03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پاکستان میں سعودی اعلان پر روزہ و عید کرنا کیسا ہے؟
88602روزے کا بیانرمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں رمضان اور عید کا چاند دیکھنے کے لیے رؤیت ہلال کمیٹی کا اعلان کیا جاتا ہے، جبکہ بعض لوگ سعودی عرب کے ساتھ روزہ رکھنے اور عید منانے کو ترجیح دیتے ہیں۔شرعی اعتبار سے پاکستانی عوام کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا ہمیں اپنی مقامی رؤیت پر عمل کرنا چاہیے یا سعودی عرب کے ساتھ روزہ اور عید کرنی چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پاکستان  ایک خود مختار اور  اسلامی ریاست ہے اور یہاں   کی مرکزی حکومت کو ولایت عامہ حاصل ہے،حکومتِ وقت کی طرف سے  قائم کردہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کو شرعی طور پر قاضی کا درجہ حاصل ہے ، لہذاپاکستان میں رہنے والوں پر مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق روزہ رکھنا اورعید کرنالازم ہے۔ چنانچہ  اگر کوئی پاکستان میں رہتے ہوئی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی یا مستند علماء کے اعلان کے بغیر سعودیہ کے اعلان کے مطابق روزہ  وعید کرتاہے تووہ شریعت اورفنِ فلکیات کے اصولوں کے خلاف کررہاہے ،اسے اس سے اجتناب  کرناچاہیے۔ اس لیے  کہ وہ پاکستان والوں کے لیے حجت نہیں۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی: "وأشھدوا ذوی عدل منکم." (الطلاق: ۱) قال اللہ تعالی: "یا أیھا الذین آمنوا أطیعوا اللہ وأطیعوا الرسول وأولي االأمر منکم." (النساء: ٥٩)

أخرج الامام البخاري رحمہ اللہ: عن ابن عمر رضي اللہ عنہما عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: "السمع والطاعة حق ما لم یؤمر بالمعصیة، فإذا أمر بمعصیة فلا سمع ولا طاعة." (صحیح البخاري: ٣/١٠٨٠)

وفی مسند ابن أبي شيبة :عن الحسين بن الحارث، قال: سمعت عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، يقول: إنا صحبنا أصحاب  رسول الله صلى الله عليه وسلم وتعلمنا منهم وإنهم حدثونا، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صوموا لرؤيته، وأفطروا لرؤيته، فإن غم عليكم فعدوا ثلاثين، وإن شهد ذوا عدل فصوموا، أو أفطروا، أو انسكوا.( مسند ابن أبي شيبة: 2/ 422)،وفی مسند أحمد مخرّجا (3/ 256)

 قال العلامة ابن عابدین: قوله: أمر السلطان إنما ينفذ، أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله: أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى. (رد المحتار:٥/٥٢٢)

سخی گل  بن گل محمد             

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

/5ربیع الثانی ،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب