03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) نے 36 منافقین میں معاویہ کو بھی مسجد نبوی سے نکالا تھا؟
88720ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

 (اٹھارویں روایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ) حضرت مسعود بدری صحابی کی روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 36 افراد کو مسجد نبوی سے نکلنے کا حکم دیا تھا اور امام احمد بن حنبل نےیہ روایت اپنی مسند میں ذکر کی ہے جلد نمبر 5 ص273 اورطبرانی کی معجم کبیرج17،س176 میں حضرت عاصم لیثی کی روایت میں حضرت معاویہ کی طرف  صاف اشارہ موجود  ہے۔ سؤال: کیا یہ روایت ثابت ہے  اور اس سے یہ استدلال درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 مسند احمد سےاصل روایت  نقل کرنےکئےجانے کے بعد جواب ملاحظہ ہو۔

مسند أحمد لأحمد بن حنبل - (ج 9 / ص 50):

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا وكيع ثنا سفيان عن سلمة عن عياض بن عياض عن أبيه عن أبي مسعود قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبة فحمد الله وأثنى عليه ثم قال ان فيكم منافقين فمن سميت فليقم ثم قال قم يا فلان قم يا فلان قم يا فلان حتى سمى ستة وثلاثين رجلا ثم قال ان فيكم أو منكم فاتقوا الله قال فمر عمر على رجل ممن سمى مقنع قد كان يعرفه قال مالك قال فحدثه بما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال بعدا لك سائر اليوم۔

 ایسی کوئی روایت محولہ کتب میں دستیاب نہیں، جس میں  حضرت معاویہ یاابوسفیان رضی اللہ عنہما کو مسجد سے نکالے جانےکی تصریح ہو یاصرف اشارہ ہو، یہ صریح جھوٹ ہے ،اگر ان منافقین میں  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ہوتے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بالخصوص اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انہیں اپنے دور خلاف میں  گورنر شام نہ بناتے ۔اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ انکی خلافت کو تسلیم نہ کرتے. باقی   مسنداحمداور طبرانی کی روایت سے اعتراض اس لیے درست نہیں کہ:

 پہلی بات تو یہ کہ  اس  روایت کی سند   مجہول رواۃ پر مشتمل ہونےکی وجہ سے  ضعیف  ہے۔چنانچہ علامہ ہیثمی  رحمہ اللہ تعالی کے علاوہ شیخ شعیب ارنؤوط نے بھی اس پر ضعف کا حکم لگا یا ہے۔

دوسری باتیہ کہ اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ   عنہ کا  نہ توذکر ہے اور نہ ہی محدثین کے مطابق اس میں مذکور کسی فرد سے حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔

تیسری بات  یہ کہ  اگربالفرض اگر اس سے مراد معاویہ    نامی شخص مراد ہونا    کسی روایت یا کسی  محدث کے تصریح سے ثابت ہوبھی جائے تو اس کا مصداق حضرت معاویہ بن ابو سفیان    رضی اللہ عنہما نہیں ہونگے، بلکہ اس نام کا منافق  مراد ہوگا، جیساکہ اسی سلسلہ سؤالات میں ایک روایت گزری ہے  جس  میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دو شخصوں کے گاتے ہوئے پایا تو انہیں ان الفاظ سے بد دعاء دی تھی اللہم ارکسھما  فی الفتنۃ  رکسا ودعھما الی النار دعا،جن    سے حضرت معاویہ اور عمر و بن عاص مراد  ہونے کاشبہ بعض روایات سے پیدا ہوتا تھا،لیکن  محدثین محققین کی تحقیق کے مطابق دیگر روایات کی تصریح کے مطابق اس سے مراد  معاویہ  اور عمر بن رفاعہ  نامی منافقین مراد  ت ہیں،نہ کہ معروف صحابہ مراد ہیں۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29 /ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب