03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدین کی رضامندی کے بغیردورکراچی میں رہائش اختیارکرنا
88583جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میری شادی کو 13 سال ہو گئے ہیں۔ 10 سال میں نے بہاولپور میں اپنے سسرال کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں گزارے۔ میرے شوہر کے دو بھائی اور تین بہنیں ہیں، اور ساس اور سسر بھی حیات ہیں۔ پچھلے 3 سال سے میں اپنے میکے، کراچی میں اپنے شوہر کی رضا مندی سے رہ رہی ہوں۔ وہ پچھلے 3 سال سے کبھی کراچی اور کبھی بہاولپور میں رہتے ہیں۔

میرے شوہر فوٹو گرافی کرتے ہیں اور درزی کا کام بھی آتا ہے، لیکن اسے بطور پیشہ اختیار نہیں کرتے، صرف وقت گزاری کے طور پر کرتے ہیں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر اب واپس اپنے شہر بہاولپور جانا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانا چاہتی کیونکہ میرا کاروبار یہاں کراچی میں ہے۔ میں خود سلائی کا کام کرتی ہوں اور اپنے شوہر کا آدھا ہاتھ بٹاتی ہوں۔

بہاولپور میں بھی میرے شوہر کا کبھی کام ہوتا ہے اور کبھی حالات بہت مشکل ہو جاتے ہیں۔ میرے بچے بھی یہاں پڑھ رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر یہ کہتے ہیں کہ اگر میں کراچی میں روزگار کے لیے رہتا ہوں تو اپنے ماں باپ کا گناہ گار ہوتا ہوں۔ کل کو میرے بچے بھی مجھے اکیلا چھوڑ دیں گے جیسا کہ میں نے اپنے ماں باپ کو چھوڑ دیا ہے۔

حالانکہ ہماری سسرال والوں سے کوئی لڑائی نہیں ہے، رابطے میں ہیں اور آتے جاتے رہتے ہیں۔ بہاولپور میں روزگار کے بہت مسائل ہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ شوہر صرف فوٹو گرافی کے کام سے اپنے بچوں کی پرورش کریں، کیونکہ میرا بیٹا آپ کی جامعہ میں حافظِ قرآن بن رہا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ ہم حرام سے بچیں۔

براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:

کیا روزگار اور بچوں کے مستقبل کے لیے والدین سے دور رہنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے؟ کیونکہ میرے ساس سسر اس بات سے ناراض رہتے ہیں۔ لیکن آپ یہ بتائیں کہ اگر ساتھ رہیں لیکن مناسب روزگار نہ ہو تو زندگی کیسے گزرے گی؟ جبکہ یہاں ہماری کوئی بڑی خواہشات نہیں ہیں، بس اتنا ہے کہ آرام سے گزر بسر ہو جاتی ہے اور بچے پڑھ رہے ہیں۔ رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہم ماں باپ کے گناہ گار ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جہاں بیٹے ہونے کی حیثیت سے آپ کے شوہر کےلیے والدین کے ساتھ صلہ رحمی، ان کی اطاعت اور خدمت شرعاً ضروری ہے۔وہاں شوہر ہونے کی حیثیت سے بیوی بچوں کا نان و نفقہ اور ان کے لیے مناسب رہائش کا انتظام بھی لازمی امر ہے۔

اس بات کومدنظر رکھتے ہوئے آپ کےشوہر کو اپنے حالات کا خود جائزہ لینا چاہیے: اگر بہاولپورمیں ان کےوالدین جسمانی خدمت کے محتاج ہوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو، تو ایسی صورت میں آپ کےشوہر والد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بہاولپور میں رہائش اختیار کرے اوروہی پر رہ کر بیوی بچوں کی حلال نان نفقہ کی ذمہ  داری بھی نبھانے کی شش کرتے رہے۔

اوراگروالدین جسمانی خدمت کے محتاج نہ ہوں اوریاہوں مگر ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھائی وغیرہ ہوجبکہ دوسری طرف بہاولپور میں رہائش اختیار کرنے سے بیوی بچوں کو تنگی ہویاان کی ضروریات صحیح طور پر پوری نہ ہو پاتی ہوں، تو ایسی صورت میں کراچی میں رہائش اختیار کرنا شرعاً درست ہے۔ البتہ والدین کی ناراضگی دور کرنے کے لیے حتی المقدرکوشش کی جائے،ان کی زیادہ سے زیادہ مالی خدمت کی جائے، فون وغیرہ سے برابر خبرگیری رکھی جائے،وقتاً فوقتاً ان سے ملاقات اوردلجوئی  کےلئے ملنےآپ کے شوہر جایاکرے ، اور ان کے حق میں خوب دعائیں کرتے رہاکرے۔ ان شاء اللہ اس طریقے سے والدین کی ناراضگی بھی دور ہو جائے گی۔

حوالہ جات

القران الکریم

وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُھُمَا أَوْ کِلاَھُمَا فَلاَ تَقُل لَّھُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُل لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْما وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً رَّبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوسِکُمْ إِن تَکُونُواْ صَالِحِیْنَ فَإِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوراً( الاسراء:23)

وفی الجامع لاحکام القرآن: وابتغوا من فضل اللہ أی من رزقہ الخ (ج9 ص96 مکتبہ حقانیہ)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ:

وقال محمد - رحمه الله تعالى - في السير الكبير إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو

عمرة وكره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين ونفقتهما عليه و ماله لا يفي بالزاد والراحلة ونفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه وإن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما وإن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرة.الخ(ج5 ص365 الباب السادس والعشرون فی الرجل ط ماجدیہ)۔

بدائع الصنائع: (23/4)

ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر اھ

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

05/4/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب