03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اہل بیت کےلیے امامت کا خصوصی واصطلاحی اطلاق اہل سنت کا طریقہ نہیں۔
88696ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

   بر صغیر کے مشہور صوفی بزرگ ثقہ عالم دین خواجہ پیر مہر علی شاہ ر حمہ اللہ لکھتے ہیں: اہل سنت کے نزدیک خلافت کے باطنی مفہوم کے لحاظ سے اور اہل شیعہ کے نزدیک اصطلاحی معنی کے لحاظ سے امام کے لفظ کا اطلاق ائمہ اہل بیت علیہم السلام پر صحیح اور جائز ہے۔ ان حضرات کے علاوہ دوسرے حضرات کو دینی پیشوا ہونے کی بناء پر امام کہا جا سکتا ہے، لیکن ان حضرات کی خصوصیات مختصہ انہی کی ذوات مقدسہ تک محد ود ہیں۔ (فتاوی مہر یہ ، ص ۱۳۵- ۱۴۶) یہی بات شیخ حسن التہامی نے بھی لکھی ہے :

هي امامة تخص العترة الطاهرة، وهي ولاية اصطفاء من الله وصي بها رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بقوله: كتاب الله و عترتي ، ومن كنت مولاه، فعلى مولاہ(المهدي من عترقي ، ص ۶٣.)

ان حضرات کی عظمت کے بارے میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی نے لکھا ہے : ائمہ اہل بیت اپنے اپنے وقت کے روحانی پیشوا اور انتخاب ہیں اور چونکہ خارجی ان حضرات کی عظمت کو اہل سنت کے دلوں سے مٹانا چاہتے تھے ، اس لیے اکا بر اسلام نے ان کے ناموں کے ساتھ امام کا لفظ استعمال کیا ہے، تا کہ مسلمان ان کو اپنے اپنے درجے میں دینی روحانی پیشوا مانتے رہیں۔ (دیکھئے : مشاجرات صحابہ اور راہ اعتدال ج۱،ص۳۲۰)

تفصیل مذکور کی روشنی  میں سؤال یہ ہےکہکیا   شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، پیر مہر علی شاہ اور شیخ حسن التہامی کی عبارات میں کوئی فرق ہے ؟ کیا ایسا عقید ہ ر کھنا بدعت ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حسن تہامی اہل تشیع کی طرح امامت کو اصطلاحی مفہوم (کہ امامت نبوت کی طرح  من جانب اللہ وہبی  ہوتی ہے، کسبی نہیں اور امام   خطا اجتہادی  سےمعصوم ومحفوظ ہوتا ہے۔ )کے اعتبار سے اہل بیت کی خصوصیت سمجھتے ہیں جیساکہ  انکی مذکورہ بالا  (هي امامة تخص العترة الطاهرة وهي ولاية اصطفاء من الله وصي بها رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بقوله: كتاب الله و عترتي ، ومن كنت مولاه، فعلى مولاہ )اور آئندہ عبارات(ھی مقام و منزلۃ تشبه مقامات الأنبياء إلا أنه لا وحي فيها، وفيها من الأعمال والعلم والالهام وإذهاب الرجس و التطھیر الخ) سے واضح ہے،جبکہ  اہلسنت حضرات  مثلا امام شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی وغیرہ   امامت کو کسی  ایسےخاص مفہوم   میں  اہل بیت  سمیت کسی  کے لیےبھی نہیں مانتے، چنانچہ امام شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغۃ : (ج۲،ص۳۹۸ طبع قدیمی)میں امامت کی شرائط میں واضح طور پر لکھتے ہیں کہ   امامت کبری کے لیے اہل بیت میں سے ہونا شرط نہیں ۔ لہذا مستفتی  کاحسن تہامی کی تایید میں امام شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی کے حوالے کو پیش کرنا     خلاف حقیقت اور خلاف تحقیق بات ہے۔

حجۃ اللہ البالغۃ : ج۲،ص۳۹۸:

 وانما لم یشترط کونہ ھاشمیا لوجھین احدھما الایقع الناس فی الشک فیقولوا انما اراد ملک اھل بیتہ کسائز الملوک فیکون سببا للارتداد ولھذہ العلۃ لم یعط النبی صلی اللہ علیہ وسلم  المفتاح لعباس بن عبد المطلب والثانی ان المھم فی الخلافۃ رضا الناس بہ واجتماعھم علیہ وتوقیرھم ایاہ وان یقیم الحدود ویناضل دون الملۃ وینفذ الاحکام واجتماع ھذہ الامور لایکون الا فی واحد بعد واحد وفی اشتراط  ان یکون من قبیلۃ خاصۃ تضییق وحرج الخ

نیز شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالی تکملہ فتح الملہم ج۵،ص۱۱۳ پرسؤال میں مذکور روایت  من کنت مولاہ فعلی مولاہ پر  علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کی معروف کتاب منھاج السنۃ النبویہ  کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس حدیث کی صحت میں کلام  ہے،چنانچہ بعض  نے اسےموضوع اور منگھڑت، جبکہ بعض نے حسن قرار دیا ہےاور بالفرض  اسے صحیح اور ثابت مان بھی لیا جائے تو بھی اس سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا   واجب الاحترام والمودت   ہونا تو ثابت ہوتا ہے ،لیکن  اس سے ان کی عصمت یا خلافت بلا فصل (بحیثیت اہل بیت استحقاق خلافت )ہرگز ثابت نہیں ہوتی،۔

لہذا  حاصل یہ کہ اہلسنت تمام صحابہ کرام بلکہ تمام ائمہ دین مجتہدین کو  ایک عام معنی ( دینی  مقتداوپیشوا) میں امام سمجھتے ہیں اوراس لحاظ سے ان کے نزدیک اہل بیت سمیت تمام صحابہ   بلکہ ائمہ دین کے لیے امام کا لفظ استعمال کرنا جائز ہے ،لیکن کسی خاص مفہوم  میں خاص اہل بیت کے ساتھ لفظ امام کی تخصیص  اہل سنت کا طریقہ نہیں،بلکہ یہ اثر  کہیں غیر سے آیا ہے،لہذا اب خاص اہل بیت  بالخصوص  حضرت علی  اور حسنین رضی اللہ عنہم کےلیے لفظ امام استعمال کرنے سے احتراز کرنا ضروری ہے۔(احسن الفتاوی:ج۱،ص۳۹۰)

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

 نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

10ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب