| 88656 | دعوی گواہی کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر فریقین اپنے باہمی تنازع کے حل کے لیے کسی قاضی یا حکم (ثالث) کے سامنے پیش ہوں، اور اس دوران حکم (ثالث) مدعی فریق سےگواہ طلب کرے ،تو اس پر مدّعی فریق کہتا ہے کہ میرے پاس گواہ نہیں ہے۔ چنانچہ حکم (ثالث) مدّعی علیہ فریق کو قسم کے لیے کہتا ہے، یعنی مدّعی علیہ کے لیے قسم مقرر کرتا ہے، اور ایک تحریر تیار کر کے اس پر حکم اپنے اور فریقین کے دستخط ثبت کروا لیتا ہے۔
پھر قسم اٹھانے کے لیے دوسری مجلس مقرر کی جاتی ہے۔ اس مجلس میں مدّعی کہتا ہے کہ اب میرے پاس گواہ موجود ہیں، پہلی مجلس میں مجلسِ قضاء کی ہیبت کے باعث میں بھول گیا تھا، بعد میں یاد آیا کہ میرے پاس گواہ موجود ہیں۔ اب میں اپنے دعوے پر گواہ پیش کرتا ہوں۔
اب سوال یہ ہے کہ: کیا ایسی صورت میں مدعی گواہ پیش کر سکتا ہے یا نہیں،جبکہ مدعی علیہ فریق نے ابھی تک قسم کھائی نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مجلسِ قضاء میں اگر مدّعی اور مدّعی علیہ کے درمیان فیصلہ ہو رہا ہو، اور مدّعی یا گواہوں کو مجلسِ قضاء کی ہیبت یا وقتی طور پر علم میں نہ ہونے کی وجہ سے طلبِ گواہ یا اداءِ شہادت کے وقت گواہ پیش کرنے یا گواہی دینے میں کوتاہی ہو جائے، اور بعد میں وہ کہیں کہ ہم بھول گئے تھے یا مجلس کی ہیبت کے باعث یاد نہیں آ سکا،تو ایسی صورت میں اگر بعد ازاں مدّعی کو گواہ یاد آ جائیں، یا گواہوں کو اپنی گواہی یاد آ جائے، تو وہ گواہ اور ان کی گواہی شرعاً قابلِ قبول ہوں گی۔
لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں اگر مدّعی کو اُس وقت مجلس میں گواہوں کا علم نہ ہو سکا اور بعد میں یاد آیا، تو شرعاً مدّعی کے گواہ معتبر ہیں، اور ان کی گواہی سنی جائے گی۔
حوالہ جات
أخرج الامام الترمذی رحمہ اللہ: عن عَمْرِو بن شُعَيبٍ، عن أبيهِ عن جَدَّهِ، أنَّ النَّبيَّ صلى الله عليه وسلم قال في خُطْبَتهِ: "البيَّنَةُ على المُدَّعِي، واليَمينُ على المدَّعَى عَليْهِ".( سنن الترمذي: 3/ 176)
درر الحكام شرح غرر الأحكامس: (قال) أي المدعي (لا بينة لي ثم برهن أو لا شهادة لي ثم شهد) معنى الأول أن يقول المدعي ليس لي بينة على دعوى هذا الحق ثم جاء بالبينة ومعنى الثاني أن يقول الشاهد لا شهادة لفلان عندي في حق بعينه ثم شهد به (فيه روايتان) في رواية لا تقبل لظاهر التناقض وفي رواية تقبل (والأصح القبول) لجواز أن يكون له بينة أو شهادة فنسيها ثم ذكرها أو كان لا يعلمها ثم علمها۔
( درر الحكام: 2/ 337)
قال العلامة ابن عابدین: (وتقبل البينة لو أقامها) المدعي وإن قال قبل اليمين لا بينة لي سراج خلافا لما في شرح المجمع عن المحيط (بعد يمين) المدعى عليه كما تقبل البنية بعد القضاء بالنكول خانية۔ ( رد المحتار: 5/ 550)
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: (فلو برهن عليه) أي على حقه (يقبل وإلا يحلفه ثانيا عند قاض) بزازية.
قوله :(حلفه الحاكم) ولا يبطل حقه بيمينه، لكنه ليس له أن يخاصم ما لم يقم البينة على وفق دعواه، فإن وجدها أقامها وقضي له بها درر كذا في الهامش.( رد المحتار: 5/ 550،548)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/15ربیع الثانی ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


