03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
داڑھی اور سر کے بالوں پر میڈیم براون کلر لگانے کا حکم
88651جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ  کے بارے میں کہ ہمارا ایک دوست ہے، جس کا نام مفتی  خالد ہے ،عمر تقریبا تینتالیس اور پینتالیس کے درمیان  ہے  ،داڑھی اور سر کے بالوں  پر میڈیم براون کلر لگاتا ہے اور داڑھی اور سر کے بال کا کلر بلیک نظر آتا ہے۔ بسا اوقات اس طرح بلیک نظر آتا ہےکہ  کوئی شخص پہچان نہیں کر سکتا کہ کلر لگایا ہے یا ویسا نیچرل سیاہ رنگ ہے، مگر میڈیم براون کلراستعمال کررہا ہے  اور کبھی کبھار محلے کی مسجد میں  امامت اور خطابت بھی سر انجام دیتا ہے،جبکہ اسی محلے میں ایک اور عالم ہے،وہ کہتا ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑ ھنا مکروہ تحریمی ہے ،کیونکہ یہ داڑھی کے بالوں  پر بلیک کلر لگاتا ہے ،جبکہ خالد کلر کا ڈبہ دکھاتا ہے کہ  یہ میڈیم براون کلر ہے، اور حدیث میں منع خالص بلیک کلر لگانے سے کیا گیاہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ بالا مسئلے میں الزام لگانے والے کی بات درست سے یا خالد نامی مفتی صاحب کی بات درست ہے ؟

نوٹ: خالد کے پیچھے نماز پڑ ھنا کیسا ہے، یعنی جائز ہے یا نہیں؟ براہ کرم وضاحت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ  اگر جوانی (جس عمر میں عام طور پر بال سفید نہیں ہوتے) میں کسی کے بال سفید ہوجائیں تو کالی مہندی یا سیاہ خضاب لگانے کی گنجائش ہے، کیونکہ سیاہ خضاب کی ممانعت کی ایک وجہ یہ ہے کہ سن رسیدہ آدمی دھوکہ دے کر اپنے آپ کو جوان ظاہرکر رہا ہوتا ہے، جبکہ جوانی میں بال سفید ہونے کی وجہ سے بال کالے کرنا دھوکہ دینا نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ جوانی میں بالوں کا سفید ہونا ایک عیب ہے اور عیب کودورکرنا شرعاً جائزہے۔

البتہ جس شخص کی داڑھی یا سر کے بال بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہوگئے ہوں، اس کے لیے کالے رنگ کے علاوہ کسی دوسرے رنگ کا خضاب لگانا مستحب ہے،مگرعمومی حالات میں کالے رنگ کے خضاب یا مہندی سے بالوں کو رنگنا شرعاً جائز  نہیں ہے، کیونکہ اس میں ایک طرح سےدھوکہ دہی ہےجو کہ ناجائز ہے ۔تاہم  صورت مسؤلہ میں مذکورہ تفصیل کے مطابق جب یہ مفتی   صاحب اس بات کا اقرارکررہاہے کہ میں داڑھی اور سر کے بالوں  پر میڈیم براون کلر لگاتا ہوں، جو کہ خالص کالے کلر میں نہیں آتاہے تب تو اس پر طعن وتشنیع کرنایااسےملامت کا نشانہ بنانا درست نہیں،اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے ، صرف شک کی بنا پر ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔

نیز آج کل بازار میں دستیاب بالوں کے کالے رنگ کے علاوہ جدید کلر (رنگ)، مثلاً: خالص براؤن ،سیاہی مائل براؤن یا سرخ(لال) کلر لگانا جائز ہے،تاہم بلاضرورت صرف فيشن كے ليےبالوں كے رنگ كو تبديل كرنا بہتر نہيں ہے۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 756):

ومذهبنا أن الصبغ بالحناء والوسمة حسن كما في الخانية قال النووي: ومذهبنا استحباب ‌خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة وتحريم خضابه بالسواد على الأصح لقوله عليه الصلاة والسلام «غيروا هذا الشيب واجتنبوا السواد» اهـ قال الحموي وهذا في حق غير الغزاة ولا يحرم في حقهما للإرهاب ولعله محمل من فعل ذلك من الصحابة.

الفتاوى الهندية  (5 / 359):

وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة؛ ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى، ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه، وعليه عامة المشايخ.

«ذخيرة العقبى في شرح المجتبى» (38/ 64):

«عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ: "‌قَوْمٌ ‌يَخْضِبُونَ ‌بِهَذَا السَّوَادِ، آخِرَ الزَّمَانِ، كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ، لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ").

محمد ابرہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی

15/ذی قعدہ1447 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب