03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نقد اور قسطوں پر خرید و فروخت کی شرائط
88601خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرا کام برلاس الیکٹرونکس کے نام سے ہے۔ میں گھریلو اشیاء جیسے:موبائل فونز،موٹر سائیکل،سیف الماری،فریج،اوون،اے سی وغیرہ کسٹمر کو دو طریقوں سے دیتا ہوں:

نقد خرید وفروخت:اگر کسٹمر نقد خریداری کرے تو ہم مارکیٹ سے چیز خرید کر کے یا جو ہمارے پاس موجود ہو، مناسب منافع رکھ کر فوری اسے سیل کر دیتے ہیں۔اگر اس پروڈکٹ پر وارنٹی یا کلیم ہو تو کمپنی کی پالیسی کے مطابق کسٹمر کو وہ کلیم بھی کروا دیا جاتا ہے۔

قسطوں پر سیل (Installments):

کچھ چیزیں جیسے فریج، اوون، واشنگ مشین، اے سی وغیرہ ہمارے پاس ڈسپلے پر بھی لگی ہوتی ہیں۔اگر کسٹمر ان ڈسپلے آئٹمز یا مارکیٹ سے کسی برانڈ/موبائل/موٹرسائیکل کی ڈیمانڈ کرے تو ہم اس کے ساتھ ایک تحریری ایگریمنٹ کرتے ہیں۔معاہدے میں آسان ماہانہ قسطیں بتا دیتے ہیں۔ جب کسٹمر کنفرم کرتا ہے تو ہم مارکیٹ سے وہ چیزخرید کر اسے قسطوں پر سیل کر دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر:

ایک موبائل فون کی کیش قیمت 30,000 روپے ہے۔قسطوں پر وہی موبائل ہم 42,000 روپے میں 12 ماہ کی قسطوں میں دے دیتے ہیں۔

اہم باتیں:

ہم قسطوں میں کوئی لیٹ فیس یا جرمانہ یا اوور ڈیوز چارجز نہیں لیتے۔

اگر معاہدہ 12 ماہ کا ہو اور کسٹمر 12 ماہ میں مکمل ادائیگی نہ کر سکے تو ہم اصل طے شدہ رقم (42,000) سے زیادہ ایک روپیہ بھی وصول نہیں کرتے۔یعنی ہمارا منافع صرف اتنا ہے جتنا پہلے طے ہو جاتا ہے۔

میرے اس کاروبار کے بارے میں شرعی رائے،فتویٰ مرحمت فرمائیں کہ آیا یہ طریقہ کار حلال اور درست ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تمہید کے طور پر چند اصولی باتیں ملاحظہ ہوں؛

واضح رہے کہ عقدِخریدوفروخت کی بنیادی شرائط میں سے ایسی شرائط جن کا تعلق مبیع (subject matter/goods) سے ہے،ان میں یہ شرائط بھی ہیں کہ مبیع (subject matter) عقد بیع کے وقت موجود (existence of goods)ہو،بائع (seller)کی ملکیت (ownership)میں ہو،بائع (seller)کےقبضہ حقیقی یا حکمی (Possession either physical or constructive) میں ہو،مقدور التسلیم (Transferable at the time of contract without any barrier) ہو۔

لہٰذا بوقت عقد اگر مبیع(subject matter) سے متعلق شرائط نہ پائی جائیں،یعنی عقد کے وقت (At the time of contract)وہ چیز بائع(seller)کی ملکیت میں  نہ ہو،یا ملکیت میں ہو لیکن قبضہ نہ ہو،یا قبضے کا تحقق ہوچکا ہولیکن مقدور التسلیم نہ ہو تو مبیع کیشرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے ایسی خرید وفروخت خواہ کسی بھی چیز کی ہو،ناجائزہے۔

درج بالا تمہید کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں؛

صورت نمبر 1:جس وقت کسٹمر سے آپ عقد خرید وفروخت کر رہے ہوں اس وقت اس چیز کا آپ کی ملکیت اور قبضے میں ہونا ضروری ہے،لہٰذا اگر وہ چیز آپ کی ملکیت میں نہ ہویا ملکیت میں ہو لیکن فی الحال آپ کے قبضہ(حقیقی یا حکمی) میں نہ ہو تو ایسی چیز فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

بالفرض اگر آپ کے لیے پہلے سے  سامان (Inventory) خرید کررکھنامشکل ہو تو آپ ابتدائی طور پر خرید وفروخت کا عقد کرنے کے بجائے کسٹمر کے ساتھ وعدہ ٔ بیع کریں(Promise to sale)،یعنی آپ کی دوکان، شوروم بروشرزیا ویب سائٹ وغیرہ پر ایسے الفاظ لکھے ہوں،جس سے یہ واضح ہورہا ہو کہ" فی الحال  یہ چیز ہمارے پاس نہیں،البتہ آپ کی طرف سےخریداری کا اظہار کرنے کے بعد ہم وعدہ کرتے ہیں کہ یہ چیز ارینج کرکے آپ کو بیچ دیں گے"،پھر مارکیٹ سے خرید کرباقاعدہ خریدار کے ساتھ علیحدہ سے خرید و فروخت کا معاملہ کریں تو ایسا کرنا جائز ہے۔

اس سلسلے میں ایک اور طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے جسے "بیع سلم "کہتے ہیں؛

بیع سلم کا مطلب ہے کہ"قیمت نقد ہو اور فروخت کی جانے والی چیز،بیچنے والے کے ذمہ میں ادھار ہو،جو وہ بعد میں مقررہ وقت پر مہیا کرے گا"۔

بیع سلم کی شرائط؛

  • مبیع ان اشیاء(Homogenous) میں سے ہو جن کی معیار اور مقدار کے اعتبار سے ایسی تعیین ممکن ہو کہ اس کے بعد نزاع کا احتمال باقی نہ رہے۔[اگر دیگر شرائط پائی جائیں تو سوال میں مذکور اشیاء اسی قبیل سے ہیں]۔
  • مبیع کی جنس معلوم ہو۔مثلا موٹر سائیکل
  • مبیع کی نوع معلوم ہو۔مثلا 150 سی سی
  • مبیع کا وصف معلوم ہو۔ مثلا ہونڈا کمپنی کی ہو اور لال کلر کی ہو وغیرہ
  • مبیع کی مقدار واضح طور پر متعین ہو۔مثلا 5 موٹر سائیکل
  • مبیع کا عوض یعنی قیمت کی مقدار معلوم ہو۔ مثلا پانچ لاکھ
  • مجلس عقد میں خریدار کی طرف سے سو فیصد قیمت ادا کی جائے۔
  • مبیع کی حوالگی کی جگہ عقد میں طے شدہ ہو۔
  • مبیع کی حوالگی، حنفیہ کے مفتیٰ بہ قول کے مطابق ایک ماہ یا اس سے زائد معلوم میعاد تک مؤجل(ادھار) ہو،البتہ تاجروں کے عرف اور بازار کے حالات کے موافق اس سے کم مدت طے کرنے کی بھی گنجائش ہے۔

صورت نمبر 2:

قسطوں پر اشیاءکی خرید وفروخت  جائز ہے، اگرچہ  ان اشیاء کی قیمت نقدقیمت سے  زیادہ  رکھی گئی ہو،البتہ  اس کے جواز  کے لیے درج ذیل شرائط کی رعایت ضروری ہے:

قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط:

۱۔بھاؤتاؤ کے بعد معاملہ  کی حتمی صورتحال متعین طور پر معلوم ہوکہ یہ معاملہ نقد پر ہو ا یاادھار پر ۔

۲۔اگر معاملہ ادھار پر ہو تو اس کی مدت متعین ہوکہ کتنی مدت کے لیے  ہے، ایک سال کیلئے یا چھ مہینے کیلئےوغیرہ۔

۳۔اسی وقت اس مدت کے مطابق ماہانہ یا سہہ ماہی بنیادوں پر قسطیں طے کی جائیں۔

۴۔قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں جرمانہ کی شرط نہ لگائی جائے۔

اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تومعاملہ فاسد ہوگا ۔

صورت نمبر ایک میں ذکر کردہ تفصیلات کی رعایت اور قسطوں پر فروخت کی درج بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے،آپ کے لیے سوال میں ذکر کردہ اشیاء وغیرہ کوقسطوں پر فروخت کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561)

ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.

مختصر القدوری  (178)

السلم جائز في المكيلات والموزونات والمعدودات التي لا تتفاوت كالجوز والبيض وفي المذروعات، …….ولا يجوز السلم حتى يكون المسلم فيه موجودا من حين العقد إلى حين المحل، ولا يصح السلم إلا مؤجلا ولا يجوز إلا بأجل معلوم، ولا يجوز السلم بمكيال رجل بعينه ولا بذراع رجل بعينه، ولا في طعام قرية بعينها ولا ثمرة نخلة بعينها .

ولا يصح السلم عند أبي حنيفة إلا بسبع شرائط تذكر في العقد: جنسٍ معلومٍ، ونوعٍ معلومٍ، وصفةٍ معلومةٍ، ومقدارٍ معلومٍ، وأجلٍ معلومٍ، ومعرفة مقدار رأس المال إذا كان مما يتعلق العقد علی مقداره کالمکیل و الموزون و المعدود، و تسمیة المکان الذی یوفیه فیه إذا کان له حمل ومؤنةٌ. و قال أبو یوسف و محمد: لا یحتاج إلی تسمیة رأس المال إذا کان معینا، و لا إلی مکان التسلیم، و یسلمه فی موضع العقد.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 214)

(و) بيان (نوع) كمسقي أو بعلي (وصفة) كجيد أو رديء (وقدر) ككذا كيلا لا ينقبض ولا ينبسط (وأجل وأقله) في السلم (شهر) به يفتى.

رد المحتار (5/ 214)

 قوله ( في السلم ) احتراز عن خيار الشرط ولا حاجة إليه .  قوله ( به يفتى ).  وقيل ثلاثة أيام. وقيل أكثر من نصف يوم. وقيل ينظر إلى العرف في تأجيل مثله. والأول أي ما في المتن أصح وبه يفتى زيلعي،  وهو المعتمد   بحر، وهو المذهب  نهر.

فتح القدير (15/ 463)

( قوله والأجل أدناه شهر إلى آخره ) في التحفة : لا رواية عن أصحابنا رضوان الله عليهم في المبسوط في مقدار الأجل .واختلفت الروايات عنهم .والأصح ما روي عن محمد أنه مقدر بالشهر لأنه أدنى الآجل وأقصى العاجل .وقال الصدر الشهيد : الصحيح ما روي عن الكرخي أنه مقدار ما يمكن تحصيل المسلم فيه ، وهو جدير أن لا يصح لأنه لا ضابط محقق فيه ، وكذا ما عن الكرخي من رواية أخرى أنه ينظر إلى مقدار المسلم فيه وإلى عرف الناس في تأجيل مثله ، كل هذا تنفتح فيه المنازعات ، بخلاف المقدار المعين من الزمان .وفي الإيضاح : فإن قدرا نصف يوم جاز ، وبعض أصحابنا قدروا بثلاثة أيام استدلالا بمدة خيار الشرط وليس بصحيح لأن التقدير ثمة بالثلاث بيان أقصى المدة ، فأما أدناه فغير مقدر انتهى .والتقدير بالثلاث يروى عن الشيخ أبي جعفر أحمد بن أبي عمران أستاذ الطحاوي .وصحح المصنف الأول لأنه مروي عن محمد ، ولأنه مأخوذ من مسألة اليمين وهي ما إذا حلف ليقضين دينه عاجلا فقضاه قبل تمام الشهر بر في يمينه فكان ما دون الشهر في حكم العاجل ، فالشهر وما فوقه آجل ، قالوا : وعليه الفتوى.

فقه البيوع ( 1 / 578-577)

ثم اختلف الفقهاء في تحديد  أقل مدة السلم في تأجيل السلم ، لأنه لم يرد فيه نص فروي عن الإمام محمد بن الحسن رحمه الله تعالي  أنه مقدر بشهر ، لأنه أدني الأجل أقصي العاجل.  ويقرب منه مذهب الحنابلة حيث قالوا من شرط الأجل أن يكون مدة لها وقع في الثمن كالشهر وماقاربه. وقد رويت عن مشائخ الحنفية روايات مختلفة، منها ما روي عن الكرخي رحمه الله أنه مقدار مايمكن فيه تحصيل المسلم فيه ، وعنه أن ينظر إلي مقدار  المسلم فيه ،وإلي عرف الناس في تأجيل مثله، وقدره  بعضهم  بثلاثة أيام قياسا علي خيار الشرط، وبعضهم بنصف اليوم،  واختار صاحب الهداية وابن الهمام التقدير   بشهر علي قول الإمام محمد رحمه الله تعالي.  وقدر المالكية أدنی مدة السلم بنصف شهر. أما الشافعية فليس عندهم أجل مقدر بل إنهم يجوزون السلم الحال كما مر.وبما  أنه  ليس هناك نص في تحديد مدة السلم فإن المجلس الشرعي  لهيئة  المحاسبة والمراجعة للمؤسسات  المالية الإسلامية لم يحدد مدة لأجل السلم فجاء في المعيار الشرعي للسلم :يشترط أن يكون أجل تسليم المسلم فيه معلوما على نحو يزيل الجهالة المفضية إلى النزاع، ولا مانع من تحديد آجال متعددة لتسليم المسلم فيه على دفعات بشرط تعجيل رأس مال السلم كله.وهذا مبني علي قول رسول الله صلي الله تعالي عليه وسلم " فليسلف في أجل معلوم ، بدون تقييد الأجل بمدة معينة، فظهر أن المقصود تعيين الأجل سواء أكان  قصيرا أم طويلا…

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (7/ 5199)

البيع بالتقسيط جائز شرعاً، ولو زاد فيه الثمن المؤجل على المعجّل.

شرح ا لمجله (124,125)

البيع مع  تاجيل الثمن و تقسيطه صحيح,يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل والتقسيط اذا عقد البيع علي تأجيل الثمن الي وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أوالنهروز,صح البيع اذا كان يوم القاسم أو النيروز معموما عندالمتبايعين.أما لو كان مجهولا عندهما او عند أحدهمافلا يصح.

جامع الترمذي(1/233)

 وروى الترمذي - رَحِمَهُ اللَّهُ - من حديث أبي هريرة - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أن النبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نهى عن بيعتين في بيعة» .قال الترمذي - رَحِمَهُ اللَّهُ - قال بعض أهل العلم أن يقول الرجل: أبيعك هذا الثوب نقدا بعشرة ونسيئة بعشرين فلا مفارقة على أحد البيعتين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على واحد منهما.

مجلة مجمع الفقه الإسلامي (6/ 119، بترقيم الشاملة آليا)

ولا يجوز اشتراط الزيادة في الدين عند التأخيروقراره في البيع بالتقسيط رقم 51 (2 / 6) ونصه: " إذا تأخر المشتري المدين في دفع الأقساط بعد الموعد المحدد فلا يجوز إلزامه أي زيادة على الدين بشرط سابق أو بدون شرط، لأن ذلك ربا محرم   .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505)

 وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

03.ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب