03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مسلم ملک میں سودی معاہدے کے تحت گھر لینے کا حکم
88784خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ہمارے ایک جاننے والے ہالینڈ میں مقیم ہیں، آج ان سے ملاقات ہوئی تو وہ mortgage پر گھر لینے کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔ وہ کسب معاش کے سلسلے میں وہاں مستقل شفٹ ہو گئے ہیں، کرائے پر رہتے ہیں، جو long term کے لیے feasible نہیں ہے، وہ اپنا گھر لینا چاہتے ہیں، اسلامک بینکنگ کا آپشن وہاں موجود نہیں ہے، اور یک مشت پوری قیمت ادا کر کے گھر لینا ان کے بس میں نہیں، ایسی صورت میں mortgage کا کیا حکم ہے؟ جبکہ بینک اس پر سود وصول کرے گا۔بعض حضرات کا کہنا ہے کہ امام ابوحنفیہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک دارالحرب میں غیر مسلم کے ساتھ سودی معاملہ کرنا جائز ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سود کی حرمت قرآن وسنت سے قطعی طور پر ثابت ہے اور شریعت میں سودی معاملہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، یہاں تک کہ ایک حدیثِ پاک میں سود دینے والے، لینے والے، گواہ بننے والے اور سودی معاملے کو لکھنے والے سب پر لعنت فرمائی گئی ہیں، لہذا کسی بھی مسلمان شخص کے لیے عام حالات میں سودی معاملہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے، جہاں تک حضرت امام ابوحنفیہ اور امام محمد  رحمہمااللہ کے نزدیک مستامن  (آج کے دور میں ویزہ لے کر کسی ملک میں داخل ہونے والا) کے لیے غیرمسلم ملک یعنی دارالحرب میں کسی حربی شخص  کے ساتھ اس کی اجازت اور رضامندی سے معاملہ کرنے کا تعلق ہے تو اس پر بھی مجبوری کے وقت عمل تب ممکن ہے جب مسلمان سودی معاملہ کر کے سود کی رقم حربی کافر سے وصول کرے، لیکن جہاں تک سودی معاملہ کر کے مسلمان کے سودی رقم دینے کا تعلق ہے تو وہ حضراتِ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک بھی جائز نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک سودی معاملہ کے ذریعہ حربی کافر کا مال مباح ہونے کی وجہ سے مسلمان کے لیے لینا جائز ہے، لیکن مسلمان کا مال حربی کافر کے لیے کسی صورت میں لینا جائز نہیں۔ اور صورتِ مسؤلہ میں چونکہ سائل نے بینک سے سودی معاملہ کر کے قرض کے علاوہ اضافی رقم بینک کو دینی ہے، جس کی کسی بھی امام کے نزدیک گنجائش اور اجازت نہیں۔ اس لیے سائل پر لازم ہے کہ وہ گھر کی خریداری کے لیے بینک کے ساتھ سودی معاملہ نہ کرے،  بلکہ اس کی بجائے اگر کوئی صاحبِ ثروت شخص ان کو گھر خرید کر ادھار پر مہنگے داموں فروخت کر دے اور پھر سائل اس کو ماہانہ قسطیں ادا کرتا رے تو اس کی اجازت ہے۔  

حوالہ جات

سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 381) الناشر: دار الرسالة العالمية:

حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، حدثنا سماك بن حرب، قال: سمعت عبد الرحمن بن عبد الله يحدث عن عبد الله بن مسعود: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لعن آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه.

شرح السير الكبير للشیبانی(4/ 102):

وإذا دخل المسلم دار الحرب بأمان فلا بأس بأن يأخذ منهم أموالهم بطيب أنفسهم بأي وجه كان؛ لأن أموالهم لا تصير معصومة بدخوله إليهم بأمان ، ولكنه ضمن بعقد الأمان ألا يخونهم ، فعليه التحرز عن الخيانة ، وبأي سبب طيب أنفسهم حين أخذ المال ، فإنما أخذ المباح على وجه منعه عن الغدر ، فيكون ذلك طيبا له ، الأسير والمستأمن في ذلك سواء ، حتى لو باعهم درهما بدرهمين أو باعهم ميتة بدراهم ، أو أخذ مالا منهم بطريق القمار ، فذلك كله طيب له،وهذا كله قول أبي حنيفة ، ومحمد رضي الله عنهما ، وقال سفيان الثوري : يجوز ذلك للأسير، ولا يجوز للمستأمن .

حاشية ابن عابدين (5/ 186) ايچ ايم سعيد:

قوله ( ولا بين حربي ومسلم مستأمن ) احترز بالحربي عن المسلم الأصلي والذمي وكذا عن المسلم الحربي إذا هاجر إلينا ثم عاد إليهم فإنه ليس للمسلم أن يراني معه اتفاقا كما يذكره الشارح ووقع في البحر هنا غلط حيث قال وفي المجتبى مستأمن منا باشر مع رجل مسلما كان أو ذميا في دراهم أو من أسلم هناك شيئا من العقود التي لا تجوز فيما بيننا كالربويات وبيع الميتة جاز عندهما خلافا لأبي يوسف ا هـ فإن مدلوله جواز الربا بين مسلم أصلي مع مثله أو مع ذمي هنا وهو غير صحيح لما علمته من مسألة المسلم الحربي والذي رأيته في المجتبى هكذا مستأمن من أهل دارنا مسلما كان أو ذميا في دارهم أو من أسلم هناك باشر معهم من العقود التي لا تجوز الخ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 186) الناشر: دار الفكر-بيروت:

(قوله ولو بعقد فاسد) أي ولو كان الربا بسبب عقد فاسد من غير الأموال الربوية كبيع بشرط كما حققناه فيما مر، وأعم منه عبارة المجتبى المذكورة وكذا قول الزيلعي، وكذا إذا تبايعا فيها بيعا فاسدا (قوله ثمة) أي في دار الحرب قيد به لأنه لو دخل دارنا بأمان فباع منه مسلم درهما بدرهمين لا يجوز اتفاقا ط عن مسكين (قوله لأن ماله ثمة مباح) قال في فتح القدير: لا يخفى أن هذا التعليل إنما يقتضي حل مباشرة العقد إذا كانت الزيادة ينالها المسلم، والربا أعم من ذلك إذ يشمل ما إذا كان الدرهمان أي في بيع درهم بدرهمين من جهة المسلم ومن جهة الكافر. وجواب المسألة بالحل عام في الوجهين وكذا القمار قد يفضي إلى أن يكون مال الخطر للكافر بأن يكون الغلب له، فالظاهر أن الإباحة بقيد نيل

المسلم الزيادة، وقد ألزم الأصحاب في الدرس أن مرادهم في حل الربا والقمار ما إذا حصلت الزيادة للمسلم نظرا إلى العلة وإن كان إطلاق الجواب خلافه والله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب اهـ.

قلت: ويدل على ذلك ما في السير الكبير وشرحه حيث قال: وإذا دخل المسلم دار الحرب بأمان، فلا بأس بأن يأخذ منهم أموالهم بطيب أنفسهم بأي وجه كان لأنه إنما أخذ المباح على وجه عرى عن الغدر فيكون ذلك طيبا له والأسير والمستأمن سواء حتى لو باعهم درهما بدرهمين أو باعهم ميتة بدراهم أو أخذ مالا منهم بطريق القمار فذلك كله طيب له أهـ ملخصا.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

27/  ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب