| 88700 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
جس طرح ائمہ اہل سنت امامت کو قرآن مجید کی کئی آیات مبارکہ مثلا(الاحزاب : ۳۳) مفسرین عظام کی تفاسیر اور صحیح احادیث مبارکہ مثلا( صحیح مسلم کتاب فضائل اہل بیت النبی، رقم: ۲۴۲۴، ج ۳ ص ۱۸۸۳ - مسند احمد، حدیث مہران، رقم: ۱۵۷۰۸، ج ۲۴ ،ص ۴۷۸۔ مسند احمد حدیث زید بن ارقم،رقم۱۹۲۶۵،ج ۳۲،ص۱۰۔ مسند احمد، مسند النساء، حدیث ام سلمہ ، رقم: ۲۶۵۰۸، ،ج۲۴،ص۱۱۹۔ طبع مؤسسه الر ساله بیر وت)کی روشنی میں یہ مرتبہ خاص عترت اہل بیت کے لیے مختص سمجھتے ہیں اور یہ بات جمہور حضرات محققین، محدثین اور فقہائے کرام کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ (النھج السھل لموسی البازی ، ص ۲۳۔ معارف الحدیث ، ج ۷ ص ۲۷۴) ایساہی نظریہ حرکتہ انصار المہدی کا بھی ہے۔ چنانچہ حرکۃ انصار المہدی کی کتاب میں ہے:و شرط الاجماع أن يكون من العترة (ص (۱۵)
تفصیل مذکور کی روشنی میں سؤال یہ ہے کہائمہ اہل بیت کے بارے میں حضرات اہل السنت اور حرکۃ انصار المہدی کے اس عقیدے میں کوئی فرق ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس بارے میں اہل سنت اور حرکۃ انصار المہدی کے نظریہ میں بہت بڑا فرق ہے ،چنانچہ اہل سنت قرآن وسنت کی متعدد نصوص کی روشنی میں یقینا اہل بیت اور عترت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص فضائل اور اعلی مقام اور مرتبہ کے اگرچہ قائل ہیں، لیکن ان مقامات اوران فضائل کی وجہ سے قرآن وسنت میں وارد دیگر صحابہ کرام کے فضائل سے بھی صرف نظر و انکاریاتاویل نہیں کرتے ،بلکہ ان کے بھی کما حقہ قائل ہیں،لہذا اہل سنت اہل بیت کے احترام اور تعظیم اور انکے اعلی علمی وروحانی مقام کے اعتراف کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہوئے دیگر صحابہ کی عدالت اور فضائل کے بھی قائل ہیں جس کا ثبوت اہل سنت کی کتب عقائد کے علاوہ کتب احادیث میں موجود مناقب و فضائل اہل بیت کے ساتھ ساتھ مناقب وفضائل صحابہ پر مشتمل تفصیلی ابواب وعناوین ہیں،( حجیت آثار صحابہ اورحدیث اصحابی کالنجوم کی مفصل ومدلل تحقیق کے لیے علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ تعالی کا رسالہ تحفۃ الاخیار فی احیاء سنۃ سید الابرار مع حاشیتہ نخبۃ الانظار مندرج رسائل لکھنوی :ج۴ میں ملا حظہ ہو۔) نیزاہل سنت علمی اور عملی دونوں لحاظ سےجملہ اہل بیت کے لیے فرق مراتب کےلحاظ کے ساتھ خصوصی منصوص فضائل اور ان کےاعلی علمی وروحانی مقام کے قائل ہونے کے ساتھ ان کے تقاضوں پر عامل بھی ہیں چنانچہ(۱) سورہ احزاب کی آیات کے تناظر میں تمام ازواج مطہرات کے لیے بلا کسی تاویل وتخصیص کے عمل صالح پر دوگنے اجر کے وعدہ الہیہ کو مانتے ہیں (۲) اسی طرح صلاۃ وسلام علی النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں دیگر صحابہ کے ساتھ اہل بیت وآل رسول کو بھی خصوصی طور پر شامل کرتے ہیں،بلکہ بعض صیغوں میں آل کو جملہ صحابہ پر مقدم بھی کرتے ہیں(۳) اسی طرح سلاسل طریقت کا منبع ومرجع بھی اہل بیت ہی کو مانتے ہیں ،جیساکہ تفسیر مظہری اور مداد الفتاوی: ج۶،ص۱۳۷کی عبارات سے بھی واضح ہے(۴) جملہ فقہ اسلامی میں بالعموم اور فقہ حنفی میں بالخصوص اہل بیت کے آثار کو خصوصی وامتیازی مقام حاصل ہے چنانچہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی نے ایک طرف اپنی فقہ کی بنیاد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فتووں اورعدالتی فیصلوں پر رکھی تو دوسری طرف انہیں امام جعفر صادق سے شرف تلمذ بھی حاصل ہے۔(مقدمہ تنسیق النظام شرح مسند الامام اعظم و امداد الفتاوی:ج۶،ص۱۳۷)لیکن اس سب کے باوجود امامت، اجتہاد اور اجماع اور مصدر وماخذ شرعی کے لحاظ سے وہ اہل بیت کی خصوصیت کے قائل نہیں، اس لیے کہ اس خصوصیت کی قرآن وسنت سے کوئی صحیح صریح غیر معارض دلیل موجود نہیں ،بلکہ اس بارے میں منقول تمام روایات سے جملہ صحابہ کے آثار اور اقوال اور اجماع کی تشریعی حیثیت ہی ثابت ہوتی ہے۔
تحقیق حدیث ثقلین:
چنانچہ شیخ الاسلام علامہ مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالی نے مسلم شریف کی مشہور معروف مایہ ناز اور لاجواب شرح فتح الملہم کے تکملہ کی جلد پنجم کے ص:۱۱۰ تا ۱۱۲ میں اس بارے میں منقول جملہ روایات بالخصوص حدیث ثقلین پر تفصیلی کلام فرمایاہے ، جس کا حاصل یہی ہے کہ اس روایت کے صحیح طرق میں اہل بیت کے مصدر شرعی ہونے کا ذکر نہیں ، صحیح روایات میں صرف قرآن وسنت کے تشریعی ماخذ ہونے کی تصریح ملتی ہے اور اہل بیت کے بارے میں صحیح روایات سے صرف ان کے اکرام، ادب واحترام کی خصوصی پاسداری کی تاکید منقول ہے حیث روی الامام مسلم رحمہ اللہ فی صحیحہ من قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : اذکرکم اللہ فی اھل بیتی ،ثلاث مرات، نیز حضرت شیخ الاسلام حفظہ اللہ تعالی نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس روایت میں اہل بیت کے ماخذ ہونے کاذکر ملتا ہے وہ روایت سندا منکر وضعیف ہے اوراگربالفرض یہ روایت صحیح اور ثابت بھی ہوتوبھی اہل بیت کے ذکر سے سنت رسول ہی مراد ہوگی ، اس لیے کہ اہل بیت سنت رسول کا عملی نمونہ اور تشریح تھے، اور علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کے مطابق اس کا مقصد صرف جملہ اہل بیت کے اجماع کے بھی معتبر ہونے کو بتلانا ہےیعنی اجماع کے تحقق کے لیے جملہ اہل بیت کا اتفاق بھی کافی ہے جیساکہ بعض حنابلہ کی بھی یہی رائے ہےیا یہ بتلانا ہے کہ اہل بیت کبھی بھی کسی غلط اور ناجائز بات پر متفق نہیں ہوسکتے، لیکن اس سے نہ تو بعض اہل بیت کے اجماع کا معتبر ہونا ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی دوسرے صحابہ کرام یا ائمہ دین کے اجماع کا معتبر نہ ہونا ثابت ہوتاہے،بلکہ خود اہل بیت کے اہل علم بالخصوص حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے فتاوی کو دوسروں کے لیے واجب الاتباع نہ سمجھتے اور نہ واجب الاتباع قرار دیتے تھے۔ لہذا اہل سنت والجماعت حب اہل بیت یا آل رسول کی آڑ میں دیگر صحابہ کرام کی بے ادبی یا تنقیص کو جائز نہیں سمجھتے، بلکہ جملہ صحابہ کرام کے ساتھ ساتھ تابعین وتبع تابعین کو بھی دین کا مرجع سمجھتے ہیں،جیساکہ اہل سنت کی کتب اصول فقہ میں اس کی تصریحات موجود ہیں، اور حدیث ٍصحیحخیر القرون قرنی ( متفق علیہ)سے یہ موقف ثابت ومؤید بھی ہے،جبکہ حسن تہامی وحرکۃ انصارالمہدی کو اہل تشیع کی طرح صرف اہل بیت کے تشریعی مصدر ومرجع ہونے پر اصرار ہے ،جیساکہ شرط اجماع کے ذیل میں انہوں نے اہل تشیع کی طرح صرف اجماع اہل بیت کی حجیت پر انحصارواصرار کیا ہے۔لہذا یہ عبارت صریح دلیل ہے کہ حسن تہامی اور اس کے پیروکار اصول میں اہل تشیع سے متاثر ضرور ہیں۔
حوالہ جات
اصول السرخسي ـ محمد بن أحمد السرخسي (1/ 314):
ومن الناس من يقول لا إجماع إلا لعترة الرسول لأنهم المخصوصون بقرابة رسول الله صلى الله عليه و سلم وأسباب العز قال عليه السلام إني تارك فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي إن تمسكتم بهما لم تضلوا بعدي وقال تعالى إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا
ولكنا نقول أنواع الكرامة لأهل البيت متفق عليه ولكن حكم الإجماع الموجب للعلم باعتبار نصوص ومعاني لا يختص ذلك بأهل البيت والنسب ليس من ذلك في شيء فالتخصيص به يكون زيادة كيف وقد قال تعالى واتبع سبيل من أناب إلي فكل من كان منيبا إلى ربه فهو داخل في هذه الآية وهو مراد بقوله تعالى ويتبع غير سبيل المؤمنين كما ذكرنا من الاستدلال به
وقال فی المنتخب للحسامی:ص ۹۴:
وقال بعضھم : لااجماع الا لعترۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔
وقال المحشی الشیخ العلامۃ نظام الدین الکیرانوی رحمہ اللہ تعالی فی حاشیتہ المسماۃ بالنظامی: قولہ بعضھم وھم الزیدیۃ والامامیۃ من الروافض۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
10ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


