03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک شخص کو کتنی زکات دینی چاہیے
88772زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

زکات کا مال کسی مستحق کو کتنی مقدار میں دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر اندیشہ ہو کہ زکات لینے والا اس رقم سے صاحب نصاب بن جائے گاتو اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی مستحق زکات کو بیک وقت اتنا مال دینا مکروہ ہے جس سے وہ صاحب نصاب بن جائے، یعنی اس کی ملک میں ساڑھے باون تولےچاندی جتنی مالیت آجائے۔ البتہ اگر کسی بیماری یاناگریزضرورت کی بناء پر زیادہ دینا پڑےتوحسب ضرورت ووقفےسے دےسکتےہیں ۔اسی طرح اگر کوئی شخص کثیرالعیال ہو ،یعنی کہ دی گئی زکات سے وہ شخص اور اس کے تحت نابالغ بچےصاحب نصاب نہ بنتےہوں توعیال کا اعتبار کرتے ہوئےزیادہ زکات دینے کی بھی گنجائش ہوگی۔

حوالہ جات

وفى شرح التنوير: (2/353) (وكره إعطاء فقير نصابا) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديونا أو) كان (صاحب عيال) بحيث (لو فرقه عليهم لا يخص كلا) أو لا يفضل بعد دينه (نصاب) فلا يكره فتح. بدائع الصنائع :((2/ 48 ويكره لمن عليه الزكاة أن يعطي فقيرا مائتي درهم أو أكثر ولو أعطى جاز وسقط عنه الزكاة في قول أصحابنا الثلاثة، وعند زفر لا يجوز ولا يسقط. فتح القدير:(2/278،279) قوله:ويكره أن يدفع إلى واحد مائتي درهم فصاعدا) إلا أن يكون مديونا لا يفضل له بعد قضاء دينه نصاب، أويكون معيلا إذا وزع المأخوذ على عياله لم يصب كلا منهم نصاب.

رشید خان

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

26/ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب