| 88648 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
میں اور میری بہن نے مل کر ایک مکان خریدا، جس میں چوہتر (74) فیصدبہن کا اور 26میرا حصہ تھا، طے یہ ہوا تھا کہ جب فروخت کریں گے تواپنے حصوں کے حساب سے نفع کے حق دار ہوں گے، کچھ عرصہ بعد بہن اس مکان میں شفٹ ہو گئی، اب اس کا ارادہ یہ ہے کہ بیچنے کی بجائے یہ مکان وہ خود رکھ لے، لیکن اس کے پاس مجھے اپنے حصے کی رقم ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، کیونکہ وہ مالی اعتبار سے کافی کمزور ہیں، چنانچہ جب بھی اس مکان کو بیچنے کی بات کی جاتی ہے تو وہ پریشان ہو جاتی ہے، اس لیے میں نے اپنے بھائی سے مشورہ کیا کہ میرے حصے کی آدھی رقم آپ ادا کر دیں اور بقیہ آدھاحصہ میں بہن کو معاف کر دیتا ہوں، بھائی اس پر راضی ہو گیا، چنانچہ اس نے میرے حصے کی آدھی رقم مجھے دے دی، اب میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی بہن کو بقیہ آدمی رقم چھوڑ دوں اور اس میں زکوة کی نیت کر لوں، توسوال یہ ہے کہ کیا میرے اس طرح بقیہ حصہ زکوة کی نیت سے بہن کو چھوڑنے سے زکوة ادا ہو گی یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس کا کیا طریقہ ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق بہن کو بقیہ حصہ زکوة کی نیت سے چھوڑنے سے آپ کی زکوة ادا ہوجائے گی، کیونکہ اصولی طور پر زکوة کی ادائیگی کے لیے مستحق زکوة شخص باقاعدہ مالک اور قابض بنانا ضروری ہے، مکان چونکہ پہلے سے ہی آپ کی بہن کے قبضہ میں ہے، تو آپ کے اس کو اپنا حصہ ہبہ (ہدیہ) کرنے سے وہ مالک بن جائے گی اور کسی بھی عین چیز کا مالک بنانے سے زکاة ادا ہو جاتی ہے، بشرطیکہ آپ اپنا حصہ اس کو معاف کرنے کی بجائے یوں کہیں کہ میں نے اپنے آدھا حصہ آپ کو ہدیہ کے طور پر دے دیا، کیونکہ شرعی طور پر کوئی چیز ہدیہ کے طور پر دینے میں تملیک یعنی مالک بنانے کا معنی پایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ ہبة الدین (کسی کے ذمہ واجب شدہ چیزجیسے قرض وغیرہ کا اس کو مالک بنانا یا اس کو معاف کرنا یا بری قرار دینا) کی صورت نہیں، بلکہ یہ ہبة العین (دَین کے علاوہ تمام چیزوں کو عین کہا جاتا ہے، ہبہ کا مطلب اس کو ہدیہ کردینایامالک بنانا ہے) کا مسئلہ ہے، کیونکہ یہاں سائل کا مکان میں موجود حصہ عین کی صورت میں موجود ہے، ان دونوں کے حکم میں فرق یہ ہے کہ ہبة الدین سے زکوة ادا نہیں ہوتی، جبکہ ہبة العین سے زکوة ادا ہو جاتی ہے، اس کی دو وجہیں ہیں:
پہلی وجہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ لکھی ہے کہ جس مال کی زکوة ادا کی جاتی ہے وہ عین چیزہے، جس کا خارج میں وجود ہے اور اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسرے کے ذمہ واجب شدہ دَین کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہوتا، اس لیے دَین کے ذریعہ عین چیز کی زکوة ادا نہیں کی جا سکتی، البتہ عین کے ذریعہ دَین کی زکوة ادا کرنا درست ہے، کیونکہ عین چیز دَین کے مقابلے میں قوی چیز ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ دَین یعنی قرض معاف کرنے میں درحقیقت ابراء اور اسقاط یعنی بری قرار دینے اور دین کو ذمہ سے ساقط کرنے کا معنی پایا جاتا ہے، نہ کہ تملیک یعنی مالک بنانے کا، جبکہ کسی کے قبضہ میں موجود عین چیز کسی کو ہدیہ کرنے میں ابراء کی بجائےتملیک کا معنی پایا جاتا ہے، (کیونکہ شرعی اعتبار سے عین چیز سے ابراء درست نہیں ہوتا) اورزکوة کی ادائیگی کے لیے تملیک ضروری ہے، جو کہ دَین یعنی قرض معاف کرنے میں موجود نہیں ہوتی۔س لیے کسی کو دَین معاف کرنے سے زکوة ادا نہیں ہوتی۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 442) الناشر: دار الفكر،بيروت:
قلت: الكلام في الصلح عن أعيان التركة، والإبراء عن الأعيان باطل على ما صرحوا به.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 268) الناشر: دار الفكر-بيروت:
"(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير.
قال ابن عابدين :(قوله: والمال قائم في يد الفقير) بخلاف ما إذا نوى بعد هلاكه بحر. وظاهره أن المراد بقيامه في يد الفقير بقاؤه في ملكه لا اليد الحقيقية، وأن النية تجزيه مادام في ملك الفقير، ولو بعد أيام۔۔(أو مقارنة بعزل ما وجب) كله أو بعضه".
تحفة الفقهاء (1/ 307) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
ولو صرف الزكاة إلى بناء المسجد والرباطات وإصلاح القناطر وتكفين الموتى ودفنهم لا يجوز لأنه لم يوجد التمليك.
وكذلك إذا اشترى بالزكاة طعاما وأطعم الفقراء غداء وعشاء ولم يدفع إليهم عين الطعام فإنه لا يجور لأنه لم يوجد التمليك،وكذلك لو قضى دين ميت فقير بنية الزكاة لا يجوزوأما إذا قضى دين حي فقير فإذا قضى بغير أمره يكون متبرعا ولا يقع عن الزكاة وإن قضى بأمره فإنه يقع عن الزكاة ويصير وكيلا في قبض الصدقة عن الفقير والصرف إلى قضاء دينه فقد وجد التمليك من الفقير فيجوز.
الفتاوى الهندية ، کتاب الحیل ، الفصل الثالث ، ج6، ص 391 ، مطبوعہ رشيديةکوئٹة:
رجل له على فقير مال وأراد أن يتصدق بماله على غريمه ويحتسب به عن زكاة ماله فقد عرف من أصل أصحابنا رحمهم اللہ تعالى أنه لا يتادى بالدين زكاة العين ولا زكاة دين آخر والحيلة في ذلك أن يتصدق صاحب المال على الغريم بمثل ما له عليه من المال العين ناويا عن زكاة ماله ويدفعه إليه، فإذا قبضه الغريم ودفعه إلى صاحب المال قضاء بما عليه من الدين يجوز، وذكر في النوادر أن محمدا - رحمه الله تعالى - سئل عن هذا فأجاب وقال: هذا أفضل من أن يدفعه إلى غيره.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 43) الناشر: دار الفكر-بيروت:
وأما أداء الدين عن الدين فإن كان عن دين يصير عينا لا يجوز بأن كان له على فقير خمسة دراهم دين وله على رجل آخر مائتا درهم فحال عليها الحول فتصدق بهذه الخمسة على من عليه ناويا عن زكاة المائتين؛ لأن المائتين تصير عينا بالاستيفاء فتبين في الآخرة أن هذا أداء الدين عن العين وأنه لا يجوز لما بينا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 270) الناشر: دار الفكر-بيروت:
اعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين، وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
13/ ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


