03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا حضور(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے منافقین کی فہرست میں معاویہ اور ابو سفیان کو نام لے کر مسجد سے نکالا تھا؟
88719ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

 (سترھویں روایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ) اور جب یہ آیت یاایھاالنبی جاھدالکفار نازل ہوئی تھی تو غزوہ تبوک سے واپسی پر ایک جمعہ میں ان منافقین پر سختی کا اظہار فرمایا اور نام لےلے کر ان کو مسجد سے نکالا اوروہ منہ چھپا چھپا کر مسجد سے باہر گئے، حوالہ تفسیر کبیر ج10ص62، 1اور طبقات سعد ج1ص،176طبرانی کی اوسط ج2ص303،اور دیگر روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے جن لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےمسجد سے نکلوایا ان میں ابو سفیان اور معاویہ بھی تھے۔

سؤال:   کیا یہ بات اور روایت حقیقت کے مطابق ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پہلےاصل روایت  نقل کی جاتی ہے، اس کے بعد جواب ملاحظہ ہو۔

المعجم الأوسط لأبو القاسم الطبراني - (ج 1 / ص 241)

 792 - حدثنا أحمد بن يحيى الحلواني قال حدثنا الحسين بن محمد بن عمرو العنقري قال حدثنا أبي قال حدثنا أسباط بن نصر عن السدي عن أبي مالك عن بن عباس في قوله { وممن حولكم من الأعراب منافقون ومن أهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذبهم مرتين ثم يردون إلى عذاب عظيم } قال قام رسول الله يوم جمعة خطيبا فقال قم يا فلان فاخرج فإنك منافق اخرج يا فلان فإنك منافق فأخرجهم بأسمائهم ففضحهم ولم يكن عمر بن الخطاب شهد تلك الجمعة لحاجة كانت له فلقيهم عمر وهم يخرجون من المسجد فاختبأ منهم أستحياء أنه لم يشهد الجمعة وظن الناس قد انصرفوا واختبئوا هم من عمر فظنوا أنه قد علم بأمرهم فدخل عمر المسجد فإذا الناس لم ينصرفوا فقال له رجل أبشر يا عمر فقد فضح الله المنافقين اليوم فهذا العذاب الأول والعذاب الثاني عذاب القبر لم يرو هذا الحديث عن السدي إلا أسباط بن نصر

اس روایت سے مذکورہ بالا بیان پر استدلال قطعا درست نہیں:

اولا :تو یہ روایت سدی کی ہے جو متفقہ طور پر غیر معتبر راوی ہے۔

 ثانیا :اس میں ان سے أسباط بن نصر متفرد ہیں۔

 ثالثا :اگر اس روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے تو بھی اس میں کوئی ایک بھی لفظ ایسا نہیں ،جس  سے اشارہ کے حد تک  بھی   حضرت ابو سفیان  یا معاویہ رضی اللہ عنہما کی تعیین ہوتی ہو،بلکہ  ہمیں تو اس میں واضح اور صاف اشارہ ملتا ہے کہ  اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ قطعا داخل نہیں اور وہ یہ ہےکہ اس روایت میں عمر رضی اللہ عنہ کا اس شخص کو دیکھنا اور دیگر صحابہ سے اس کے بارے میں دربار رسالت سے منافقت  کا پروانہ ملنے کی تصدیق کے باوجود عمر رضی اللہ عنہ کا  اپنے دور میں حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ کو گورنر بنانا دلیل ہے کہ وہ ان میں شامل نہ تھے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

29/ ربیع الاول1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب