| 88654 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
مفتی صاحب گزارش یہ ہے کہ لائق ہاشمی جو ملیر کینٹ میں رہتا تھا ،بظاہر نیک اور دین دار نمازی لگتا تھا ،اس کی شرافت اور دین داری کو دیکھ کر میں نے اُس سے بولا کہ آپ آرمی کے ٹھیکے لیتے ہیں،اور اس دوران اس کا کام اے ایس ایف میں چل رہا تھا، میں نے اس سے بولا کہ آرمی کا کوئی اچھا ٹھیکہ ہو تو مجھے بتانا میں بھی آپ کے ساتھ کرلوں گا۔ لائق ہاشمی دس پندرہ دن کے بعد آیا اور بولا کہ میں نے ملیر کینٹ میں ٹھیکہ لے لیا ۔پھر میں نے جنوری 2020ء کو اسی مہینے ہی میں اُس کو ایک کروڑ 50 لاکھ روپے چیک اور کیش کی صورت میں دے دیے، اور اس کے تقریباً 5 مہینے بعد اُس نے بولا کہ مجھے اس کام میں نقصان ہو رہا ہے، اور میں نے اس سے بولا کہ آپ میرا پاس بنوا لیں یہ کام میں خود دیکھوں گا، اس کے بعد متعدد بار بولنے ،شناختی کارڈ اور تصویریں لینے کے باوجودپاس نہیں بنایا اور مجھے شک ہوا کہ اس کی باتوں میں تضاد ہے۔
5 سال کے بعد جب میں نے سختی سے کام لیا تو اس نے جواب دیا کہ میں نے جہاں کام کیا ہے وہاں میری سیکیورٹی کی مد میں پیسے رکے ہوئے ہیں، پھر میں نے بولا کہ آپ مجھے بتائیں میں ان سے بات کرتا ہوں اور کام کا ورک آڈر دکھائیں ،جب اس نے ورک آڈر دکھایا تو معلوم ہوا کہ اسے یہ کام 14 اپریل 2019ء کو ملا ہوا ہے، اور یہ کام اس کو فائنل کرنا تھا 10 اپریل 2020ء کو ،تو اس نے مجھے اس کام کی کوئی تفصیل نہیں بتائی اور میرے ساتھ دھو کہ کیا، غلط بیانی کی اور آج 6 سال ہونے والے ہیں کوئی روپے نہیں دیے، اور میں نے اس کا ورک آڈر دیکھنے کے بعد کہا کہ آپ نے مجھ سے غلط بیانی کی ہے میں آپ کا شریک نہیں ہوں۔ آپ میرے پیسے واپس کر دیں مگر وہ پیسے نہیں دے رہا ۔ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے۔
نوٹ :یہ ٹھیکہ اس نے 11 اپریل 2019ء میں لیا اور مکمل کرنا تھا 10 اپریل 2020ء کو، اور جنوری 2020ء کو میرے سے پیسے لئے ہیں ۔ ہمارے درمیان کوئی نفع ونقصان بھی طے نہیں ہوا تھا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ کاروبار کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ حلال کاروبار کو حلال طریقے سے امانت اور دیانت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ اس میں سودی لین دین، جھوٹ، دھوکہ دہی، رشوت اور ظلم سے مکمل اجتناب کیا جائے، اور کوئی غیر شرعی معاملہ نہ کیا جائے۔
بشرطِ صحتِ سوال، صورتِ مسئولہ میں مذکور تفصیل کے مطابق آپ دونوں کا یہ معاملہ سرے سے شرعاً درست نہیں ہے، کیونکہ نہ آپ کو اپنے شریک کے سرمایہ کی مقدار معلوم ہے، نہ اس نے یہ ظاہر کیا کہ یہ کام پہلے سے اس کے پاس موجود تھا۔ اس نے غلط بیانی سے کام لیا، جیسا کہ حقیقت میں یہ ٹھیکہ اسے 14 اپریل 2019ء کو ملا تھا اور 10 اپریل 2020ء کو مکمل ہونا تھا، جبکہ آپ سے رقم جنوری 2020ء میں لی گئی۔ مزید یہ کہ نفع و نقصان کے اصول بھی واضح طور پر طے نہیں کیے گئے۔
لہٰذا یہ معاملہ سراسر دھوکہ اور فراڈ کے زمرے میں آتا ہے، اور ایسی شراکت شرعاً معتبر نہیں۔ لائق ہاشمی پر لازم ہے کہ وہ آپ کا سرمایہ واپس کرے، ورنہ وہ گناہ گار ہوگا۔امانت و دیانت کے خلاف رویہ اختیار کرنا، خیانت کرنا اور تجارت میں جھوٹ یا دھوکہ دینا شرعاً حرام ہے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 38):
لا يجوز بيع ما باشر نحو عجنه إلا أن يبين للمشتري حقيقة الحال لأن المشتري لو اطلع على ذلك لم يشتره منه في الغالب وكل ما كان كذلك يكون كتمه من الغش المحرم وقد قال صلى الله عليه وسلم «من غش أمتي فليس مني» .
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 47):
«لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة.
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 77):
(وأما) الشركة الفاسدة وهي التي فاتها شرط من شرائط الصحة، فلا تفيد شيئا مما ذكرنا؛ لأن لأحد الشريكين أن يعمله بالشركة الصحيحة.
محمدابراہیم عبدالقادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/ربیع الثانی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


