03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فرضی طلاق نامہ بنوانے کا حکم
88650طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ویب سائٹ پر پڑھنے کے بعد علم ہواکہ گواہوں کی موجودگی میں فرضی طلاق نامہ بنوانے سے طلا ق نہیں ہوتی۔کچھ سوال درج ذیل ہیں:

1۔ کیا گواہ شادی والے گواہ ہی ہونے چاہئیں؟ اور اگر ان میں سے کوئی مر گیا ہوتو کیا فرضی طلاق نامہ بنوانے کے لیے نئے گواہ بنائے جا سکتے ہیں؟

2۔کتنے گواہ ہونا ضروری ہے،دو مرد آدمی کی طرف سے اور دو عورت کی طرف سے، یا دو مرد کوئی بھی، یا پورے خاندان کو بتانا لازمی ہے۔کیا گواہ ایک نشست میں اکھٹے ہوں یا علیحدہ علیحدہ بھی بتایا جا سکتا ہے، اور کیا شوہر کا محفل میں موجود ہونا لازم ہے؟ اگر وہ ملک سے باہر ہوتو کیا حکم ہے؟

3۔ کیا فرضی طلاق نامہ کےحوالے سے عورت کو بتانا یا اجازت لینا لازمی ہے؟ 

4۔ اسی طرح کیا عورت کے گھر والوں کو بتانا لازمی ہے یا عورت کو بتا دینا کافی ہے؟

5۔ کیا فرضی طلاق نامہ پر دستخط کرنا ٹھیک ہے یا کسی اور سے کروا لینا؟

براہ مہربانی تفیصل بتا دیجیے،جس سے صرف سرٹیفیکٹ حاصل ہو جائے مگر شرعی طلاق نہ ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  واضح رہے کہ جعلی طلاق نامہ بناتے وقت اگر دو گواہوں کے روبرو اس بات  کی صراحت کی جائے کہ میں نے اپنی بیوی کونہ تو طلاق دی ہے اور نہ ہی طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہوں اور یہ طلاق نامہ محض فرضی اور جعلی ہے،تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے،نیز طلاق کے مضمون کو اگر بطورِ حکایت نقل کیا جائے تو اس سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

-1صورتِ مسؤلہ میں اگر آپ فرضی طلاق نامہ کسی جائز عذر کی وجہ سے لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس پر گواہ بنانا ضروری ہے۔

-2اس کے لیے کسی بھی دو آدمیوں کو گواہ بنایا جا سکتا ہے، شادی کے وقت موجود گواہوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

-3 اور یہ دو گواہ مسلمان ہوں،جو کسی بھی خاندان سے ہو سکتے ہیں، چاہے عورت کے خاندان سے ہوں یا مرد کے خاندان سے یا ان دونوں خاندانوں کے علاوہ کسی بھی خاندان سے ہوں ۔ اگر دو مرد دستیاب نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں بھی بطور گواہ مقرر کی جا سکتی ہیں۔

-4 اور اسی طرح دونوں گواہوں کا ایک مجلس میں اکھٹے ہونا ضروری نہیں ہے   ، الگ الگ مجلس میں بھی ہوسکتے ہیں ۔

-5 چاہے شوہر خود طلاق نامہ پر دستخط کرے یا اپنے کسی وکیل سے دستخط کروائے دونوں کا حکم ایک ہے، اس سے حکم پر اثر نہیں پڑتاہے، البتہ دونوں صورتوں میں اس پر دو مسلمان گواہ بنانا ضروری ہے۔ شوہر کا مجلس میں ہونا ضروری نہیں ہے، تاہم اگر شوہر نے بغیر دو مسلمان گواہوں کے وکیل سے  طلاق نامہ  بنایا اور پھر اس پر خود یا وکیل سے دستخط کروائے  تو ان دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوگی۔یاد رہے کہ  فرضی طلاق نامہ بنوانے میں عورت کو اس حوالے سے بتانا شرعا ضروری نہیں ہے، البتہ اگر بتادے تو بہتر ہے ۔

حوالہ جات

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص213):

«قال: ‌أنت ‌طالق ‌أو ‌أنت ‌حر ‌وعنى ‌الاخبار ‌كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك، وكذا المظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 4):

‌ولا ‌بد ‌من ‌القصد ‌بالخطاب ‌بلفظ ‌الطلاق عالما بمعناه أو بالنسبة إلى الغائبة كما يفيده فروع: هو أنه لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول: أنت طالق ولا ينوي طلاقا لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال: ثم وقف وكتب امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة بالتلفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه.

محمد ابراہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

15/ربیع الثانی /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سعید احمد حسن صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب