| 88699 | ایمان وعقائد | اسلامی فرقوں کابیان |
سوال
حرکت انصار المہدی تین ثقل مانتی ہے : (۱) ۔ کتاب الله (۲) سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم - (۳) عترت رسول ۔عترت کو مستقل ثقل سمجھنے کا قول بعض اکابر کا بھی ہے۔ جیسا کہ شیخ الحدیث مولا ناز کریا کاند ھلوی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں :اس حدیث میں قرآن اور آل رسول کو دو وجہ سے ثقلین کہا ہے :
۱۔ثقل ہر نفیس اور عمدہ شی کو لکھتے ہیں ، اور یہ دونوں ایسے ہی ہیں، کیونکہ دونوں ہی علوم لدنیہ اور اسرار و حکم عالیہ اور احکام شرعیہ کے معدن ہیں، اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اقتداء کا حکم فرمایا۔
۲۔ دونوں کا اتباع اور ان کے حقوق کی رعایت کا وجوب ثقیل ہے۔ دنیائے دین وایمان قرآن اور آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آباد اور اصلاح پذیر ہے ، اس مشابہت کی وجہ سے کتاب اللہ اور آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ثقلین فرمایا گیا۔ لیکن یہ یادر ہے کہ آل سے صرف وہ لوگ ہی مراد ہیں، جو عالم کتاب اور ماہر سنت ہیں اور جو مبتدع ہیں ان کی اتباع کا قطعا حکم نہیں ہے، بلکہ ابتداع سے احتراز واجب ہے۔ (الیواقیت الغالیہ ، مولانا یونس، ج اص ۱۴۹) اللہ تعالی کا فضل ہے کہ ہر دور میں ایسے ائمہ اہل بیت موجود ہوتے ہیں، جو شریعت کے مطابق دین میں امامت کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں، چنانچہ تفسیر مظہری میں ہے :
و من أجل ذلك ترى كثيرا من سلاسل المشائخ تنتهى الى ائمة اهل البيت و مضى كثير من الأولياء في السادات العظام منهم غوث الثقلین محی الدين عبد القادر الجيلاني الحسن الحسيني و بهاء الدين النقشبندي والسيد السند مودود الچشتی وسید معین الدین الچشتی وابوالحسن الشاذلی و غیر هم و من اجل ذالک قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی تارک فیکم ثقلین کتاب اللہ وعترتی و قال اکثر علماءالتفسیر الاستثناء(فی آیۃ مودۃ القربی من سورۃ الشوری) منقطع والا جر مستعمل في معناه الحقيقي فالمعنی لااسئلکم اجرا قط ولکنی اذکرکم المودۃ فی القربی واذکرکم قرابتی منکم کما ورد فی حدیث حدیث زید بن ارقم اذ کر کم اللہ فی بیتی و مما یدل علی ان سوال صلی اللہ علیہ وسلم مودۃ نفسہ واقربائہ کان لینتفع بھا امتہ قولہ تعالی ومن یقترف حسنۃ اى من يكتسب حسنة والمراد بھاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ ونوابہ والا فلامناسبۃ لھذہ الجملۃ بماسبق لکن اللفظ عام یعم کل حسنۃ(نزدلہ فیھاحسنا وذلک ان حب آل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (و هم مشایخ الطريقة) مثمر للمزید فی حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم
چنانچہ اسی وجہ سے حرکۃانصار المہدی کے امام ابن الوزیر الیمانی نے العواصم والقواصم في الذب عن سنة أبي القاسم میں لکھا ہے :لایجوزخلو عصر من الاعصار الی یوم القیامۃ من عالم مجتھد من اھل البيت. اہل بیت کے ساتھ عقیدت انہی حدودوقیود کے ساتھ کرتے ہیں،جیسا کہ امداد الفتاوی میں ہے جلد ششم، ص۱۳۲ تا۱۴۰، سوال ۴۶۳ تا ۴۶۷
تفصیل مذکور کی روشنی میں سؤال یہ ہےکہکیا قرآن وسنت کے مطا بق زندگی گزارنےوالے ان ائمہ اہل بیت کو دین کا مرجع سمجھنا گناہ ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مآخذومصادر دین کےلیے تین ثقل کی تعبیر اہل تشیع سے ماخوذ ہے ،یہ اہل سنت کا منہج ومسلک نہیں،اہلسنت کے نزدیک ائمہ اہل بیت کو دین کا مرجع بمعنی ناقل ،شارح ومفسرسمجھنا یقینا درست ہے،لیکن دوسرے صحابہ کرام کی اس حیثیت کا انکار یقینا عظیم جرم اور گناہ بھی ہے ،اسی طرح اہل بیت کو امامت کے منگھڑت مفہوم کے مطابق امام سمجھنا بھی بلا شبہہ غلط اور بدعت ہے۔لہذا حسن تہامی اور اس کی جماعت کا صرف اہل بیت کو اوروہ بھی اپنے منگھڑت مفہوم کے مطابق مرجع دین سمجھنا،کہنا در اصل تشیع کی عکاسی کرتا ہے۔باقی تفسیر مظہری کی عبارت اور امد اد الفتاوی کی عبارت کاحاصل بھی یہی ہے کہ اصول اہل بیت کو اللہ تعالی نے براہ راست یا بواسطہ جملہ علوم دینیہ ظاہرہ وباطنہ میں مرجع بنایا ہے، بالخصوص تزکیہ باطن کے سلسلہ میں،لیکن نہ تو ہر دور میں جملہ اہل بیت سے مجتہد ہونا ضروری ہے اور نہ ہرمجتہد کےلیے اہل بیت میں سے ہونا ضروری ہے۔جبکہ العواصم کی مذکورہ عبارت اس حاصل کےپہلے جزو کی نفی کرتی ہے جو دعوی بلا دلیل شرعی ہے۔باقی حدیث ثقلین کے بارے میں تحقیق اگلے جواب کے تحت آرہی ہے۔( مزیدتفصیل کے لیے کتاب عقیدہ امامت اور حدیث غدیر از مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی رحمہ اللہ تعالی ملاحظہ ہو۔)
حوالہ جات
۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
10ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


