| 88763 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
مجھے سی ایس ڈی کے ذریعے اسلامک فنانس میں مناسب شرح پر گاڑی مل رہی ہے۔ میرے پاس اپنے ذاتی پچپن لاکھ روپے ہیں۔ میرے دوست نے مجھ سے ایک معاہدہ کیا ہے کہ میں اپنے پیسوں میں سے پینتالیس لاکھ روپے اپنے اس دوست کو دے دوں، اور دس لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ دے کر گاڑی لے لوں۔ سات سال کی جو قسطیں ہیں، وہ ہر مہینے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے بنتی ہیں، اور وہ قسطیں میرا دوست ہر ماہ ادا کرے گا۔
میرے دوست نے جو پینتالیس لاکھ روپے مجھ سے لیے ہیں، ان سے وہ کاروبار کرے گا، اور اس کاروبار کے منافع سے وہ گاڑی کی قسطیں ادا کرے گا۔ سات سال بعد گاڑی میری ہو جائے گی، اور میں قسطوں سے آزاد ہو جاؤں گا۔ یوں جو پیسے میں نے دوست کو دیے تھے، وہ قسطوں کی صورت میں ادا ہو جائیں گے۔ اس طرح گاڑی میری ہو جائے گی اور میرے دوست کو کاروبار کے لیے سرمایہ مل جائے گا۔کیا یہ صورت جائز ہوگی یا نہیں؟مجھے شبہ ہے کہ کہیں یہ صورت سود (ربا) میں شمار تو نہیں ہوگی، کیونکہ میں پیسوں کے بدلے میں پیسے ہی قسطوں کی شکل میں لے رہا ہوں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اگر پہلی صورت جائز نہ ہو تو کیا میں یہ کر سکتا ہوں کہ میں پیسے دوست کو دے دوں، اور وہ اپنے منافع سے کچھ فیصد بطور حصہ مجھے دے تاکہ میں ان سے قسطیں ادا کرتا رہوں۔ جب میری تمام قسطیں ادا ہو جائیں اور گاڑی میری ملکیت میں آجائے تو میں وہ رقم اپنے دوست کو ہبہ کر دوں۔ان دونوں صورتوں کے بارے میں مفتیانِ کرام سے رہنمائی درکار ہے۔ جزاکم اللہ خیراً۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ سی ایس ڈی ایک سرکاری ادارہ ہے جو فوجی اور سول افراد کو گاڑیاں اور دیگر اشیاء قسطوں پر فراہم کرتا ہے۔ سی ایس ڈی کی فنانسنگ کسی اسلامی بینک، جیسے میزان، دبئی اسلامک یا بینک اسلامی، کے ذریعے "مرابحہ"، "اجارہ" وغیرہ شرعی عقود کے اصولوں پر بھی ہوتی ہے، اور روایتی سودی بینک سے انٹرسٹ کے ذریعے بھی۔
اسلامی بینکوں کے ذریعے کیے جانے والے ان کے معاملات شرعی عقود کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور جائز ہوتے ہیں (بشرطیکہ مستند علماء کا کوئی شرعی بورڈ اس کی نگرانی کرتا ہو)، جبکہ روایتی سودی بینکوں کے ذریعے ہونے والے معاملات انٹرسٹ (Interest) کی بنیاد پر ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ہوتے۔
آپ نے اپنے سوال میں اسلامی فنانس کا ذکر کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا معاملہ روایتی سودی بینکوں کے توسط سے نہیں ہے۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
پہلی صورت جائز نہیں، کیونکہ وہ سودی ہے۔ آپ اپنے دوست کو 45 لاکھ روپے قرض دے رہے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ آپ کی قسطیں ادا کر رہا ہے، اور قسطوں کی مجموعی رقم بھی آپ کے قرض سے زیادہ ہے، لہٰذا یہ قرض پر نفع کی وصولی ہے، جو کہ سود ہے اور شرعاً جائز نہیں ہے۔
دوسری صورت جائز ہے، بشرطیکہ آپ دوست کے ساتھ کسی شرعی عقد ( مثلاًمضاربہ) کے تحت معاملہ کریں اور اس کے جملہ شرعی شرائط کی رعایت رکھیں۔ اورمعاملہ کرتے وقت یہ شرط عقد میں نہ لگائیں کہ قسطوں کے اختتام پر یہ رقم آپ ضرور ان کو ہبہ کر دیں گے، ورنہ دو عقد ایک معاملے میں جمع کرنے سے وہ معاملہ فاسد ہو جائے گا۔ ہاں، دل میں ہو یا عقد ہو جانے کے بعد اس بارے میں بات کرنے سے عقد پر اثر نہیں پڑے گا۔
مضاربت کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی(سرمایہ کار) کا مال اور دوسرے آدمی(محنت کش) کی محنت ہو ۔اور نفع آپس میں طے شدہ تناسب سے تقسيم ہو۔
عقدِ مضاربت کے صحیح ہونے کیلئےچند بنیادی شرعی شرائط درج ذیل ہیں:۔
1. راس المال اثمان (دراہم،دنانیریا کرنسی ) میں سے ہو۔
2. راس المال عین ہو، یعنی قرض نہ ہو۔
3. راس المال معلوم اور متعین ہو۔
4. رب المال راس المال پر اپنا ہر قسم کا تصرف ختم کر دے اور اسے مضارب کے حوالے کرے تاکہ وہ اس میں آزادانہ طور پر تصرف کر سکے۔
5. رب المال اور مضارب کے درمیان نفع طے شدہ تناسب سے شریک ہو۔
6. مضارب کا حصہ نفع میں سے طے کیا جائے، نہ کہ راس المال میں سے۔
7. عقد میں کوئی ایسی شرط نہ لگائی جائے جس سے نفع مجہول ہو یا نفع میں شرکت ختم ہو جائے۔
نفع کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہےکہ جب مضاربت کی مدت ختم ہو جائے گی تو کاروبار میں موجود تمام اثاثہ جات کو کرنسی میں تبدیل کیاجائے گا۔جو قرض لوگوں کے ذمہ واجب ہو وہ وصول کیاجائے گا۔ سرمایہ کار اور مضارب اب تک جو نفع علی الحساب لے چکے ہیں اس کا بھی حساب کیا جائے گا۔ اس کے بعد کاروباری اخراجات،واجب الادء قرضے اورکاروبار میں لگایا گیا سرمایہ نکالا جائے گا۔ جو رقم باقی بچے وہ نفع شمار ہو گا جس کو عقد میں طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔اگر کچھ بھی رقم باقی نہ بچے تو مضارب کو کچھ نہیں ملےگا۔
حوالہ جات
قال الله تعالي:
{الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [البقرة : 275]
مشكاة المصابيح:(کتاب البيوع،باب الربا)
عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال : " هم سواء " . رواه مسلم
وفی نصب الراية لأحاديث الهداية : (4 / 60)
الحديث الثاني: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قرض جر نفعا. قلت روى الحارث بن أبي أسامة في مسنده حدثنا حفص بن حمزة أنا سوار بن مصعب عن عمارة الهمداني، قال: سمعت عليا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كل قرض جر منفعة فهو ربا" ، انتهى
معجم للطبرانی :
"1610۔وبه: قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تحل صفقتان في صفقة»."(باب الألف، من اسمه أحمد، ج: 2 ص: 169 ط: دار الحرمین)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ﴿سورۃ النساء ٢٩﴾
المعاییرالشرعیة:
"والمضاربة من الصیغ التي تستخدم غالبًا في التجارة ثم توسّعت استخداماتها حتی شملت مجالات الاستثمار التجاریة والزراعیة والصناعیة والخدمیة وغیرها"
البيوع (94/1):
يجوزان يكون الاتفاقية مواعدة لإنجاز البيع في المستقبل، 3- إن كا مواعدة فلا بد من أن يعقد البيع في المستقبل بإيجاب وقبول من جديد أو ما يقوم مقامهما من التعاطى ولا ينعقد البيع تلقائيا في التاريخ المحدد
في الاتفاقية.
فی الدر المختار - (5 / 647)
(وشرطها) أمور سبعة (كون رأس المال من الأثمان) كما مر في الشركة وهو معلوم للعاقدين (وكفت فيه الإشارة)…….(وكون رأس المال عينا لا دينا) كما بسطه في الدرر (وكونه مسلما إلى المضارب) ليمكنه التصرف (بخلاف الشركة) ؛ لأن العمل فيهما من الجانبين (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد.ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
22/4/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


