| 88746 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ ادارے کا ایک فتویٰ بعنوان " جی پی فنڈ پر ملنے والے اختیاری اضافے کا حکم " فتویٰ نمبر :80674 ، بتاریخ : 2023-07-17 نظر سے گزرا جس میں جی پی فنڈز کی رقم کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا، ایک خاص ملازم کی تنخواہ سے کائی جانے والی رقم جس کا حکم حلال لکھا گیا ہے۔ دوسری وہ رقم جوگور نمنٹ اپنی طرف سے شامل کرتی ہے، جس کا حکم شبہ ربا یا ذریعہ رہا ہونے کی وجہ سے نہ لینے کو بہتر قرار دیا گیا جب کہ تیسر اوہ اضافہ جو گورنمنٹ کسی سودی انویسٹمنٹ میں سرمایہ کاری کر کے ملازم کو بنام سود دیتی ہے ، جس کا حکم بھی لینے کو جائز قرار دیتے ہوئے نہ لینے کو شبہ ربا یا ذریعہ رہا ہونے کی وجہ سے مستحب قرار دیا گیا ہے۔
درج بالا خلاصہ کے بعد درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمادیں:
1۔ درج بالا فتویٰ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ملازم کی ملکیت نہیں آتی، حالانکہ فقہاء کرام کی متعدد عبارات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ استیفاء معقود علیہ، یعنی ملازم جب پوری ماہ ملازمت کر لے تو ملازم اجرت کا مالک ہو جاتا ہے، اگر چہ ملکیت تامہ قبضے کے بعد حاصل ہوتی ہے، بحر وغیرہ کی عبارت میں ملک مطلق کی نفی ہے، مطلق ملک کی نفی نہیں ہے۔ عبارات ملاحظہ ہو:
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع " (202/4):
"فالحاصل أن الأجرة لا تملك عندنا إلا بأحد معان ثلاثة : أحدها: شرط التعجيل في نفس العقد، والثاني: التعجيل من غير شرط: والثالث: استيفاءالمعقود".
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع"(203/4):
"وأما إذا استوفي المعقود عليه ،فلأنه يملك المعوض فيملك المؤاجر العوض في مقابلته تحقيقا للمعاوضة المطلقة، وتسوية بين العاقدين في حكم العقد المطلق، وعلى هذا الأصل تبنى الإجارة المضافة إلى زمان في المستقبل بأن قال : أجرتك هذه الدار غدا أو رأس شهر كذا، أو قال: أجرتك هذه الدار سنة،أو لها غرة شهر رمضان ،أنها جائزة في قول أصحابنا".
" كتاب فقه المعاملات، استحقاق الأجرة وتملكها - المكتبة الشاملة"(ص:124):
"وأما إذا لم يشترط في العقدشيء فالقول المشهور المتأخر الذي استقر عليه الإمام أبو حنيفة رحمه ﷲوهو قول الصاحبين رحمهما ﷲ: أن الأجرة تجب حالا فحالا, كلما مضى یوم یسلم المستأجرأجرته؛لأن الأجرة تملک علی حسب ملك المنافع, وملك المنافع يحدث شيئا فشيئا على مر الزمان, فتملك الأجرة شيئا فشيئا بحسب ما يقابلها".
