| 88733 | خرید و فروخت کے احکام | سلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاته سوال ای بے کے بارے میں ہے۔ ای بے پر بیچنے والا پروڈکٹ کی تصویر و تفصیل اپلوڈ کرتا ہے، خریدار "بائے ناؤ" پر کلک کر کے آرڈر کنفرم کرتا ہے، پیمنٹ کسٹمر ای بے کو اُسی وقت دے دیتا ہے مگر ای بے ہمیں رقم پروڈکٹ ڈیلیور ہونے کے بعد دیتی ہے۔ یہ سسٹم اور "بائے ناؤ" کا بٹن بدلا نہیں جا سکتا، ریٹرن بھی موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آرڈر کے وقت اسٹاک نہیں ہوتا، میں خود مارکیٹ سے چیز خرید کر یا آرڈر پر بنوا کر قبضہ لیتا ہوں اور پھر شپ کرتا ہوں۔ کچھ پروڈکٹس اسٹاک میں ہوتے ہیں اور کچھ کسٹمر کی ڈیمانڈ کے مطابق (جیسے سوٹ پر نام یا ڈیزائن) تیار کیے جاتے ہیں۔
پوچھنا یہ ہے: 1. کیا پروڈکٹ کی تصویر یا تفصیل میں لکھنا درست ہوگا کہ "بائے ناؤ دبانے سے آرڈر کنفرم ہوگا یا آرڈر کے بعد ہم پروڈکٹ کا انتظام کریں گے"؟ یا "آرڈر ناؤ" جیسے الفاظ؟ یا پھر بائے ناؤ کے بعد کسٹمر سے رابطہ کر کے کہنا کہ پروڈکٹ ابھی بنے گی یا اسٹاک میں نہیں کون سا طریقہ درست ہے؟
2. پروڈکٹس کا انتظام ہونے کے بعد اگر ہم دوبارہ کسٹمر سے ایگریمنٹ کریں کہ "پروڈکٹ ریڈی ہے، کیا آپ کو چاہیے، کیا میں شپ کر دوں؟"کیا یہ درست ہے؟
مزید یہ کہ کسٹمر کا نمبر ہمیں "بائے ناؤ" کے بعد ملتا ہے اور اسٹور پر کوئی اعلان بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ جزاکم اللہ خیراً
مزید معلومات:
eBayکے ویب سائٹ پر چند اشیاء کے ساتھ یہ لکھا ہوا ہوتا ہے (Provide personalization instructions below)
جس میں خریدار اس چیز پر اپنی مرضی کے مطابق کوئی کام، تبدیلی یا نام وغیرہ لکھوانا چاہے تو لکھوا سکتا ہے، ایسی صورت میں یہ پروڈکٹ قابل صنعت اشیاء میں شمار ہوگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1:جو اشیاء آپ کے پاس پہلے سے موجود ہیں ان کا بیچنا بلاشبہ جائز ہے۔
2:وہ اشیاء جو کسٹمر کی ڈیمانڈ پر تیار کی جاتی ہوں مثلا شرٹ، گھڑی یا قلم وغیرہ پر نام لکھوانا، وہ اشیاء چاہیے آپ کے پاس پہلے سے اسٹاک میں موجود ہوں یا آپ ان کو کسی اور سے خرید کر اس پر خریدار کی طلب کے مطابق کام کرکے آگے فروخت کریں، ان کی بیع اس شرط پر جائز ہے کہ مذکورہ اشیاء خریدنے والے کی بتائی گئی صورت کے مطابق ہوں ۔
3: جو اشیاء آڈر پر نہیں بنتیں اور نہ ہی کسٹمر اس پر کوئی کام کرواتا ہے اور وہ آپ کے پاس موجود نہیں ہوتیں، ان کی فروخت جائز نہیں، تاہم اس کے لیے دو متبادل جائز طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔
1: بیچنے والا تصویر اپلوڈ کرتے وقت ساتھ لکھےکہ خریدنے والے کا آرڈر فی الحال صرف وعدہ شراء ہے،مصنوع کے تعارف اور تبصروں میں فروخت کی جگہ بکنگ کے الفاظ استعمال کریں جو وعدہ بیع کا معنی دیں گے، پھر جب آرڈر آئے تو پہلے خود وہ چیز خرید کر اپنے قبضے میں لیں یا اپنے سپلائر کی کورئیر سروس یا ڈرائیورکو قبضہ کرکے پہنچانے کا وکیل(ایجنٹ)بنائیں۔
2: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سپلائر سے یہ بات طے کرلیں کہ میں آپ کی چیزوں کا اشتہار لگا کر گاہکوں کے آرڈر لوں گا اور ہر فروخت پر طے شدہ کمیشن وصول کروں گا۔ ان صورتوں میں تصویر اپلوڈ کرنے والے کے لیے یہ بیع جائز ہوگی اور اسے کمیشن کی صورت میں نفع حاصل ہوگا۔
حوالہ جات
صحیح البخاری:کتاب البیوع: باب بیع طعام قبل ان یقبض۔
2136: حدثنا عبد اللہ بن مسلمۃ، حدثنا مالک، عن نافع، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما، ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:''من ابتاع طعاما فلایبعہ حتی یستوفیہ''۔ زاد اسماعیل:''من ابتاع طعاما فلایبعہ حتی یقبضہ''۔
الدر المختار و حاشیۃ ابن عابدین(رد المحتار): (14/23)دارالثقافۃ و التراث۔
مطلب:(شروط صحۃ البیع):والخاصۃ: معلومیۃ الاجل فی البیع المؤجل ثمنہ،والقبض فی بیع المشتری المنقول و فی الدین
فقہ البیوع لشیخ الاسلام محمد تقی العثمانی:(2/1163)
''الاستصناع'' ان یطلب المشتری من البائع ان یاتی بشیئ مصنوع بمواد من عندہ موصوف فی الذمۃ و یلتزم البائع بذلک لقاء ثمن متفق علیہ، وھو بیع مستثنی من منع بیع المعدوم۔
فقہ البیوع لشیخ الاسلام محمد تقی العثمانی:(2/1165)
لایجب ان یکون الثمن معجلا(فی الاستصناع) کما فی السلم، بل یجوز ان یکون معجلا او مؤجلا اور مقسطا، ویجوز ایضا ان یکون اقساط الثمن مرتبطۃ بالمراحل المختلفۃ لانجاز المشروع، اذا کانت تلک المراحل منضبطۃ فی العرف، بحیث لاینشا فیھا نزاع۔
فقہ البیوع لشیخ الاسلام محمد تقی العثمانی:(2/1137)
الوعد و المواعدۃ بالبیع لیس بیعا، ولایترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ البیع و لاجوب الثمن۔ واذا وقع الوعد او المواعدۃ علی شراء شیئ او بیعہ بصیغۃ جازمۃ وجب علی الواعد دیانۃ ان یفی بہ، و یعقد البیع حسب وعدہ،ولکنہ لایجبر علی ذلک قضاء الا فی حالات آتیۃ۔۔۔
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/ربیع الثانی/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


