| 88772 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
زکات کا مال کسی مستحق کو کتنی مقدار میں دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر اندیشہ ہو کہ زکات لینے والا اس رقم سے صاحب نصاب بن جائے گاتو اس کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی مستحق زکات کو بیک وقت اتنا مال دینا مکروہ ہے جس سے وہ صاحب نصاب بن جائے، یعنی اس کی ملک میں ساڑھے باون تولےچاندی جتنی مالیت آجائے۔ البتہ اگر کسی بیماری یاناگریزضرورت کی بناء پر زیادہ دینا پڑےتوحسب ضرورت ووقفےسے دےسکتےہیں ۔اسی طرح اگر کوئی شخص کثیرالعیال ہو ،یعنی کہ دی گئی زکات سے وہ شخص اور اس کے تحت نابالغ بچےصاحب نصاب نہ بنتےہوں توعیال کا اعتبار کرتے ہوئےزیادہ زکات دینے کی بھی گنجائش ہوگی۔
حوالہ جات
وفى شرح التنوير: (2/353) (وكره إعطاء فقير نصابا) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديونا أو) كان (صاحب عيال) بحيث (لو فرقه عليهم لا يخص كلا) أو لا يفضل بعد دينه (نصاب) فلا يكره فتح. بدائع الصنائع :((2/ 48 ويكره لمن عليه الزكاة أن يعطي فقيرا مائتي درهم أو أكثر ولو أعطى جاز وسقط عنه الزكاة في قول أصحابنا الثلاثة، وعند زفر لا يجوز ولا يسقط. فتح القدير:(2/278،279) قوله:ويكره أن يدفع إلى واحد مائتي درهم فصاعدا) إلا أن يكون مديونا لا يفضل له بعد قضاء دينه نصاب، أويكون معيلا إذا وزع المأخوذ على عياله لم يصب كلا منهم نصاب.
رشید خان
دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی
26/ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