نوٹ: مزید دلائل کے لیے ملاحظہ ہو :" احسن الفتاویٰ" 🙁38-50/7)
نیز اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ رسالہ محررہ کے زمانے میں ملازمین کو اس طرح کے اختیارات نہیں دیئے جاتے تھے کہ آپ کو اضافی رقم بنام سود وصول کرنی ہے یانہیں ؟ بغیر کسی اجازت کے کمپنی حکومت اس میں سرمایہ کاری کر کے اضافی رقم دیا کرتی تھی۔
2۔ ایک چیز جو شبہ ربا یا ذریعہ ربا ہو، کیا اس سے بچنا محض بہتر یعنی مستحب ہے ؟ جیسا کہ فتویٰ میں ربااور شبہ ربا قرار دے کر بچنے کو محض بہتر یعنی مستحب قرار دیا گیا ہے ؟ جب کہ روایت میں ہے کہ:
" عن عمر بن الخطاب، قال: " إن آخر ما نزلت آية الربا وإن رسولﷲ صلىﷲ عليه وسلم قبض ولم يفسرها لنافدعوا الربا والريبة".(ابن ماجه،حدیث نمبر : 2276)
3۔ فتوی میں کمپنی/ حکومت کی جانب سے ملنے والی رقم اور سود کے نام سے ملنے والی اضافی رقم کو حلال وجائز قرار دیا گیا ہے؟ جب کہ حکومت سے ملنے والی رقم کو حلال کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کی ملکیت میں موجود اکثر ر قم حلال ہوتی ہے، لیکن دوسری اضافی رقم جو بنام سود دی جارہی ہے، اس کو حلال اور بچنے کو مستحب سمجھنے سے متعلق راہنمائی درکار ہے،جبکہ اضافہ اور سود لینے کا ملازم کو مکمل اختیار ہو۔
4۔ نیز علماء کرام کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اجرت ملنے سے پہلے دین ضعیف یا پھر دین متوسط شمارہوتی ہے، اگر اس میں تصرف یعنی سودی سرمایہ کاری میں لگانے نہ لگانے کا اگرملازم سے پوچھا جائے تو کیا اقتضاء ًاس کو ملکیت نہیں شمار کیا جا سکتا ہے ، جیسا کہ امام محمد " کے درج ذیل قول سے استیناس ہوتا ہے؟
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع " (202/4):
"و على هذا يخرج ما إذا أبرأ المؤاجر المستأجر من الأجر أو وهبه له أو تصدق به عليه أن ذلك لا يجوز في قول أبي يوسف الأخير ،عينا كان الأجر أو دينا.
وقال محمد: إن كان دينا جاز، وجه قول أبي يوسف ظاهر ،خارج على الأصل، وهو أن الأجرة لم يملكها المؤاجر في العقد المطلق عن شرط التعجيل،والإبراء عما ليس بمملوك المبرئ لا يصح ، بخلاف الدين المؤجل؛ لأنه مملوك، وإنما التأجيل لتأخير المطالبة فيصح الإبراء عنه، وهبة غير المملوك لاتصح .
وجه قول محمد أن الابراء لا يصح الا بالقبول، فإذا قبل المستأجر فقد قصدا صحة تصر فهما، ولا صحة إلا بالملك، فیثبت الملك مقتضى التصرف تصحیحاله كما في قول الرجل لغيره : أعتق عبدك عني على ألف درهم فقال: أعتقت والابراء اسقاط واسقاط الحق بعد وجودسب الوجوب جائز كالعفو عن القصاص بعد الجرح قبل الموت، وسبب الوجوب ههنا موجود وهو العقد المنعقد.
والجواب أنه إن كان يعني بالانعقاد في حق الحكم فهو غير منعقد في حق الحكم بلا خلاف بين أصحابنا، وإن كان يعني شيئا آخر فهو غير معقول، ولو أبرأه عن بعض الأجرة أو وهب منه جاز في قولهم جميعا، أما على أصل محمد فظاهر؛لأنه يجوز ذلك عنده في الكل فكذا في البعض.»
5۔مزید یہ کہ ملازم کی پے سلپ پر gross salary میں مکمل تنخواہ لکھی جاتی ہے،اس کے بعد Deduction کے عنوان سے Gp fund کی کاٹی جاتی ہے،تو اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملکیت آجاتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1،2،3۔پراویڈیٹ فنڈ میں جمع شدہ رقم ملازم کی ملکیت میں داخل ہوتی ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے معاصر مفتیان کرام میں دو آراء موجود ہیں:
ا۔ایک رائے یہ ہے کہ یہ رقم ملازم کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی،جسے مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے "جواہرالفقہ":3/255 پرتفصیل سے نقل کیا ہے اور ان عبارات کا جن میں ثبوت ملک کا ذکرہے یہ جواب دیا گیا ہے کہ ان میں ملکیت کے ثبوت سے حکمی ثبوت یعنی ثبوت فی الذمہ مراد ہے،جس کی تائید صاحب بحر کی درج ذیل عبارت سے ہوتی ہے جس میں انہوں نے ملکیت کی وضاحت استحقاق سے کی ہے:
"البحر الرائق " (7/ 300):
"(قوله :بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره".
اور ملک حکمی بمعنی استحقاق اس امر کے منافی نہیں جس کی بنا پر اس زیادتی کو سود سے خارج قرار دیا گیا ہے،کیونکہ اس صورت میں یہ امر واضح ہے کہ محکمہ یا گورنمنٹ نے جو اضافہ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم سے تجارت وغیرہ پر لگا کر حاصل کیا ہے وہ زیادتی ملازم کی حقیقی ملک سے انتفاع کا نتیجہ نہیں،اس لئے اس اضافے کا مالک محکمہ ہے،اب اگر محکمہ اپنی ملک سے ملازم کو کوئی حصہ دیتا ہے تو وہ سود نہیں ،بلکہ ابتدائی تبرع ہے،تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:"جواہر الفقہ":3/255 ۔
۲۔ دوسری رائے حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کی ہےکہ یہ رقم ملازم کی ملک ہے،جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔
لیکن اس کے باوجود بھی مفتی رشید احمد رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ پراویڈیٹ فنڈ پر ملنے والی اضافی رقم لینا حلال ہے،چاہے جبری کٹوتی ہو یا اختیاری،چنانچہ حضرت رحمہ اللہ" احسن الفتاوی "میں لکھتے ہیں:
"تفصیل مذکور سے ثابت ہوا کہ پراویڈنٹ فنڈ میں جمع شدہ رقم ملازم کی ملک ہے،مع ہذا وصول سے قبل اس پر زکوة نہیں اور اس پر ملنے والے تمام اضافات حلال ہیں،سود کی تعریف میں داخل نہیں.....
پراویڈنٹ فنڈ کے اضافات کو سود اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اصل تنخواہ سے زائدبدل اجل یا اجرت مملوکہ پر زیادتی نہیں،بلکہ ابتداء عقد ہی سے بوجہ اجل اصل تنخواہ میں اضافہ ہے اور کل اضافات اصل تنخواہ میں شمار ہوکر سب کا مجموعہ ابتداء عقد ہی سے بدل عمل ہے،بوجہ تاجیل بدل میں اضافہ بلاشبہ جائز ہےکماحررت فی رسالتی زیادة البدل لاجل الاجل،ان اضافات کی شرح شروع ہی سے متعین ہوتی ہے،اس لئے فساد جہالت بھی نہیں"۔("احسن الفتاوی":7/50)
اور جن حضرات کے ہاں یہ رقم ملازم کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی ان کے ہاں بھی اس رقم پر ملنے والے اضافے پر سود کا اطلاق نہیں ہوتا،کیونکہ سودایک دو طرفہ معاملہ ہے جو دو طرفہ طے ہو کر وجود میں آتا ہے، کمپنی پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے جو رقم ملازم کی اجرت سے کاٹتی ہے وہ ملازم کی ملکیت میں نہیں آتی ،کیونکہ ملکیت میں آنے کیلیے ضروری ہے کہ ملازم اس پر قبضہ کرے تو جب ملازم اس کا مالک نہیں تو اس میں ملازم کے تصرفات بھی نافذ نہیں ہوتے،یہ کاٹی گئی اجرت کمپنی کےذمہ ملازم کا قرضہ ہے جس کے مطالبہ کا ملازم کو حق ہے۔
فنڈ میں کمپنی جو سودی معاملات کرتی ہے اس کی ذمہ دار کمپنی ہے، کیونکہ کمپنی اپنی ملکیت میں یہ معاملات کر رہی ہے ، کمپنی کا ایسے معاملات کرنا یکطرفہ عمل ہے جس کا ملازم کو کوئی گناہ نہیں ہے،کمپنی جب اس مال پر سودی معاملہ کرکےاس کا سود حاصل کر کے اپنے مرکزی اکاؤنٹ میں ڈال لیتی ہے اور اس اکاؤنٹ کا غالب مال حلال ہو، پھر اس میں سے ملازم کو اصل رقم بمع اضافہ دے، تو اس کا استعمال ملازم کیلیے جائز ہو گا،کیونکہ اس سودی معاملہ میں ملازم کا کوئی دخل نہیں اور جس اکاؤنٹ سے اسے فنڈ دیا گیا ہے، اس میں حلال اور حرام دونوں مال ملے ہوئے ہیں اور حلال مال غالب ہے ۔
نیز یہ حکم اختیاری کٹوتی والی صورت کو بھی شامل ہے،کیونکہ اس صورت میں بھی ملازم کا سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا،بلکہ کمپنی یکطرفہ طور پر یہ معاملات کرتی ہے،جبکہ سود کا اطلاق دو طرفہ معاملے پر ہوتا ہے،البتہ اس صورت میں چونکہ ملازم کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اجرت کی کٹوتی نہ کروائے اور اسے کمپنی کی جانب سے متوقع سودی معاملات کا حصہ نہ بننے دے،جس کی وجہ سے بظاہر یہ صورت سودی معاملے کے مشابہ ہوجاتی ہے،اس لئے اس صورت میں اصل رقم سے اضافی رقم لینے سے گریزکو بہتر قرار دیا جاتا ہے اور لینے کی صورت میں صدقہ کرلینے کو بہتر کہاجاتا ہے۔
