03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیرکفؤمیں نکاح کے بعدتین طلاق اورپھر اسی شوہرسے نکاح کاحکم
88664نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ

ایک خاتون کانکاح غیرکفؤمیں ہوا،لڑکی کے اولیاء نے لڑکے پر دباؤ ڈالاجس کی وجہ سے لڑکے نے تین طلاقیں زبانی اورلکھ کردی لیکن بعد میں لڑکی کے اولیاء راضی ہوگئےاوراب اولیاء اسی لڑکے سے اس لڑکی کا نکاح کرانا چاہتے ہیں تو کیا یہ نکاح درست ہوگا ؟

اشکال یہ ہےکہ امام إعظم رحمہ اللہ تعالے مذہب کے مطابق غیر کفؤ میں نکاح ہوجاتاہے لیکن اولیاء کو اعتراض کا حق  ہوتاہے،جبکہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق فساِدزمان کی وجہ سے غیر کفؤمیں سرے سے نکاح منعقدہوتاہی نہیں ،جب پہلا نکاح منعقد نہیں ہوا تو طلاق بھی کالعدم ہوگی،لہذا دوسرا نکاح درست ہوناچاہیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مفتی بہ قول کے مطابق، اگر لڑکی اپنا نکاح اولیاء کی اجازت کے بغیر غیرِ کفؤ میں کرے تو وہ منعقد ہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں، اگر فی الواقع لڑکی نے اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ہے اور لڑکا واقعتاً مذکورہ لڑکی کا کفؤ نہیں ہے تو یہ نکاح مفتی بہ قول کے مطابق منعقد ہی نہیں ہوا، کالعدم ہے، اور جب نکاح کالعدم ہے تو اس کے بعد دی جانے والی تین طلاقیں بھی لغو ہیں، کیونکہ مذکورہ لڑکی اس کی بیوی ہی نہیں تھی۔ لہٰذا اگر اولیاء اب اس لڑکی کا نکاح مذکورہ لڑکے سے کرانا چاہتے ہیں تو ایسا کرنا ان کے لیے راجح قول کے مطابق جائز ہوگا۔ البتہ چونکہ بہت سے دیگرفقہاء نے غیرِ کفؤ میں کیے ہوئے نکاح کو منعقد بھی گردانا ہے، اور اس قول کے مطابق مسئولہ صورت میں طلاق کا وقوع ہوگا، اورمعاملہ فروج  کا بھی ہےجس میں احتیاط برتی جاتی ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ مسئولہ صورت میں شوہرنے اگراکٹھی تین طلاقیں دی ہےتو اولیاء اس لڑکی کا نکاح مذکورہ لڑکے کے بجائے کہیں اور کریں۔

حوالہ جات

 أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا

فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ [ سنن ابی داود کتاب النکاح باب فی الولی (2083)]

الدر المختار (س (3/ 56)

(ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه .

وفی حاشية ابن عابدين (س) (3/ 56)

قيد بذلك لئلا يتوهم عوده إلى قوله: فنفذ نكاح إلخ وللاحتراز عما لو تزوجت بدون مهر المثل، فقد علمت أن للولي الاعتراض أيضا والظاهر أنه لا خلاف في صحة العقد وأن هذا القول المفتى به خاص بغير الكفء كما أشار إليه للشارح، ولم أر من أجرى هذا القول في المسألتين، والفرق إمكان الاستدراك بإتمام مهر المثل ۔۔۔۔ (قوله بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده بحر.

حاشية ابن عابدين (رد المحتار)

(قَوْلُهُ وَهُوَ الْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى) وَقَالَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ وَهَذَا أَقْرَبُ إلَى الِاحْتِيَاطِ كَذَا فِي تَصْحِيحِ الْعَلَّامَةِ قَاسِمٍ لِأَنَّهُ لَيْسَ كُلُّ وَلِيٍّ يُحْسِنُ الْمُرَافَعَةَ وَالْخُصُومَةَ وَلَا كُلُّ قَاضٍ يَعْدِلُ، وَلَوْ أَحْسَنَ الْوَلِيُّ وَعَدَلَ الْقَاضِي فَقَدْ يَتْرُكُ أَنَفَةً لِلتَّرَدُّدِ عَلَى أَبْوَابِ الْحُكَّامِ، وَاسْتِثْقَالًا لِنَفْسِ الْخُصُومَاتِ فَيَتَقَرَّرُ الضَّرَرُ فَكَانَ مَنْعُهُ دَفْعًا لَه .

وفي حاشية الطحطاوى على الدر باب الولى (۲۷/۲) (ط) رشيديه:

 قوله ويفتي في غير الكف ..... وعلى هذا القول يحرم عليها تمكينه من الوطى كما يحرم عليه الوطء لعدم انعقاده وينبغى بعد الدخول ان يجب الاقل من المسمى ومهر المثل وان لا نفقة لها في هذه العدة وفي الخلاصة كثير من المشائخ أفتوا بظاهر الرواية أنها ليس لها أن تمنع نفسها له، وهذا يدل على أن كثيرامن المشايخ أفتوا بانعقاده فقد اختلف الافتاء بحر.

شرح فیض الباری :

لو نكحت في غير كفء بغير إذن الولي ، بطل نكاحها في رواية الحسن بن زياد عن أبي حنيفة[فیض الباری جلد 5 صفحہ 14]

کنز الدقائق: (256/1، ط: دار البشائر الاسلامیۃ)

من نكحت غير كفء فرق الولي ورضا البعض كالكل وقبض المهر ونحوه رضا لا السكوت .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

١۵/۴/۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب