| 88680 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
ہمارے محلہ کی ایک مسجد کے متعلق کچھ اشکالات ہیں، براہ کرم قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں وضاحت فرما کر ہماری راہنمائی فرمائیں۔
تقریباً 28 سال قبل محمد ابراہیم صاحب نے 12 مرلہ زمین مسجد کے لئے وقف کی تھی ،یہ پلاٹ اس نے اپنا ذاتی مکان بنانے کیلئے خریدا تھا، جس سے خریدا تھا ،اس کا نام ماسٹر محمد بلال صاحب ہے ،یہ پلاٹ واقف نے پرچی پر لیا تھا (ہمارے شہر خانقاہ شریف میں ایک طویل عرصہ اس علاقہ کے وڈیرے اپنی زمین لوگوں کو پرچی پر دیتے رہے ہیں) واقف نے پلاٹ وقف کرتے وقت وہ پرچی متولی کو نہیں دی تھی ،صرف خالی اسٹامپ پر سائن کر کے دیا تھا،واقف نے اس مسجد کے لئے جو متولی مقرر کیا، اس متولی کی کوئی اولاد نہ تھی ،انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے بھتیجے کو متولی مقرر کر دیا ،لیکن اہل محلہ کے بعض لوگ اس پر ناراض ہیں اور شرعی وجوہات کی بنیاد پر اس کی امامت قبول نہیں کرتے، اس مسجد میں ایک خطیب و نائب امام تقریباً 28 سال سے خدمت دین، خطابت اور درس قرآن و حدیث کی خدمت انجام دے رہے تھے، ان کا حال ہی میں انتقال ہو گیا ہے ،موجودہ وقت میں اصل واقف محمد ابراہیم صاحب جو کہ ابھی حیات ہیں، انہوں نے عدالت میں اسٹامپ پر تحریری لکھ دیا ہے کہ کچھ شرعی وجوہات کی بنا پر مجھے متولی کے بھتیجے پر اعتماد نہیں ہے ، تو اب میں اس جگہ کا متولی خطیب صاحب کے بیٹے کو بناتا ہوں اور اس کو اس کا اہل سمجھتا ہوں ۔
اس تمہید کی روشنی میں ہمارے سوالات یہ ہیں:
1 ۔شرعا وقف کے بعد واقف کو کیا اختیارات باقی رہتے ہیں ؟
2 ۔کیا وہ اپنی مرضی سے متولی تبدیل کر سکتا ہے ؟
3 ۔اگر اصل واقف نے عدالت میں واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ فلاں شخص اس کا اہل ہے تو اس کی کیا شرعی حیثیت ہو گی ؟
4 ۔متولی کی تقرری کا اصل حق کس کو ہے ؟
5 ۔اگر متولی کی غیر اخلاقی حرکتوں کی وجہ سے اہل محلہ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھتے ہوں تواس بارے میں شرعی کیا حکم ہے ؟
فقہ حنفی کی روشنی میں متولی کی تقرری کے اصول و ضوابط تفصیل سے ارشاد فرمائیں،محترم ! ہم سب اہل محلہ شرعی حل چاہتے ہیں کہ کسی قسم کا جھگڑا یا انتشار پیدا نہ ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مفتی کی ذمہ داری سوال کے مطابق جواب دینا ہے، واقعہ کی تحقیق اس کی ذمہ داری نہیں،اس لئے اگر سوال میں کوئی خلافِ واقعہ بات لکھی گئی ہو تو اس کی ذمہ داری سائل پر آئے گی۔
نیز مسجد کمیٹی اور امام کا معاملہ ان مسائل میں سے ہیں جن میں کسی ایک فریق کا موقف سن کر یا پڑھ کر حتمی بات نہیں کی جاسکتی، اس لیے ذیل میں اس مسئلے کا صرف اصولی جواب لکھا جاتا ہے:
مسجد کے لئے متولی اور نگران بنانے کا اختیار واقف کو حاصل ہوتاہے،اس کے بعد اس شخص کو جسے وہ متولی اور نگران بنادے،لیکن متولی کوواقف کی مرضی اور منشا کے بغیر کسی اور کو متولی بنانے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، نیز واقف کسی کو متولی بنانے کے بعد اسے معزول بھی کرسکتا ہے۔
اس لئے مذکورہ صورت میں پہلے متولی کو جو وفات پاچکے ہیں، واقف کی مرضی کے بغیر اپنے بھتیجے کو متولی بنانے کا اختیار حاصل نہیں تھا اور اگر اس نے واقف کو اعتماد میں لے کر اپنے بھتیجے کو متولی اور امام بنایا تھا،لیکن اب اہل محلہ کو اس سے شکایات ہیں تو بھی واقف اسے معزول کرکے کسی اوراہل شخص کو متولی اور امام بناسکتا ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (4/ 421):
"(ولاية نصب القيم إلى الواقف ثم لوصيه) لقيامه مقامه ولو جعله على أمر الوقف فقط كان وصيا في كل شيء خلافا للثاني ولو جعل النظر لرجل ثم جعل آخر وصيا كانا ناظرين ما لم يخصص
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: ولاية نصب القيم إلى الواقف) قال في البحر قدمنا أن الولاية للواقف ثابتة مدة حياته وإن لم يشترطها وأن له عزل المتولي، وأن من ولاه لا يكون له النظر بعد موته أي موت الواقف إلا بالشرط على قول أبي يوسف".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


