03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا اہلسنت کے نزدیک امامت اور نبوت میں صرف انقطاع وحی کا فرق ہے؟
88697ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

جس طرح ہم کہتے ہیں کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے لیکن کار نبوت باقی ہے، ایسا ہی حسن التہامی نے لکھا ہے :

ھی مقام و منزلۃ تشبه مقامات الأنبياء إلا أنه لا وحي فيها، وفيها من الأعمال والعلم والالهام وإذهاب الرجس و التطھیر و شاهد ها قوله  صلی اللہ علیہ وسلم  علی منہ کمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبي بعدي("المهدي من عترتي ، ص ۱۵)

یہی بات مولانا یوسف لدھیانوی نے لکھی ہے: جو شخص ریاست و اقتدار تو نہیں رکھتا، لیکن دینی علوم کی کسی شاخ میں مہارت و بصیرت رکھتا ہو، لوگ اس کے علم و فہم اور ماہرانہ بصیرت پر اعتماد کرتے ہوں اور وہ اپنے فن میں لوگوں کا مرجع اور مقتد ا ہو ، اس کو اس فن کا "امام " کہا جاتا ہے۔ آیت شریفہ " واجعلنا للمتقین اماما " میں امام کے یہی معنی مراد ہیں۔ حضرات شیعہ جن اکابر کو امام کہتے ہیں اسی دوسرے معنی کے لحاظ سے وہ در حقیقت اہل سنت کے امام ہیں۔ (بولتے حقائق ، ص ۲۲۹)

قرآن و سنت میں امامت کا لفظ و معنی موجود ہے، اس سے ائمہ اہل سنت نے فرق مراتب کا لحاظ رکھتے ہوئے مصادر شریعت میں سے ہر ایک پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔

تفصیل مذکور کی روشنی  میں سؤال یہ ہےکہکیا علمائے دیوبند کی ان نصوص اور شیخ حسن التہامی کی خط کشیدہ عبارت میں کوئی فرق ہے ؟ کیا یہ عقیدہ رکھنا واقعتا حرام ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اہلسنت اور علماء دیوبند   کے نزدیک امامت کے لغوی مفہوم کے اعتبارسے جملہ مقتدیان ملت اور مبلغین دین مثلا صحابہ کرام، تابعین وتبع تابعین ،ائمہ مجتہدین وغیرہ کو امام کہنا درست ہے اورفقہی اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے امامت اعلی ریاستی اقتدار کے منصب کو بھی کہا جاتا ہے،لیکن اس  مفہوم کی اہل بیت کے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں، اور نہ ہی یہ اہل بیت سمیت کسی کا حق ہے، لہذا  یہ منصب  ایک شرعی  ذمہ داری ہے اوراس    پرنصب و تقرر الہامی نہیں،بلکہ  اس کا طریقہ کار بنیادی طور پر شورائی عمل ہے، نیزاگرچہ  یہ منصب نیابۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ہے، لیکن  اس    منصب کی تشریعی   کوئی حیثیت  نہیں یعنی یہ مصادر شرعیہ میں سے کوئی مصدر وماخذ بھی نہیں،بلکہ یہ محض تنفیذ شریعت کا ایک  عام اور اعلی  منصب وذمہ دارشعبہ ہے،  جبکہ  حسن تہامی کے نزدیک امامت  وہبی ہے اور یہ بنیادی طور پر اہل بیت کے ساتھ خاص ہے اور ان کا حق  شرعی ہےاوریہ مصادر شریعت میں سے ایک  تشریعی مصدر بھی ہےاور اس کا مرتبہ نبوت کے برابر ہے،البتہ فرق صرف وحی آنے اور نہ آنے کا ہے،جیساکہ انکی گذشتہ عبارات سےیہ باتیں واضح ہیں، چنانچہ حسن تہامی کی عبارات ھی اصطفاء من اللہ  اور و شاهد ها قوله  صلی اللہ علیہ وسلم  علی منہ کمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبي بعدي  وغیرہ کے الفاظ  سے اس کی تصریح گذرچکی ہے۔

لہذااہل سنت کے نزدیک  لغوی مفہوم  کے اعتبار سےتمام صحابہ رضی اللہ عنہم وائمہ دین  بلا کسی تفریق سب کے سب بحیثیت جماعت اور بحیثیت افراد  اس امت کے لیے امام  اور پیشوا ہیں اور تشریعی مصدر کے اعتبار سے جملہ صحابہ کرام معیار حق ہیں،اسی طرح اصطلاحی مفہوم  کے اعتبار سے بھی امامت کبری   نہ تو مصدر شرعی ہے اور نہ ہی  یہ اہل  بیت کے ساتھ خاص ہے، لہذا بعض صحابہ کرام یعنی خاص اہل بیت کولغوی یا اصطلاحی مفہوم  کے اعتبار سے امامت کے ساتھ مخصوص کرنا اہلسنت کے طریقہ کے خلاف  ہے ،بلکہ اس  سے رفض اور تشیع کی واضح بوبھی آتی ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔

 نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

10ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب