03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے
88638طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

 کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ

میں محمد فیضان صدیقی نے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کیا ہے، جس کی وجہ سے میری پہلی بیوی نے مجھ پر کیس کر دیا ہے کہ میں نے غیر شرعی اور ناجائز کام کیا ہے۔ مجھے فتویٰ درکار ہے کہ دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایک یا ایک سے زائد، چار تک بیویاں رکھنا مسلمان کا شرعی حق ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ [النساء: 3]

البتہ نان و نفقہ، سکنی اور حسنِ معاشرت وغیرہ میں مساوات شریعت نے ضروری قرار دی ہے۔ اس لیے جو شخص بیویوں کے درمیان مساوات نہیں رکھ سکتا، شریعت نے ایسے شخص کو صرف ایک نکاح کرنے کی ہدایت دی ہے، لقولہ تعالیٰ:فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً [النساء: 3]

لہٰذا مسئولہ صورت میں سائل پر شرعاً دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں تھا۔ دوسری شادی کرنا اس کا شرعی حق تھا جو اس نے استعمال کیا۔ لہٰذا اسے غیر شرعی یا ناجائز کہنا اور اس کے خلاف کارروائی کرنا شرعاً درست نہیں۔

حوالہ جات

وفی القرآن الکریم:

فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ [النساء/3]

وفی الھندیۃ: (277/1، ط: دار الفکر)

وللحر أن يتزوج أربعا من الحرائر والإماء، كذا في الهداية.

وفی صحیح البخاری:

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : (لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تَسْأَلُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا( رواه البخاري ، 4857 ، واللفظ له - ومسلم : 1413 ) .

قال ابن حجر رحمه الله :

فالمراد هنا بالأخت : الأخت في الدِّين ، ويؤيده زيادة ابن حبان في آخر ه من طريق أبي كثير عن

أبي هريرة بلفظ : (لَا تَسْأَل الْمَرْأَة طَلَاق أُخْتهَا لِتَسْتَفْرِغ صَحْفَتهَا فَإِنَّ الْمُسْلِمَة أُخْت الْمُسْلِمَة( انتهى من " فتح الباري " ،9 / 220 ) .وحديث ابن حبَّان – ( 9 / 378 ) - صححه الألباني في " السلسلة الصحيحة "تحت الحديث 2805 ) .

وقال أبو عمر بن عبد البر رحمه الله :

في هذا الخبر من الفقه : أنه لا ينبغي أن تسأل المرأةُ زوجَها أن يطلِّق ضرَّتها لتنفرد به ، فإنما لها ما سبق به القدر عليها ، لا ينقصها طلاق ضرتها شيئاً مما جرى به القدر لها ولا يزيدها .انتهى (من " التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد "   18 / 165 ) .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

15/ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب