| 88641 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
ایک شرعی مسئلہ میں رہنمائی درکار ہے، مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو 16 سال ہو گئے ہیں ۔ پہلے سال سے میں نے بیوی کو پریشان کرنا شروع کیا، کبھی کہتا کہ میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں ،کبھی کہتا تھا کہ میں آپ کو طلاق دے دوں گا مگروہ برداشت کرتی رہی، پہلے اللہ تعالٰی نے بیٹی کی نعمت سے نوازا پھر بیٹا عطا کیا۔ اُس کے بعد پھر میں نے کہا کہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، بیوی میں کوئی غلطی و خرابی نہ تھی بلکہ وہ تو میری اور فیملی کی خدمت گزار تھی، پھر بیوی نے مجھے کہا کہ اگر آپ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں تو مجھے چھوڑ دیں ،بیشک اُس کے بعد 4 شادیاں کر لیں میں آپ کی تمام زیادتیاں برداشت کر سکتی ہوں،لیکن سوکن برداشت نہیں کر سکتی ۔پھر میں نے اپنی بیوی سے وعدہ کیا کہ آئندہ نہ کبھی دوسری شادی کی بات کروں گا اور نہ شادی کروں گا۔ اس کے بعد ایک بیٹا اور بیٹی بھی پیدا ہوئے اور 16 سال شادی کو گزر گئے۔ اب میں نے وعدہ توڑ کر دوسری شادی چھپ کر کرلی اور دو ماہ بعد پہلی بیوی کو پتہ چل گیا، اب وہ مجھ سے خلع لینا چاہتی ہے کیونکہ اُس نے پہلے مجھے بتایا تھا کہ اگر آپ دوسری شادی کریں گے تو میں خلع لے لوں گی ، اب وہ خلع کا مطالبہ کر رہی ہے اور میں اُسے چھوڑنا نہیں چاہتا کیونکہ ہمارے چار بچے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ دوسری بیوی کو چھوڑ دوں دوں طلاق کی صورت میں اور اس کو 5 لاکھ ادا کر دوں جو کہ اُس نے لکھوایا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مسلمان مرد اگر بیک وقت ایک سے زائد بیوں کے مالی اور جسمانی حقوق ادا کرنے پر قادر ہو، اور ان کے درمیان انصاف اور برابری بھی کرسکتاہو تو اس کے لیے شرعاً دوسری شادی کرنا جائز ہے،اس کے لیے پہلی بیوی کی اجازت لینایا اس کو راضی رکھنا ضروری نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ دونوں بیویوں کے حقوق کی ادائیگی پر قادر ہیں اور کسی بھی بیوی کی حق تلفی نہیں ہورہی ،لیکن پھر بھی بیوی خلع لینے کا مطالبہ کررہی ہے تو یہ نامناسب اور غیر شرعی عمل ہے، بغیر شرعی عذر کے ”خلع“ لینے والی عورت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشادمبارک ہے"أیما امرأۃ سألت زوجھا طلاقاً فی غیر ما بأس فحرام علیھا رائحۃ الجنۃ" (سنن ابی دائود،۱/۳۰۳)کہ جس عورت نے بھی بغیر عذر شرعی کے اپنے شوہر سےطلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہے”المختلعات ھنَّ المنافقات“(الجامع للامام الترمذی ۱/۲۲۵) کہ بغیر عذرِ شرعی کے خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں۔
اور اسی طرح آپ کےلیے بھی جائز نہیں کہ دوسری بیوی کو صرف اس وجہ سے طلاق دیں کہ پہلی بیوی یہ مطالبہ کررہی ہے ۔اب بلاوجہ محض مذکورہ بیوی کی وجہ سے دوسری بیوی کو چھوڑنا گناہ پر گناہ ہوگا، جس سے اجتناب ضروری ہےاور یہ مطالبہ پورا کرناآپ کے ذمہ لازم نہیں ہے۔آپ کسی بھی طرح اب دونوں بیویوں کے حقوق کی پاسداری کریں ورنہ عنداللہ ماخوذ ہونگے، اوردوسری بیوی کو طلاق دینے کے بجائےپہلی بیوی کو حکمت ومصلحت کے ساتھ سمجھا ئیں۔
حوالہ جات
بذل المجهود في حل سنن أبي داود» (8/ 133):
«وفي رواية البخاري: قال: "لا يحل لامرأة تسأل طلاق أختها"، الحديث. قال الحافظ: ظاهره تحريم ذلك، وهو محمول على ما إذا لم يكن هناك سبب، يجوز ذلك كريبة في المرأة لا ينبغي معها أن تستمر في عصمة الزوج، أو لضرر يحصل لها من الزوج، أو للزوج منها، أو يكون سؤالها ذلك بعوض، وللزوج رغبة في ذلك، فيكون كالخلع مع الأجنبي إلى غير ذلك من المقاصد المختلفة.
وقال ابن حبيب: حمل العلماء هذا النهي على الندب، فلو فعل ذلك لم يفسخ النكاح. وتعقبه ابن بطال بأن نفي الحل صريح في التحريم.
النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (7/ 25 بترقيم الشاملة آليا):
ولا تسأل امرأة طلاق أختها لتكفأ ما في صحفتها فإن الله هو رازقها»، وهذا الحديث يرويه رجلان من الصحابة ابن عباس وجابر-رضي الله عنهما وهو مشهور تلقته العلماء بالقبول والعمل به كذا في (المبسوط).
شرح سنن أبي داود لابن رسلان» (10/ 5):
«حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد عن أيوب، عن أبي قلابة، عن أبي أسماء، عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة".
محمدابراہیم عبدالقادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
14/ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