اس صورت میں اضافی رقم لینے کو ناجائز اس لئے نہیں قرار دیا جاتا کہ اس پر سود کی تعریف صادق نہیں آتی،جبکہ صورتا سودی معاملے کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے مکروہ تنزیہی قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ شبہہ ربا نہیں جو شرعا ممنوع ہوتا ہے،بلکہ محض ایک صورةً مشابہت ہے،جس سے بچنا فتوی کی رو سے ضروری نہیں۔
4۔ واضح رہے کہ صرف کٹوتی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دینے سے تو ملکیت ثابت نہیں ہوگی،کیونکہ اقتضاءً ملکیت وہاں مقدر مانی جاتی ہے،جہاں ملکیت مقدر مانے بغیر کہی ہوئی بات کےمقتضی پر عمل ممکن نہ ہو،البتہ اگر ملازم باقاعدہ درخواست دے کراپنی رقم کسی بیمہ کمپنی میں منتقل کروائے،یا کسی مستقل کمیٹی ،مثلا ملازمین کے نمائندوں پر مشتمل بورڈ وغیرہ کی تحویل میں دے، تو اس صورت میں اس کی ملکیت ثابت ہوجائے گی،کیونکہ اس صورت میں بیمہ کمپنی اس رقم پر قبضہ کرنے کی وکیل بن جائے گی اور وکیل کا قبضہ مؤکل کا قبضہ شمار ہوتا ہے،لہذا اس صورت میں اصل رقم سے زائد ملنے والے اضافے پر سود کا اطلاق ہوگا اور اس کا لینا جائز نہیں ہوگا۔
چنانچہ آج کل جن اداروں میں پراویڈنٹ فنڈ کے لئے الگ سے ملازمین کا نمائندہ ٹرسٹ بنایا جاتا ہے،ان کمپنیوں کے ملازمین کے لئے اختیاری کٹوتی کرواکر اس پر اضافہ لینے کے حوالے سے سود اور ناجائز ہونےکا ہی فتوی دیاجاتا ہے۔
5۔محض حسابات کی کاغذی کاروائی سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی،کیونکہ اس رقم پر ملکیت کے لئے قبضہ شرط ہے اور قبضہ اس وقت متحقق ہوتا ہے ،جب انسان اس مال پر بلاواسطہ یا بالواسطہ تصرف کرنے پر قادر ہوجائے،جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم میں ملازم کو کسی قسم کے تصرف کا اختیار نہیں ہوتا،بلکہ اگر وہ مجبوری کی صورت میں اس رقم کا کچھ حصہ نکلوانا چاہے تو بھی کڑی شرائط پر اسے وہ رقم قرض کے طور پر دی جاتی ہے ،جسے وہ محکمے کو واپس کرنے کا پابندہوتا ہے۔نیز حکومت بھی ملازم کے اس مالی حق کو اس کی مقبوضہ املاک سے خارج تصور کرتی ہے،چنانچہ پراویڈنٹ فنڈ کے سلسلہ میں 1925ء میں جو ایکٹ نمبر 19 منظور ہوا،اس میں تصریح ہے کہ گورنمنٹ پراویڈنٹ فنڈیا ریلوے پراویڈنٹ فنڈ کسی بھی صورت قابل انتقال نہیں ہے،نہ اس پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے،نہ اسے کسی دیوانی یا فوجداری عدالت کے حکم کے تحت ملازم کے کسی قرضہ یا دین کے بدلے قرق کیا جاسکتا ہے۔("جواہرالفقہ":3/265)
حوالہ جات
"الجامع لمسائل أصول الفقه" (ص: 204):
" اقتضاء النص: وهي دلالة الاقتضاء ، وهي : دلالة اللفظ على معنى لازم مقصود للمتكلم يتوقف عليه صدق الكلام ، أو صحته العقلية ، أو صحته الشرعية".
"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام" (2/ 178):
"الوكالة بالشراء - كأن يقول شخص إلى آخر وكلتك بأن تشتري لي المال الفلاني وللوكالة بالقبض أن يقول شخص لآخر وكلتك بقبض المال الذي اشتريته من فلان ولم أره فلذلك تكون رؤية الوكيل بالقبض كرؤية الأصيل ،إلا أن قبض الوكيل بالقبض على نوعين : الأول : القبض التام وهو قبض الوكيل للمبيع وهو يراه وهذا القبض يسقط خيار الموكل ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
21/ربیع الاول1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


