| 88561 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
پیپل مسجد محمد زئی کے ساتھ حکومت کا ایک سرکاری پٹوار خانہ تھا، جس کو اہلِ محلہ نے تمام کارروائی مکمل کر کے پٹوار خانے کے بدلے نیا پٹوار خانہ تعمیر کیا اور حکومت کے حوالے کیا۔ زمین اور پٹوار خانے کی تعمیر پر جتنا خرچ آیا وہ اہلِ محلہ نے پورا کیا، اور ساتھ ہی حکومت وقت کے حکم پر C\&W محکمہ کے نقشہ کے مطابق پٹوار خانہ تعمیر کروا کر حکومت کے حوالے کیا۔ اس پر اہلِ محلہ کا تقریباً 41 لاکھ روپے خرچ ہوا۔ نیا پٹوار خانہ مکمل ہونے کے بعد پرانا پٹوار خانہ کی زمین مسجد کے لئے وقف کر دی گئی۔اب اس پٹوار خانے اور مسجدِ وقف کے ساتھ ایک گھر ہے، جس میں چند بنات سبق پڑھتی ہیں۔مسجدِ وقف اور گھرانے کے درمیان ایک تیسرے شخص کی زمین ہے۔ اس گھر والے کا اپنا راستہ ہے، یہ عام راستہ نہیں بلکہ اسی گھر کا ذاتی راستہ ہے، جو اندازاً 5 فٹ چوڑا ہے اور اس راستے سے اس گھر والے کا کام چلتا ہے۔اب یہ گھر والا مسجدِ وقف کی زمین میں اپنے گھر کے لئے مزید راستہ مانگ رہا ہے۔ ہم اہلِ محلہ (وقف مسجد والے) آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آیا ہم اس گھر والے کو وقف مسجد کی زمین میں راستہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسجد کی زمین ہمیشہ مسجد ہی رہے گی۔ اس میں سے ذاتی راستہ دینا یا کسی دوسرے مقصد کے لئے اسے مسجد سے نکالنا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا اہلِ محلہ مسجد کی اس وقف شدہ زمین کو راستہ بنانے کے لئے نہیں دے سکتے، یہ جگہ مسجد ہی رہے گی۔ لہذامتعلقہ گھر والے کو اپنے موجودہ راستے پر اکتفا کرنا ہوگا یا قریب میں اہل محلہ میں سے کسی کی زمین ہوتوہ اپنی ذاتی زمین سے اس کے لئے کوئی سہولت پیدا کرے۔مسجد کی زمین بہرحال راستے کےلیے اسے نہیں دی جاسکتی ۔
حوالہ جات
الدر المختار - (4 / 377)
(جعل شيء) أي جعل الباني شيئا (من الطريق مسجدا) لضيقه ولم يضر بالمارين (جاز) لأنهما للمسلمين (كعكسه) أي كجواز عكسه وهو ما إذا جعل في المسجد ممر لتعارف أهل الأمصار في الجوامع.
رد المحتار - (4 / 378)
(قوله: كعكسه) فيه خلاف كما يأتي تحريره وهذا عند الاحتياج كما قيده في الفتح فافهم (قوله: لتعارف أهل الأمصار في الجوامع) لا نعلم ذلك في جوامعنا.نعم تعارف الناس المرور في مسجد له بابان، وقد قال في البحر وكذا يكره أن يتخذ المسجد طريقا، وأن يدخله بلا طهارة اهـ. نعم يوجد في أطراف صحن الجوامع رواقات مسقوفة للمشي فيها وقت المطر ونحوه لأجل الصلاة أو للخروج من الجامع لا لمرور المارين مطلقا كالطريق العام، ولعل هذا هو المراد فمن كان له حاجة إلى المرور في المسجد يمر في ذلك الموضع فقط ليكون بعيدا عن المصلين؛ وليكون أعظم حرمة لمحل الصلاة فتأمل.
الدر المختار - (4 / 358)
(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي
وفي رد المحتار (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي، وأكثر المشايخ عليه مجتبى وهو الأوجه فتح. اهـ. بحر
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
29/03/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


