| 88774 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ایک شخص کے 2 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، اس کی بیوی کا انتقال ہوا تو اس نے دوسری شادی کی، جس سے 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہوئیں،پھر اس شخص کا بھی انتقال ہوگیا، اس کے بعد دوسری بیوی سے جو 2 بیٹے تھے ان میں سے ایک کا جوانی میں انتقال ہوگیا تو اب اس فوت شدہ لڑکے کے بہن بھائی آپس میں اپنے فوت شدہ بھائی کی میراث تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں تو کس طرح تقسیم ہوگی؟ آیا پہلی بیوی کے بہن بھائی اس میں شریک ہوں گے یا نہیں؟ اور اس فوت شدہ لڑکے کی ماں کا کتنا حصہ ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ کے مرحوم بھائی نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر کسی نے بطور تبرع ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد مرحوم کا وہ قرض ادا کیا جائے جس کی ادئیگی مرحوم کے ذمہ واجب ہو۔ پھر اگر مرحوم نے غیروارث کے لیےکوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی(3/1) تک اس پر عمل کیا جائے۔اس کے بعدجو ترکہ باقی بچے اس میں سے چھٹا حصہ مرحوم کی والدہ کودیا جائے گا اور بقیہ ترکہ ان کے بھائی اور بہنوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بھائی کو بہنوں کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، باقی مرحوم کے باپ شریک بھائی اور بہن مرحوم کی وراثت میں سے کسی حصے کے حق دار نہیں ہوں گے،کیونکہ حقیقی بھائی اوربہنوں کی موجودگی میں سوتیلے(باپ شریک)بھائی بہن وارث نہیں ہوتے، تقسیم ِ میراث کا تفصیلی نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
والدہ |
4 |
%16.666 |
|
2 |
بھائی |
10 |
%41.666 |
|
3 |
بہن |
5 |
%20.833.5 |
|
4 |
بہن |
5 |
%20.833.5 |
|
5 |
مجموعہ |
24 |
99.999 |
حوالہ جات
القرآن الکریم : [النساء:11]:
يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
السراجية في الميراث (1/ 24) الناشر: مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:
والأخوات لأب كالأخوات لأب وأم، ولهن أحوال سبع: النصف للواحدة،والثلثان للاثنتين فصاعدة عند عدم الأخوات لأب وأم، ولهن السدس مع الأخت لأب وأم تكملة للثلثين، ولا يرثن مع الأختين لأب وأم.
السراجية في الميراث (1/ 30) الناشر: مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:
الأخ لأب وأم أو الأخت لأب وأم إذا صارت عصبة مع البنت أولى من الأخ لأب والأخت لأب.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
25/ ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


