اور دجل وفریب ہے۔

حوالہ جات

الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة للشوكاني - (ج 1 / ص 407):

حديث إذا رأيتم معاوية يخطب على منبري فاقتلوه رواه ابن عدي عن ابن مسعود مرفوعا وهو موضوع وفي إسناده عباد بن يعقوب وهو رافضي وآخر كذاب وقال العقيلي لا يصح في هذا المتن شيء وقد رواه الخطيب عن جابر مرفوعا بلفظ فاقبلوه بالباء الموحدة وزاد فإنه أمين مأمون وأكثر إسناده مجاهيل كما قال الخطيب وقال ابن عدي هذا اللفظ مع بطلانه قد قرئ بالباء الموحدة ولا يصح أيضا

السلسة الضعيفة لمحمد الألباني - (ج  / ص 2):

وقال السيوطي في "اللآلىء" - بعد قول الخطيب المتقدم - :

"قلت : قال ابن عدي : هذا اللفظ - مع بطلانه - قد قرىء أيضاً بالباء الموحدة ، ولا يصح أيضاً ، وهو أقرب إلى العقل ؛ فإن الأمة رأوه يخطب على منبر رسول الله صلي الله عليه وسلم ، ولم ينكروا ذلك عليه . ولا يجوز أن يقال : إن الصحابة ارتدت بعد نبيها صلي الله عليه وسلم وخالفت أمره ، نعوذ بالله من الخذلان والكذب على نبيه !" .

قلت : وهذا الحديث مما اعتمده الشيعي في "المراجعات" في حاشية (ص 89) في الطعن على معاوية ، مشيراً بالطعن على من أشار إلى استنكاره من أهل السنة ، متجاهلاً ما يستلزمه الاعتماد عليه من الطعن بكل الصحابة الذين رأوا معاوية يخطب على منبره صلي الله عليه وسلم ، فنعوذ بالله تعالى من الهوى والخذلان !!

سل السنان في الذب عن معاوية بن أبي سفيان - (ج 1 / ص 72):

1- البخاري في التاريخ الأوسط (71) قال رحمه الله : « وروى حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي نضرة أن معاوية لما خطب على المنبر فقام رجل فقال قال ورفعه إذا رأيتموه على المنبر فاقتلوه وقال آخر اكتبوا إلى عمر فكتبوا فإذا عمر قد قتل وهذا مرسل لم يشهد أبو نضرة تلك الأيام وقال عبدالرزاق عن بن عيينة عن علي بن زيد عن أبي سعيد رفعه وهذا مدخول لم يثبت ورواه مجالد عن أبي الوداك عن أبي سعيد رفعه وهذا واه قال أحمد أحاديث مجالد كلها حلم وقال يحيى بن سعيد لو شئت لجعلها كلها عن الشعبي عن مسروق عن عبدالله ويروى عن معمر عن بن طاوس عن أبيه عن رجل عن عبدالله بن عمرو رفعه في قصته وهذا منقطع لا يعتمد عليه وروى الأعمش عن سالم عن ثوبان رفعه في قصته وسالم لم يسمع من ثوبان والأعمش لا يدري سمع هذا من سالم أم لا ؟!

قال أبو بكر بن عياش عن الأعمش أنه قال : نستغفر الله من أشياء كنا نرويها على وجه التعجب اتخذوها ديناً وقد أدرك أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم معاوية أميراً في زمان عمر وبعد ذلك عشر سنين فلم يقم إليه أحد فيقتله قال البخاري : وهذا مما يدل على هذه الأحاديث أن ليس لها أصول ولا يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم خبره على هذا النحو في أحد أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إنما يقوله أهل الضعف بعضهم في بعض إلا ما يذكر أنهم ذكروا في الجاهلية ثم اسلموا فمحا الإسلام ما كان قبله » .

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29 ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب