| 88694 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
اس فرقہ کے بارے میں سوشل میڈ یا پر رائج بعض پوسٹوں کی وجہ سے ان کے عقائد کی تحقیق کے سلسلہ میں ان کی کتب سے اور ان کے سرکردہ عرب حضرات سے رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ان کے عقائدوہی ہیں، جو ائمہ اہل سنت کے ہیں۔ مثلا نہ تو ائمہ اربعہ کی تقلید سے انکار کرتے ہیں، بلکہ خود ان کے مقلد ہیں، نہ ہی حضرات اشاعرہ و ماتریدیہ کی تشریحات سے رو گردانی کرتے ہیں، بلکہ ان ہی عقائد کی پیروی کرتے ہیں۔ اہل سنت کی تنظیموں ، جہادی محنتوں، تصنیفی و علمی کاوشوں، اور تبلیغی جد وجہد کی نہ صرف تائید کرتے ہیں، بلکہ ان کے کئی عرب علمائے کرام نے تبلیغی اسفار کیے ہیں، جن میں پاکستان کے کئی شہروں، خیبر پختون خواہ اور دیگر علاقوں کے اطراف میں کئی بار ان کی تبلیغی تشکیلات ہوئی ہیں۔ اور اب بھی کسی نہ کسی دینی محنت سے وابستہ ہیں۔ ائمہ اربعہ کے عقائد کی نہ صرف تائید کرتے ہیں، بلکہ ان کی اتباع کو انسانیت کی معراج سمجھتے ہیں۔
البتہ جو اہل السنہ مغربی ممالک کی پیروی میں مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں، ایسے سنیوں سے نالاں ہیں اور شیعہ امامیہ کے عقائد سے براءت کااظہار کرتے ہیں مثلا ۱۔ تحریف قرآن کا عقیدہ ۲ ۔ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہ کرنے کا عقیدہ ۳۔ حضرت ابو بکر کی خلافت کو اول نمبر پر تسلیم نہ کرنے کا عقیدہ، صحابہ کرام کی تکفیر اور انہیں برا بھلا کہنا، وغیر ہ ،ان سب سے علی الاعلان اپنی کتابوں میں اور اپنی ویڈیوز میں انکارکرتے ہیں،بلکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعدسیدنا عمر ،اس کے بعد سید نا عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے بعد سید نا علی رضی اللہ عنہ اور اس کے بعد سید نا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کو انہی تشریحات کے مطابق سمجھتے ہیں جو تشریحات اہل سنت کی ہیں ۔ صحابہ کرام کو معیار حق سمجھتے ہیں اور ان میں اختلاف کی صورت میں سیدناابو بکر پھر حضرت عمر پھر حضرت عثمان پھر حضرت علی کے اقوال کو اور ان کے بعد حضرات عشرہ مبشر و و بدر یین کو علی الترتیب اسی طرح مانتے ہیں، جس طرح حضرات اہل سنت مانتے ہیں، چنانچہ شیخ ابو داؤد نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :
ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لما قال : مروا أبا بكر فليصل بالناس ( أخرجه البخاري و مسلم ) كان ذلك ترجیحا و ترشيحا واضحا لخلاقة أبی بکر رضی الله عنه، وكان حریصا علی امامته، و قال: فاین ابو بکر ، یابی الله ذلك والمسلمون يأبي الله ذلك، أخرجه أحمد، فلو كانت الامامة الصلاة لا تعني ترجيحا للخلاقة وترشيحالها لما كان كل هذا الحرص على امامة أبي بكر بالناس.
https://t.me/hakeemelansar1/56
اس میں واضح طور پر حضرت ابو بکر کی خلافت کو صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ حضرت زبیر اور حضرت علی کا سقیفہ میں موجود نہ ہونا ظاہری طور پر چپقلش کا باعث بنا اور بیعت میں کچھ تاخیر ہوئی۔ جیسا کہ صحیح بخاری حدیث نمبر ۴۲۴۰ میں ہے۔ جس طرح حضرات اہل السنتہ کی کتب عقائد میں خلافت راشدہ کی ترتیب یہ بتائی گئی کہ ہر ایک میں حضرت علی کی مشاورت کو امت کے اتفاق کے لیے اہم سمجھا گیا:
مرض أبو بكر رضي الله عنه مرضه الذي توفي فيه فشاور الصحابة وجعل الخلافة لعمر .. وعرضت الصحيفة على جملة الصحابة فبايعوا لمن فيها حتى مرت بعلي رضي الله عنه فقال بايعنا لمن فيها وان كان عمر .. وحين علم بالموت قال ما أجد أحدا احق بهذا الأمر من ھولاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض فسمى عليا وعثمان والزبير وطلحة و عبدالرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص وجعل الخلافة شورى بينهم فاجتمعوا بعد دفن عمر رضي الله عنه فقال الزبير قد جعلت أمري إلى علي وقال طلحة قد جعلت أمري إلى عثمان وقال سعد قد جعلت أمري إلى عبد الرحمن بن عوف ثم جعلوا الاختيار إلى عبد الرحمن بن عوف فأخذ بيد علي رضي الله تعالى عنه وقال تبايعني على كتاب الله وسنة رسول الله وسيرة الشيخين فقال على كتاب الله وسنة رسول الله واجتهد برأيي ثم قال مثل ذلك لعثمان فأجابه إلى ما دعاه وكرر عليهما ثلاث مرات فأجابا بالجواب الاول فبایع عثمان و بايعه الناس ورضوا بإمامته (شرح المقاصد للتفتازانی، ۲۹۶/۲، دار المعارف النعمانية (طبع ۱۹۸۱)
اہل سنت جس طرح امام حسن رضی اللہ عنہ کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست بردار ہونے کوحضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی حکمت سمجھتے ہیں اور یزید کے مقابلے میں امام حسین کے مقابلے کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جیسا کہ شہید کر بلاء میں مفتی شفیع رحمہ اللہ تعالی نے ص:۷ میں لکھا ہے، ایسے ہی حرکۃ انصار المہدی بھی یہی اعتقاد رکھتی ہے۔ جیسے دور بنوامیہ میں امام زید بن علی بن الحسین کی خاطر امام ابو حنیفہ نے جلاء وطنی برداشت کی ، پھر ابو جعفر المنصور کے خلاف امام محمد بن عبداللہ کی مدد کرنے پر انہیں کوڑے لگوائے گئے، جیل میں ڈالے گئے اور آخر کار زہر دے کر شہید کردئے گئے۔ (دیکھئے: احکام القرآن للجصاص ، ج ۲ ص ۳۲، اور مناظر احسن گیلانی کی کتاب امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی) یہی عقیدہ حرکۃ أنصار المہدی کا بھی ہے۔) چنانچہ شیخ حسن التہامی اپنی کتاب المہدی من عترتی میں لکھتے ہیں :
فاذا رأى الامام ان الخلافة لغيره أصلح أقره عليها، كفعل الامام علي مع الخلفاء الراشدين أبي بكر، وعمر، وعثمان، ومتی رای أنه أحق بها قام عليها كفعل الامام علي عند ما بويع له بالخلافة، وكذلك ما سيحصل مع الامام المهدى عليه السلام، فانه یكره علیها، ومتى رأى أن يتنازل عنها لغيره حقنا للدماء واسكاتا للفتنة وتھدئة لها، كما حصل للامام الحسن تنازل لمعاوية، قال ان ابني هذا سید و سيصلح الله به بين قئتين عظيمتين من المسلمين، ومتى رأى أنه أحق بها قام على طلبهاوخرج بسیفہ لاقامۃ الحق وازالة الظلم فان ظفربھا فھو احق بها،وان قتل دونھافھو شهید، کمثل فعل الامام الحسین رضی الله عنہ عند خروجه علی یزید، اذ قتل دون ذالک فھو شهيد، وكذلك الإمام زيد بن علي بن الحسين، لما خرج على ھشام بن عبد الملك، قتل دونھا فهو شهيد، فهذا هو معنى الولاية الصحیح، (المھدي من عترقی، ص٣٣ طبع سوم)
تفصیل مذکور کی روشنی میں سؤال یہ ہےکہائمہ اہل بیت کے بارے میں حضرات اہل السنہ کی مذکورہ بالا نصوص کے تناظر میں کیا حسن تہامی کی یہ مندرجہ بالا عبارت خلاف شریعت ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حسن تہامی کی مذکورہ عبارت سے ایک تو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی خلافت بمقابلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی احقیت واستحقاق نہیں ،بلکہ مصلحت کی بناء پر باقی رکھی گئی تھی، جبکہ خلافت علی رضی اللہ عنہ بمقابلہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ احقیت کی بناء پرقائم ہوئی تھی ،چنانچہ اس عبارت میں خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی خلافت کی طرف لفظ اصلح سے جبکہ خلافت علی رضی اللہ عنہ کی طرف لفظ احق سے اشارہ سے یہ بات مفہوم ہوتی ہے۔حاصل عبارت یہ کہ دونوں صورتوں میں حقدار تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ،البتہ خلفاء ثلاثہ کی خلافت مبنی بر مصلحت سمجھ کے باقی رکھی گئی تھی، جبکہ خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ بمقابلہ علی رضی اللہ عنہ مبنی پر مصلحت نہ تھی بلکہ خلاف مصلحت تھی، لہذا اس کے خلاف مسلح اقدام کیا گیا،حالانکہ یہ بات اہل سنت کے عقیدہ کے خلاف ہے،اہل سنت کے نزدیک تینوں خلفاء کی خلافت مبنی بر استحقاق واحقیت تھی،نہ کہ مبنی بر مصلحت ،لہذا ان میں سے کوئی بھی مستولی نہیں تھا۔
دوسرے اس عبارت سےان کی دیگر عبارات(جن میں وہ امامت کو وہبی اورصرف اہل بیت کا حق سمجھتے ہیں،جیساکہ یہ عبارات آگے سؤالات کے ضمن میں آرہی ہیں۔) کی روشنی میں یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ حسن تہامی حضرت علی کے بعد صرف خلافت حسن رضی اللہ عنہ کو حق مانتے ہیں ،جبکہ اہلسنت خلافت علی اور صلح حسن رضی اللہ عنہما کے بعدخلافت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقانیت اور صداقت کےبھی قائل ہیں۔(احسن الفتاوی:ج۶،ص۱۳)
لہذا حسن تہامی کی دیگر عبارات کی طرح مذکورہ عبارت بھی اہل سنت کے عقائد کی تعبیر کے موافق نہیں اور مذکورہ مفہوم کے تناظر میں خلاف عقائد اہل سنت ہے۔
حوالہ جات
شرح العقيدة الطحاوية - (ج 1 / ص 471):
قوله : ( ونثبت الخلافة بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم أولا لأبي بكر الصديق رضي الله عنه تفضيلا له وتقديما على جميع الأمة )
ش : اختلف أهل السنة في خلافة الصديق رضي الله عنه : هل كانت بالنص أو بالإختيار ؟ فذهب الحسن البصري وجماعة من أهل الحديث إلى أنها ثبتت بالنص الخفي والإشارة ومنهم من قال بالنص الجلي وذهب جماعة من أهل الحديث والمعتزلة والأشعرية إلى أنها ثبتت بالإختيار
والدليل على إثباتها بالنص أخبار : [ من ذلك ما أسنده البخاري عن جبير بن مطعم قال : أتت امرأة النبي صلى الله عليه و سلم فأمرها أن ترجع اليه قالت : أرأيت إن جئت فلم أجدك ؟ كأنها تريد الموت قال : إن لم تجديني فأتي أبا بكر ] وذكر له سياق آخر وأحاديث أخر وذلك نص على إمامته [ وحديث حذيفة بن اليمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقتدوا باللذين من بعدي : أبي بكر و عمر ] رواه أهل السنن وفي الصحيحين [ عن عائشة رضي الله عنها وعن أبيها قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم في اليوم الذي بدىء فيه فقال : ادعي لى أباك وأخاك حتى أكتب لأبي بكر كتابا ثم قال : يأبى الله والمسلمون إلا أبا بكر ] وفي رواية : [ فلا يطمع في هذا الأمر طامع ] وفي رواية : قال : [ ادعي لي عبد الرحمن بن أبي بكر لأكتب لأبي بكر كتابا لا يختلف عليه ثم قال معاذ الله أن يختلف المؤمنون في أبي بكر ] وأحاديث تقديمه في الصلاة مشهورة معروفة وهو يقول : [ مروا أبا بكر فليصل بالناس ] وقد روجع في ذلك مرة بعد مرة فصلى بهم مدة مرض النبي صلى الله عليه و سلم وفي الصحيحين [ عن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : بينا أنا نائم رأيتني على قليب عليها دلو فنزعت منها ما شاء الله ثم أخذها ابن أبي قحافة فنزع منها ذنوبا أوذنوبين وفي نزعه ضعف والله يغفر له ثم استحالت غربا فأخذها ابن الخطاب فلم أر عبقريا من الناس يفري فريه حتى ضرب الناس بعطن ] [ وفي الصحيح أنه صلى الله عليه و سلم قال على منبره : لو كنت متخذا من أهل الأرض خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا لا يبقين في المسجد خوخة إلا سدت إلا خوخة أبي بكر ] وفي سنن أبي داود وغيره من حديث الأشعث عن الحسن عن أبي بكرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال ذات يوم : من رأى منكم رؤيا ؟ فقال رجل أنا : رأيت ميزانا [ أنزل ] من السماء فوزنت أنت و أبو بكر فرجحت أنت بأبي بكر ثم وزن عمر و أبو بكر فرجح أبو بكر ووزن عمر و عثمان فرجح عمر ثم رفع فرأيت الكراهة في وجه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : خلافة نبوة ثم يؤتي الله الملك من يشاء [
فبين رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ولاية هؤلاء خلافة نبوة ثم بعد ذلك ملك وليس فيه ذكر علي رضي الله عنه لأنه لم يجتمع الناس في زمانه بل كانوا مختلفين لم ينتظم فيه خلافة النبوة ولا الملك ] وروى أبو داود أيضا عن جابر رضي الله عنه أنه كان يحدث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أري الليلة رجل صالح أن أبا بكر نيط برسول الله صلى الله عليه و سلم ونيط عمر بأبي بكر ونيط عثمان بعمر [ قال جابر : فلما قمنا من عند رسول الله صلى الله عليه و سلم قلنا : أما الرجل الصالح فرسول الله صلى الله عليه و سلم وأما المنوط بعضهم ببعض فهم ولاة هذا الأمر الذي بعث الله به نبيه ] وروى أبو داود أيضا عن سمرة بن جندب : أن رجلا قال : يا رسول الله رأيت كأن دلوا دلي من السماء فجاء أبو بكر فأخذ بعراقيها فشرب شربا ضعيفا ثم جاء عمر فأخذ بعراقيها فشرب حتى تضلع ثم جاء عثمان فأخذ بعراقيها فشرب حتى تضلع ثم جاء علي فأخذ بعراقيها فانتشطت منه فانتضح عليه منها شيء وعن سعيد بن جمهان عن سفينة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم يؤتي الله ملكه من يشاءأو الملك
واحتج من قال لم يستخلف بالخبر المأثور عن عبد الله بن عمر عن عمر رضي الله عنهما أنه قال : إن أستخلف فقد استخلف من هو خير مني يعني أبا بكر وإن لا أستخلف فلم يستخلف من هو خير [ مني ] يعني رسول الله صلى الله عليه و سلم [ قال عبد الله : فعرفت أنه حين ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم غير مستخلف ] وبما روي عن عائشة رضي الله عنها أنها سئلت من كان رسول الله صلى الله عليه و سلم مستخلفا لو استخلف والظاهر - والله أعلم - أن المراد أنه لم يستخلف بعهد مكتوب ولو كتب عهدا لكتبه لأبي بكر بل قد أراد كتابته ثم تركه وقال : ] يأبى الله والمسلمون إلا أبا بكر [ فكان هذا أبلغ من مجرد العهد فإن النبي صلى الله عليه و سلم دل المسلمين على استخلاف أبي بكر وأرشدهم إليه بأمور متعددة من أقواله وأفعاله وأخبر بخلافته إخبار راض بذلك حامد له وعزم على أن يكتب بذلك عهدا ثم علم أن المسلمين يجتمعون عليه فترك الكتاب اكتفاء بذلك ثم عزم على ذلك في مرضه يوم الخميس ثم لما حصل لبعضهم شك : هل ذلك القول من جهة المرض ؟ أو هو قول يجب اتباعه ؟ ترك الكتابة اكتفاء بما علم أن الله يختاره والمؤمنون من خلافة أبي بكر فلو كان التعيين مما يشتبه على الأمة لبينه بيانا قاطعا للعذر لكن لما دلهم دلالات متعددة على أن أبا بكر المتعين وفهموا ذلك - حصل المقصود ولهذا قال عمر رضي الله عنه في خطبته التي خطبها بمحضر من المهاجرين والأنصار : أنت خيرنا وسيدنا وأحبنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم ينكر ذلك منهم أحد ولا قال أحد من الصحابة إن غير أبي بكر من المهاجرين أحق بالخلافة منه ولم ينازع أحد في خلافته إلا بعض الأنصار طمعا في أن يكون من الأنصار أمير ومن المهاجرين أمير وهذا مما ثبت بالنصوص المتواترة عن النبي صلى الله عليه و سلم بطلانه ثم الأنصار كلهم بايعوا أبا بكر إلا سعد بن عبادة لكونه هو الذي كان يطلب الولاية ولم يقل أحد من الصحابة قط أن النبي صلى الله عليه و سلم ه نص على غير أبي بكر لا علي ولا العباس ولا غيرهما كما قد قال أهل البدع ! وروى ابن بطة بإسناده أن عمر بن عبد العزيز بعث محمد بن الزبير الحنظلي إلى الحسن فقال : هل كان النبي صلى الله عليه و سلم استخلف أبا بكر ؟ فقال : أو في شك صاحبك ؟ نعم والله الذي لا إله إلا هو استخلفه لهو كان أتقى لله من أن يتوثب عليها
وفي الجملة : فجميع من نقل عنه أنه طلب تولية غير أبي بكر لم يذكر حجة شرعية ولا ذكر أن غير أبي بكر أفضل منه أو أحق بها وإنما نشأ من حب قبيلته وقومه فقط وهم كانوا يعلمون فضل أبي بكر رضي الله عنه وحب رسول الله صلى الله عليه و سلم له
الصواعق المحرقة - (ج 2 / ص 625):
وهي صحة خلافة معاوية وقيامه بأمور المسلمين وتصرفه فيها بسائر ما تقتضيه الخلافة مترتبة على ذلك الصلح فالحق ثبوت الخلافة لمعاوية من حينئذ وأنه بعد ذلك خليفة حق وإمام صدق كيف وقد أخرج الترمذي وحسنه عن عبد الرحمن بن أبي عميرة الصحابي عن النبي أنه قال لمعاوية اللهم اجعله هاديا مهديا
وأخرج أحمد في مسنده عن العرباض بن سارية سمعت رسول الله يقول اللهم علم معاوية الكتاب والحساب وقه العذاب
وأخرج ابن أبي شيبة في المصنف والطبراني في الكبير عن عبد الملك ابن عمير قال قال معاوية ما زلت أطمع في الخلافة منذ قال لي رسول الله يا معاوية إذا ملكت فأحسن
فتأمل دعاء النبي له في الحديث الأول بأن الله يجعله هاديا مهديا والحديث حسن كما علمت فهو مما يحتج به على فضل معاوية وأنه لا ذم يلحقه بتلك الحروب لما علمت أنها كانت مبنية على اجتهاد وأنه لم يكن له إلا أجر واحد لأن المجتهد إذا أخطأ لا ملام عليه ولا ذم يلحقه بسبب ذلك لأنه معذور ولذا كتب له أجر
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
10ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


