03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تشدّد اور ستم کی وجہ سے خلع لینے کا حکم
88655طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

میرا نام اسماء بنت صفوان ہے۔ میری شادی عبد الحسیب ولد نعیم اللہ کے ساتھ 10 اپریل 2025 کو ہوئی۔ شادی کے بعد میں اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر ہوئی۔ شادی کے بعد تعلقات نارمل رہے، کچھ عرصے بعد میں ایک تقریب کے لیے اپنے میکے واپس آئی اور میکے آکر دیکھا کہ جو سونا مجھے حق مہر میں ملا ہے وہ میرے بیگ میں نہیں ہے ، حالانکہ اپنے سسرال سے آتے وقت میں نے سونا اپنے بیگ میں اپنے شوہر کی اجازت سے رکھا تھا۔ میں نے اپنے شوہر سے معلوم کیا تو وہ مجھ سے کہنے لگے کہ میری مرضی، میرا  دل جو چاہے کروں اس لیے رکھ لیا، اس پر میرے شوہر نے بدتمیزی کی اور میں چند دن میکے رہی ،پھر والدین نے صلح صفائی کرائی اورپھر  مجھے سسرال چھوڑ آئے۔

اس کے بعد مجھے سسرال میں اسی قسم کی باتوں پر تشددکانشانہ بنایا گیااور تب مجھ پر میرے شوہر کی زبانی انکشاف ہوا کہ اس شخص نے اپنے آپ کو انتہائی جھوٹ سے دیندار ظاہر کیا، ہر بات پر قرآن کی قسم اٹھانے کا عادی ہے اور خودہی کہا کہ پہلے میں ایک شادی کر کے اس بیوی کو اسی طرح ذلیل کر کے چھوڑ چکاہوں ،اور اب مجھ پر کھانے پینے میں بھی انتہائی ظلم کرتے ہیں حتی کہ میرے کچھ زیورات جو منہ دکھائی نکاح  میں دیئے تھے وہ بھی یہ کہہ کر چھین لیے کہ یہ میری ماں کے ہیں ،میں نے عارضی طور پر نکاح کے وقت دیے تھے۔ ہمیشہ گالیاں دیتا ہے ، ساس ( میری والدہ) کے لیے غلیظ الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تمہاری امی کمرہ بند کر کے سوتی ہیں، تمہاری امی تو جوان ہیں مزید بچے کیوں نہیں ہو رہے ہیں؟

یہاں تک کہ میرے بھائی اور ماموں کے بارے بھی غلیظ باتیں کرتے ہیں اور لڑائی کے دوران ہمیشہ میری والدہ کے بارے میں غلیظ الفاظ استعمال کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ میں دو ہزار دے کر آوارہ لڑکیوں سے اپنا مقصد پورا کر سکتا ہوں مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں، اور تمہیں میں اتناذلیل کروں گا کہ تم خود خلع لینے پر مجبور ہو جاؤ گی اور مجھے میرا دیا ہوا حق مہر واپس مل جائے گا،میں نے جو سونا تمہیں دے کر شادی کی تھی پہلی والی شادی بھی اسی سونے سے کی تھی اور اس لڑکی کو ذلیل کر کے سونا اور حق مہر سب واپس لے لیا تھا،  اب تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کروں گا اور تمہارے جانے کے بعد تیسری شادی بھی اسی طرح کروں گا تم بتاؤ اب تم کب مجھ سے خلع لوگی؟

اس صورت حال میں میرے پاس موبائل فون بھی نہیں تھا، پھر ایک دن موقع پا کر میں نے اپنے شوہر کے موبائل سے اپنے گھر فون کر کے ساری تفصیل بتائی اور میرے والد مجھے گھر لے آئے۔ اب میں واپس سسرال نہیں جانا چاہتی کیونکہ مجھے اپنی جان کا خدشہ ہے اور نہ ہی وہ لوگ کسی قسم کی بات چیت یا نرمی کے لیے تیار ہیں۔ میرے گھر والوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ طلاق دے دیں لیکن وہ اپنا مہر واپس لینے کے لیے یا مجھے لٹکا کر رکھنے کے لیے طلاق نہیں دینا چاہتے ۔

-1اب اس صورت حال میں اگر میں عدالت سے خلع لوں تو کیا یہ عدالتی خلع شر عادرست ہو گایا نہیں ؟

-2ا ور کیا مجھے حق مہر واپس کرنا ہو گا؟

-3کیا یہ شرعا خلع شمار ہو گایا نہیں ؟

-4 نیز اگر مجھے حق مہر واپس کرنا پڑے تو کیا وہ لوگ بھی شرعا اس کے پابند ہوں گے کہ میرا جہیز کا سامان لوٹادیں؟

براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بشرط صحت سوال شوہر کا یہ طرز  عمل جیسا کہ آپ کو گالی دینا ،تشدد کا نشانہ بنانا ،کھانے پینے میں ظلم کرنا اورنکاح میں دیا ہوا سونا واپس چھین لینا، شرعا جائز نہیں ہے ،کیونکہ عقدِ نکاح ایک بہت بڑی نعمت ہے ، شریعت مطہرہ نے اس میں مداومت اور  ہمیشگی کو پسند کیا ہے اور حتی الامکان اس رشتہ میں جدائی اور توڑ ڈالنے سے منع کیا ہے، تاکہ زوجین بے راہ روی، عصمت دری اور معاشرتی فتن وفساد سے ماوراء رہ کر عفت وسکون اور  الفت و مودّت سے اپنی زندگی گزار سکیں۔اسی وجہ سے شریعت نے زوجین پر ایک دوسرے کے حقوق کو بھی لازم قرار دیا ہے اور اس میں کوتاہی کرنے والے کے لئے سخت مؤاخذہ کا اعلان کیا ہے۔

لہٰذا سب سے پہلے آپ  دونوں کو چاہیئے کہ آ ٓپس میں محبت و اتفاق سے رہنے کا عزم کرلیں،یہی قرآن و سنت کی تعلیمات کے زیادہ موافق اور بہتر ہے۔کمافی قولہ تعالیٰ: وَالصُّلْحُ خَیْر (النساء:۱۲۸)  آپس میں مصالحت اور اتفاق کر لینا ہی بہتر ہے۔لیکن اگر پھر بھی کچھ اختلافات باقی رہیں تو فریقین کے بڑے (اہل حل و عقد) آپس میں بیٹھ کر آپ دونوں میں صلح و صفائی کروادیں ان شاء الله یہی آپ کے لئے بہتری کا ذریعہ بنے گا، البتہ اگر پھر بھی تعلقات اس حد تک بڑھ جائیں کہ معاملہ لڑائی جھگڑے اور فتنہ فساد تک پہنچ جائے اور اتفاق و ملاپ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور ڈر ہو کہ دونوں الله تعالی کی حدود کو پامال کریں گے تو آپ کے شوہر کو چاہیئے کہ آپ کو ایک طلاق دے کر جدا کردے یا پھر خلع کرنے پر راضی ہوجائے۔  

-1صورت مسؤلہ میں مذکورہ تفصیل کے مطابق اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ خلع پراور نہ ہی آپ کو ساتھ رکھ کر مارپیٹ، ستم و زیادتی اور تشدد سے باز آنے کے لیے تیار ہو، تو ایسے میں ظلم و تشدد کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرنا جائز ہے۔ اس صورت میں   آپ  بامرِ مجبوری کسی مسلمان جج کی عدالت میں شوہرکے ظلم کرنے کی بنیاد پر فسخِ نکاح کامقدمہ دائر کریں، جس کا طریقۂ کار یہ ہےکہ آپ  سب سے پہلے عدالت میں شرعی گواہوں کے ذریعہ اپنے نکاح کو ثابت کریں ، اس  کے بعد شوہر کےظلم وتشدد  کو دو شرعی گواہوں کےذریعہ ثابت کریں، اگر آپ اس دعوے کو دو شرعی گواہوں سے ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئیں، تو  عدالت شوہر کو حاضر ہونے کا حکم دےگا۔ اگر شوہر حاضر نہ ہو یا حاضر ہو اور ظلم سے باز نہ آئے تو قاضی آپ دونوں کے نکاح کو فسخ کردے۔

-2اس حوالے سے معلوم ہونا چاہیے کہ خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین (عاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لیے بھی زوجین (میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہے۔اگر آپ دونوں  کی رضامندی سے خلع ہوا تو اس میں جو عوض طے ہووہی آپ پر شوہر کو ادا کرنا ذمے میں لازم ہوگا، اگر خلع مہر کے عوض ہوا ہو اور شوہر نے اب تک مہر ادا نہ کیا ہو تو شوہر پر مہر ادا کرنا لازم نہیں ہوگا اوراگر شوہر نے مہر ادا کر دیا ہو تو آپ پر صرف شوہر کا ادا کیا ہوا مہر لوٹانا ضروری ہو گا، ورنہ جس چیز کے عوض خلع کیا گیا ہو اس کی ادائیگی آپ  کے ذمے لازم ہو گی۔

-3 اگر آپ نے خلع لیتے وقت مذکورہ بالا طریقہ کار کو اپنایا ، یعنی گواہوں کے ذریعے شوہر کا جرم ثابت کیا اور عدالت نے محض آپ    کے بیان پر فیصلہ نہ سنایا تو پھر عدالت کا یہی فیصلہ فسخ نکاح شمار ہوگا، جس کی وجہ سےآپ کا نکاح ختم ہوگا، اس کے بعد آپ عدت (تین ماہواری اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو توبچے کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکیں گی ۔ اگر شوہر کے خلاف دعوی کو عدالت میں گواہوں سے ثابت نہیں کیا گیا اور عدالت نے محض آپ کے دعوی پر خلع کی ڈگری  جاری کر   دی تو عدالت کے یک طرفہ ڈگری جاری کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ، آپ  کا نکاح باقی رہےگا اور کسی دوسری  جگہ نکاح نہیں کرسکیں گی۔

-4ماں باپ کی طرف سے ملا ہوا جہیزآپ کی ملکیت ہے نہ کہ شوہر کی ، لہذا جہیز آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔

حوالہ جات

«صحيح البخاري» (7/ 129):

«عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: جاءت امرأة ثابت بن قيس بن شماس إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ‌ما ‌أنقم ‌على ‌ثابت في دين ولا خلق، إلا أني أخاف الكفر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فتردين عليه حديقته؟ " فقالت: نعم، فردت عليه، وأمره ففارقها.»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 327)/ (1/ 488):

 (الفصل السادس عشر في جهاز البنت) ‌لو ‌جهز ‌ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى.«ولو تزوجها مرارا وخلعها في كل عقد عندنا لا يحل له نكاحها بعد الثلاث قبل الزوج الثاني كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان.حضرة السلطان ليست بشرط لجواز الخلع عند عامة العلماء والصحيح قولهم هكذا في البدائع.إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان.»

أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165):

وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 439):

الخلع (هو) لغة الإزالة، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه).وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

حاشية ابن عابدين (3/ 498):

 قوله ( وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة ,بحر , قوله ( من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.

المبسوط للسرخسي (6/ 173):

(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.

محمدابراہیم عبدالقادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 14/ربیع الثانی /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب