| 88692 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
عزت مآب علمائے کرام کی طرف( صرف دینی، رہنمائی حاصل کرنے کے لیے) ایک سوالنامہ پیش خدمت ہے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ یمن کے صوبے "ریمہ " کی ایک بستی ہے جسے "کرعہ " کہا جاتا ہے۔ اس بستی کی ایک شخصیت ہیں جن کا نام محمد، والد کا نام عبدہ( عبد الله،) والدہ کا نام آمنہ ہے۔ کنیت ابو عبد اللہ ہے۔ نسباحسنی ہیں۔ آپ کا خاندان یمن سے ہجرت کر کے ۱۹۴۰ میں جدہ منتقل ہوا اور وہاں سے مکہ میں رہائش پذیر ہوا۔ آپ کی پیدائش شامامت کے منصب پر بھی رہے۔ پھر جب شاہ فہد کے دور میں سعودی حکومت نے یمنیوں کو جلا وطن کر دیا تو یہ بھی اس کی زد میں آگئے اور اپنی قوم کے ساتھ یمن آگئے۔ آپ نے اپنی باقی تعلیم یمن میں "ماج" کے دار الحدیث میں مکمل کی اور وہاں پڑھتے اور پڑھاتے رہے۔
۱۹۹۷ء کے رمضان میں یمن سے عمرے کے لیے مکہ جاتے ہوئے ان کی ملاقات چشمہ پہنے سیاہ رنگت والے عبد القادر " نامی ایک شخص سے ہوئی، دونوں نے اکٹھے بیت اللہ کا طواف بھی کیا۔ اس کی ایک آنکھ کانی تھی۔ شکل و صورت، حرکات و عادات اور بعد میں پیش آنے والے حالات سے اندازہ ہوا کہ اس کی علامات "دجال" کی طرح تھیں۔ یہ شخص مختلف قسم کی عجیب و غریب باتیں کرتا اور کرتب دکھاتا تھا، اس نے متعدد مرتبہ ابو عبد اللہ پر جادو بھی کیا۔ ابو عبد اللہ اور اس شخص کا تقریبا دس سال تک ساتھ رہا۔ حرمین کے مشائخ اور کچھ دیگر علماء کو یہ بات بتائی گئی، ان حالات کی تفصیلات " المسيح الدجال یطوف بالكعبة" نامی ایک رسالے میں مذکور ہیں، جس کا اردو ترجمہ " دجال کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ۔بھی دستیاب ہے۔ ابو عبد اللہ کے ساتھ رہنے والے بتاتے ہیں کہ ان میں امام مہدی سے متعلق مختلف صحیح ، حسن اور ضعیف روایات میں منقول (۷۰) سے زائد علامات پائی جاتی ہیں۔ البتہ جو لوگ آپ کو امام مہدی کہتے ہیں، آپ نےان کی تفصیلی تردید کی ہے ، اور دعوائے مہدویت کی نفی کی ہے۔
یہ تفصیلات سرکاری اداروں کو معلوم ہو ئیں تو ابو عبد اللہ کی گرفتاری کی کوشش شروع ہوئی، چنانچہ یہ یمن بھاگ گئے، تو فور سز نے مکہ میں ان کے خاندان کے ۷۰ سے زائد افراد کو قید کیا، جنہیں سالہا سال بعد رہائی ملی، اور کئی اب بھی قید میں ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک سوئس تنظيم "مؤسسة الکرامۃ نے اس واقعے کے بعد خاندان کے افراد سے تفصیلات معلوم کیں اور انٹر ویو لیا، جو (جوار الحرم" کے نام سے یو ٹیوب پر دستیاب ہے ، اسے عربی اردو اور انگریزی ترجمہ کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ خاندان والوں سے بار بار پوچھا جاتا تھا کہ ان کا نام محمد کیوں ہے ؟ اور یہ کہ وہ کہاں ہیں۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ یہ محض الزام تھا۔
چنانچہ ابو عبد اللہ نے اس کے بعد اپنا نام تبدیل کر کے "حسن التہامی رکھا، اور اب وہ اس نام سے زیادہ معروف ہیں۔ گذشتہ پانچ سالوں سے یہ بغیر کسی جرم کے حوثیوں کی قید میں ہیں۔ لوگوں نے ان واقعات کے بعد ابو عبد اللہ کو پہچانا، بعض علاقوں میں ابوالقاسم نام سے بھی لوگ پکارتے تھے۔
البتہ امام مہدی کے موضوع پر آپ کو اللہ تعالی نے بصیرت سے نوازا ہے، اور اس موضوع پر آپ کے خطبات و دروس مشہور ہیں، آپ کی ایک تصنیف المہدی وقرب الظہور کے نام سے یمن میں چھپی ہے، جس پر آپ کا نام السید الشریف حسین بن غالب درج ہے۔
کسی مذہبی مقتدا کے بارے میں(فلان میں مہدی کی علامات پائی جاتی ہیں) کہنا
2011 میں عرب بہار کے نام سے متعدد عرب آمرو ں کے خلاف تحریک شروع ہوئی اور2011 میں عرب بہار اور پھر شام میں ہونے والی جنگ کے بعد انہوں نے ایک تنظیم بنائی جس کا نام حرکۃ انصار المہدی رکھا۔ اس تنظیم کا مقصد( جیسا کہ اس کے مقاصدواہداف سے واضح ہے )یہ ہے کہ حضر ت امام مہدی کی نصرت کی جائے، یعنی ان کے لیے انصار کی ایک جماعت بنائی جائے اور انہیں تلاش کر کے ان کی بیعت کی جائے۔ کیو نکہ امام مہدی خود بخود ظاہر نہیں ہوں گے، بلکہ علماء کی ایک جماعت ان کی تلاش میں ہوگی اور اصرار کے ساتھ ان کی بیعت کرے گی۔
تفصیل مذکور کی روشنی میں سؤال یہ ہےکہ کیا اس نام، ولدیت اور دیگر متعلقہ علامات موجود ہونے میں اس کا کوئی گنا ہ ہے ،اس کو اس بناء پرفتنہ کہنا شرعا درست ہے ؟ نیزکیاان علامات کی بنا پر یہ کہنا درست ہے کہ اس میں امام مہدی کی علامات پائی جاتی ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلی بات تو یہ سمجھ لیناضروری ہے کہ جمہورامت مسلمہ کےنزدیک نظریہ ظہور مہدی رضی اللہ عنہ اہلسنت کےعقائد میں شامل ہے،چنانچہ متعدد کبار ائمہ حدیث کی متنوع کتب حدیث یعنی سنن ،مسانیدومعاجم ،بلکہ بعض کتب صحاح میں بھی مثلا سنن ابو داوود ، سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ وغیرہ میں اس کی روایات منقول ہیں اورمتعدداہل علم مثلا حافظ ابو الحسن آبری ، علامہ شوکانی اور علامہ کتانی وغیرہم رحمہم اللہ تعالی نے ظہور مہدی کی احادیث و روایات کے تواتر معنوی کی تصریح فرمائی ہے، اوران میں سے بعض حضرات نے اس بارے میں مستقل تالیفات بھی تصنیف فرمائی ہیں۔سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ میں علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ان احادیث کی تصحیح متعدد اہل علم سے نقل فرمائی ہے۔
دوسری بات یہ کہ صحیح احادیث کی روشنی میں امام مہدی رضی اللہ عنہ کی علامات کون کونسی ہیں؟ تواس بارے میں راہ اعتدال یہ ہے کہ یہ بات تویقین کی حد تک ثابت ہے کہ آخر زمانہ میں دجال کے خروج کے بعد مہدی( نامی نہیں بلکہ) باوصف شخصیت کا ظہور ہوگا، یعنی وہ ایک کامل (سو فیصد) ہدایت یافتہ شخص ہوگا اوراس کا ظہورنزول عیسی علیہ السلام سے قبل ہوگا اور اس کی پہچان رکن یمانی اور مقام ابراہیم کی درمیانی جگہ میں علماء وقت کریں گے،جبکہ خودوہ منصب اور شہرت سے گریزاں ہونگے اور اس کے بعد وہ اپنے دور کے اہل اسلام بالخصوص مجاہدین کےمسلمہ سربراہ بنیں گے۔اس کے علاوہ ان کے اور ان کےوالد اوروا لدہ کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورآپکے والدین کےہمنام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمشکل ہونا اور یہ کہ وہ سیداور اہلبیت میں سے ہونگے، اور انکی خلافت کی تایید میں آسمان سے غیبی آوازکا آنایہ سب علامات اورباتیں ظنی اوراخبار احاد سے ثابت ہیں۔
لہذامحض ظنی علامات یعنی ناموں وغیرہ کے توافق کی بنیاد پردیگریقینی علامات کے ظہور سے پہلے کسی کومتعین طور پرمہدی کہنا جائز نہیں،لہذاجب تک قطعی علامات واضح نہ ہوجائیں، محض بعض ظنی علامات کی بنیاد پر کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ فلان میں مہدی کی علامات پائی جاتی ہیں،اگر اس سے مقصد مہدی ہونے کا احتمال بتانا ہوتویہ صرف کسی ایک خاص شخصیت کے ساتھ خاص نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ امکانی معاملہ ہر صاحب ایمان اور کامل مؤمن کے بارے میں محتمل ہے کہ وہ مہدی ہوں اور اگر اس سے یقین یا ظن غالب کے درجہ میں کسی کےمہدی ہونے کو بتلانا ہو تو یہ جائز نہیں۔
تیسری بات یہ کہ موجودہ شیخ حسن تہامی کے بارے میں عرب میڈیا سے جو دستاویزی ثبوت پر مشتمل تنقیدی بیانات ملے ہیں ، انکی روشنی میں یہ شخص اور اس کی جماعت والےنظریاتی طور پرخوارج کی طرح اپنے مخالفین کی تکفیر کرتے ہیں اورمخالفین کے قتل کو جائز سمجھنےکےبھی قائل ہیں اورروافض و معتزلہ کی طرح بعض صحابہ بالخصوص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت اور عدالت مطلقہ کا انکار کرتے ہیں، اور اصول ومآخذ دین میں قرآن وسنت کے علاوہ صرف عترت وآل رسول کے معتبر ہونے کادعوی کرتے ہیں، یعنی صحابہ میں سے صرف آل رسول کو دین کا مرجع وماخذ سمجھتےہیں، گویا یہ جماعت نظریاتی طور پر خوارج ،معتزلہ اوراہل تشیع کے نظریات کا ملغوبہ ہے، البتہ نہایت عیاری ومکاری کے ساتھ شیعہ وسنی اتحاد کی علمبرداری کے پیچھے اپنے رہنما کے مہدیت کےدعوی کے لیے راہ ہموار کرتی ہے،لہذا درحقیقت یہ پوری تحریک اس حسن تہامی نامی شخص نے اپنےدعوی مہدیت و خلافت کےلیے تمہید کے طور پر شروع کی تھی، چند وجوہ سے یہ تحریک مشکوک ومخدوش ہے۔
پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس تحریک کے بانی کا اصل نام محمد بن عبدہ ہے(جسے چھپانے کےلیےاپنا نام حسن تہامی کردیا ،)جب کہ روایات میں مہدی اور اس کے والدکا نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے والد کے ہمنام ہونےکا صراحت کے ساتھ ذکر ملتا ہے،جبکہ اس کے والد کا نام عبدہ تھا جس کو یہ لوگ عبداللہ کا مخفف قرار دینے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں ۔
دوسری وجہ یہ ہےکہ یہ شخص بظاہر اپنےمہدی ہونے کا انکار کرتا ہے اوراپنے کومن انصار المھدی کہتا ہے،لیکن اس کا یہ سب کچھ اسی دعوی مترقبہ کی تمہید ہے ، اس لیےکہ اس نے روایات مہدی میں یہ خوب اچھی طرح پڑھا ہے کہ مہدی اپنے خلیفہ مہدی ہونے کا انکار کرے گااور ایسے موقع پر وہ یہ کہے گا کہ میں انصار میں سے ہوں،لہذا اس شخص نے مستقبل کے دعوی مہدیت کےلیے انصار المہدی کی تنظیم قائم کر لی اوربظاہر اپنی مہدیت کا انکار کرکے اپنے کو انصار مہدی میں سے کہنا مہدیت کے اسی دعوی مترقبہ کا عیارانہ تمہیدی آغاز ہے۔لہذا اس سارے پس منظرمیں اس کے ماننے والوں کا اپنے رہنما حسن تہامی کے بارے یہ کہنا کہ ان میں مہدی کی علامات پائی جاتی ہیں، انہیں مہدی قرار دینےہی کے مترادف ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ جماعت بہت ساری روایات کو قطع وبرید کرکے اپنی جماعت اور اس کےساتھیوں پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ مہدی کی آمدورفت مدینہ ،مکہ کے درمیان ہوگی، جبکہ حسن تہامی مکہ سے جلاوطنی کے بعد یمن کی طرف گئےہیں، اسی وجہ سے علماء عرب وحکومت نے اس کی مخالفت کی ہے، اور اسے جیل کی سزابھی کاٹنی پڑی ہے۔(مزیدتفصیل کےلیےیوٹیوب پر محمد بن شمس الدین نامی عربی پیج درج ذیل لنک پر ملاحظہ ہو۔
https://www.youtube.com/watch?v=p_izaIqEw5Y&ab_channel=)
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
10ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


