| 88770 | جائز و ناجائزامور کا بیان | لباس اور زیب و زینت کے مسائل |
سوال
لباس میں سنت کیا ہے؟اور قمیص میں کف بنوانا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نے کسی خاص قسم کا متعین لباس مقرر نہیں کیا ،البتہ اس کے کچھ اصول بیان کیے ہیں ۔
1۔لباس ایسا ہوکہ اس سے انسان کا ستر اس طرح ڈھک جائےکہ اعضاء کی بناوٹ اور حجم نمایاں نہ ہو۔
2۔مردوں اور عورتوں کے کپڑے ایک دوسرے سے مشابہ نہ ہوں۔
3۔ مردوں کالباس زعفران سے رنگا ہوا نہ ہو۔
4۔ مرد خالص سرخ رنگ کا کپڑا نہ پہنے،دوسرے رنگ کے کپڑےیا سرخ دھاری والے کپڑے پہن سکتاہے،بالعموم سفید لباس پہنناافضل ہے۔
5۔اپنے لباس کو اور ظاہری ہیئت کو صالحین کی ہیئت کے مطابق رکھاجائے۔
6۔فساق اور کفار کے معروف لباس سے گریز کیا جائے۔
ان اصولوں کی روشنی میں کف بنانے کی گنجائش ہے،تا ہم اگر کسی علاقے میں اسے صلحاء ناپسند کرتے ہوں اور فساق میں رواج ہو تو بچنا بہتر ہوگا۔
حوالہ جات
في الشامية(505/9): اعلم أن الكسوة منها فرض:و هو ما يستر العورة و يدفع الحر و البرد،إلى أن قال:و مستحب:و هو الزائد لأخذ الزينة و إدهار نعمة الله تعالى.
في رد المحتار(526/9)دار عالم الكتب:لا يحل النظر إلى عورة غيره فوق ثوب ملتزق بها يصف حجمها.
و في شرح التنوير(515/9)و كره لبس المعصفر و المزعفر الأحمر والأصفر للرجال.مفاده أن لايكره للنساء.ولا بأس بسائر الألوان.وفي الشامية:أقول:لكن جل الكتب على الكراهة(كراهة لبس الأحمر).
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
27/ربیع الثانی/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


