| 88778 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سامنے آرہے ہیں اس لئے کچھ سوالات ذہن میں آرہے تھے، امید ہے آپ حضرات تسلی بخش جوابات دیں گے۔
١۔کیا قرانی و سنت میں کہیں غیرت کی بنیاد پر قتل کی اجازت دی گئی ہے؟
۲۔نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کے زمانے میں اگر کسی صحابی کے اپنے گھر میں ایسا کوئی واقعہ پیش آیا۔ ہو تو اس کا کیا حل تلاش کیا گیا ؟
۳۔کیا "غیرت" کو قتل کےلیے شرعی عذرسمجھا جا سکتا ہے؟
۴۔اگر والدین، شوہر یا بھائی غیرت کی بنیاد پر قتل کر دیں تو کیا وہ ولی الدم بن سکتے ہیں؟
۵۔غیرت کے نام پر قتل کے پیچھے اصل محرک "غیرت" ہے یا انانیت اور مردانہ بالادستی
٦۔غیرت کا تصور دین سے آیا ہے یارو ایتی سماج اور رسم ورواج سے ؟
۷۔غیرت کے نام پر قتل عورتوں تک کیوں محدود ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔غیرت کے نام پر قتل کا جو طریقہ ہمارے معاشرے میں رائج ہے، شریعت اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتی۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی اس کے جواز کا ذکر منقول نہیں۔ اگر کسی سے زنا یا اس کے مقدمات میں سے کوئی جرم سرزد ہوجائے تو شریعتِ مقدسہ میں اس حوالے سے واضح احکام موجود ہیں۔ جرم کے اثبات کا طریقہ اور اس کی سزائیں بھی متعین ہیں۔ گناہ کے وقوع کے بعد کسی شخص کو ازخود سزا نافذ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ پھر اگر جرم ثابت نہ ہو یا جرم اس نوعیت کا نہ ہو جتنی سزا دی جائے، تو یہ خود بھی ایک گناہ اور جرم ہے؛ لہٰذا ہمارے معاشرے میں مروج غیرت کے نام پر قتل غیر شرعی ہے۔
البتہ اگر کوئی اپنے کسی محرمہ کے ساتھ غیرمرد کوزنایادواعی زناجیسے بوس وکنار،معانقہ وغیرہ کرتےہوئے دیکھے اور شور مچانے سے بھی وہ باز نہ آئے اورعین بدکاری کی حالت میں اسے قتل کرےتوشرعاً کی گنجائش ہے، البتہ قصاص سے بچنے کے لیے یہ بات قاضی کے سامنے دو گواہوں سے ثابت کرنا ہوگی۔ عین حالتِ مباشرت سے آگے پیچھے قتل کی اجازت نہیں۔ اگر قتل کیا تو زنا پر چار گواہ پیش کرنا ہوں گے، ورنہ قصاص لیا جائے گا۔
اس بارے میں ہمارے ہاں سے ایک مفصل فتویٰ (87442) جاری ہوا ہے، جس کی ڈیجیٹل کاپی پی ڈی ایف کی شکل میں منگوانے پر فراہم کی جاسکتی ہے۔
۲۔ عُوَیمِر عَجلانی رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا تھا، مگر قتل نہیں کیا، بلکہ قتل کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، جس پر لعان کی آیات نازل ہوئیں، اور پھر لعان ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں تفریق کر دی تھی۔
۳۔ عین مباشرت کی حالت نہ ہو تو قتل کرنے کی اجازت نہیں بنتی۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ "اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لوں تو میں تلوار سے اسے مارتا، بغیر اس کے کہ اس کی دھار کو موڑوں (یعنی پوری طاقت سے وار کروں گا)"۔
اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو؟ میں سعد سے زیادہ غیرت والا ہوں، اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ظاہر و باطن تمام بے حیائیاں (فحاشی) حرام کر دی ہیں، اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والا نہیں۔"
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیرت مند ہے، پھر بھی اس نے چار گواہ لانے والا حکم نازل کیا ہے، اور ازخود قتل کی اجازت نہیں دی۔
۴۔ اگر والد، شوہر یا بھائی وغیرہ نے کسی کو غیرت کے نام پر قتل کیا، تو وہ خود قاتل ہونے کی وجہ سے "ولیّ الدم" نہیں بن سکتا، بلکہ قاتل شمار ہوتا ہے، اور قصاص/معافی اور میراث کا حق دوسرے ورثا کو منتقل ہوجاتاہے۔
۵۔ ایسے واقعات بعض معاشروں میں اگرچہ "غیرت" کے نام سے تعبیر کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے پیچھے اکثر مردانہ بالادستی، معاشرتی دباؤ، انانیت اور غیرت کا غلط مفہوم کارفرما ہوتے ہیں، نہ کہ وہ غیرت جسے شریعت نے پسند فرمایا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے غیرت وہ جذبہ ہے جو انسان کو اللہ کی نافرمانی اور فحاشی سے روکنے پر ابھارتا ہے، اور اس کا اظہار عدل، انصاف اور شرعی قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
اس کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ خود بھی فحاشی اور اس کے اسباب سے بچے، اپنے زیرِ تربیت مرد و خواتین کو بھی اس سے بچائے، اور اگر اس کے خلاف کوئی امر واقع ہو تو شریعت کے دائرے میں رہ کر
غیرت کا اظہار کرے، عدل و انصاف اور شرعی قانون کو پسِ پشت نہ ڈالے۔
جب انسان خود فیصل بن کر سزا دیتا ہے، اور بغیر شرعی ثبوت اور عدالت کے کسی کو قتل کرتا ہے، تو یہ شرعی غیرت کے بجائے ظلم، انانیت اور حدود سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ غیرت کے نام پر مروج قتل کے پیچھے حقیقی محرک شرعی غیرت نہیں بلکہ انانیت، سماجی دباؤ اور مردانہ تسلط کا وہ تصور ہے جو عورت کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔
۶۔ بلاشبہ دین میں غیرت کا تصور ہے اور یہ بڑی قابلِ تعریف چیز ہے، لیکن اس کے اظہار کی بھی حدود ہیں۔ اگر انسان ان حدودکو نظراندازکرے تومعاشرتی اور سماجی غیرت توبن سکتی ہےلیکن شرعی نہیں ۔
اور بالعموم اس حد تک نوبت اس لیے پہنچتی ہے کہ انسان شرعی غیرت کے پیشِ نظر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا؛ بیوی اور محرم عورتوں کو پردہ نہیں کرواتا، غیر محرموں سے اختلاط اور ہم کلام ہونے سے منع نہیں کرتا، اور موبائل بلا روک ٹوک استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں، اور پھر غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرکے ظلم کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔
۷۔ غیرت کے نام پر قتل عورتوں تک اس لیے محدود ہیں کہ ہمارے معاشروں میں غیرت کا تصور غلط بنیادوں پر قائم ہے۔ غیرت کو دینی اور اخلاقی جذبے کے بجائے عورت کے جسم اور کردار سے وابستہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مرد کو اس معیار سے آزاد سمجھا جاتا ہے۔
اسلام نے غیرت کو عفت ،پاکدامنی اورتقوی یعنی فحاشی اوردیگرگناہوں سےرکنےسے جوڑا ہے، جنس سے نہیں جوڑا۔ مرد اور عورت دونوں پر عفت ، پاکدامنی اورتقوی لازم ہے، اور دونوں کے غلط عمل پر شرعی قانون یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔
لیکن قبائلی اور روایتی سماجوں میں "غیرت" کو عورت کے کردار اور مرد کی ملکیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس لیے بعض معاشروں میں سزا صرف عورت کو دی جاتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کا عورتوں تک محدود ہونا دین کی تعلیم نہیں، بلکہ سماجی ناانصافی، انانیت اور مردانہ تسلط کا نتیجہ ہے۔
حوالہ جات
مشکوة المصابیح:
عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه قال: إن عويمر العجلاني قال: يا رسول الله ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا ايقتله فيقتلونه؟ ام كيف افعل؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قد انزل فيك وفي صاحبتك فاذهب فات بها» قال سهل: فتلاعنا في المسجد وانا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما فرغا قال عويمر: كذبت عليها يا رسول الله إن امسكتها فطلقتها ثلاثا ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انظروا فإن جاءت به اسحم ادعج العينين عظيم الاليتين خدلج الساقين فلا احسب عويمر إلا قد صدق عليها وإن جاءت به احيمر كانه وحرة فلا احسب عويمرا إلا قد كذب عليها فجاءت به على النعت الذي نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم من تصديق عويمر فكان بعد ينسب إلى امه (حدیث نمبر3304)
سنن الدرارمی:
عن المغيرة، قال: بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم ان سعد بن عبادة، يقول: لو وجدت معها رجلا لضربتها بالسيف غير مصفح، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اتعجبون من غيرة سعد؟ انا اغير من سعد والله اغير مني، ولذلك حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن ولا شخص اغير من الله، ولا احب إليه من المعاذير، ولذلك بعث النبيين مبشرين ومنذرين ولا شخص احب إليه المدح من الله، ولذلك وعد الجنة".(حدیث2264)
رد المحتار - (ج 15 / ص 209)
(ويكون ) التعزير ( بالقتل كمن ) وجد رجلا مع امرأة لا تحل له ، ولو أكرهها فلها قتله ودمه هدر ، وكذا الغلام وهبانية ( إن كان يعلم أنه لا ينزجر بصياح وضرب بما دون السلاح وإلا ) بأن علم أنه ينزجر بما ذكر ( لا ) يكون بالقتل ( وإن كانت المرأة مطاوعة قتلهما ) كذا عزاه الزيلعي للهندواني .
المحيط البرهاني في الفقه النعماني - (ج 10 / ص 98):
وسئل الفقيه أبو جعفر: عن رجل وجد رجلا مع امرأته أيحل له قتله؟ قال: إن كان يعلم أنه ينزجر عن الزنا بالصياح أو بالضرب بما دون السلاح، فإنه لا يقتله، ولا يقاتل معه بالسلاح، وإن علم أنه لا ينزجر إلا بالقتل والمقاتلة معه بالسلاح؛ حل له القتل، فكأنه إنما أخذ هذا من قول محمد رحمه الله، فإن محمدا رحمه الله أمره بالتحري مرة أخرى بعدما تحقق الشر بالتحري ليعلم أنه هل ينزجر بما دون القتل، أو لا ينزجر،
فتح القدير - (ج 12 / ص 156):
وسئل أبو جعفر الهندواني عمن وجد رجلا مع امرأة أيحل له قتله ؟ قال : إن كان يعلم أنه ينزجر عن الزنا بالصياح والضرب بما دون السلاح لا يقتله .وإن علم أنه لا ينزجر إلا بالقتل حل له قتله ، وإن طاوعته المرأة يحل قتلها أيضا .وهذا تنصيص على أن الضرب تعزير يملكه الإنسان وإن لم يكن محتسبا ، وصرح في المنتقى بذلك ، وهذا لأنه من باب إزالة المنكر باليد .والشارع ولى كل أحد ذلك حيث قال { من رأى منكم منكرا فليغيره بيده ، فإن لم يستطع فبلسانه } الحديث .
حاشیۃ الشلبی علی فتح القدیر:ج5/ص112):
ثم وجدت فی المنتقی عن ابی یوسف کذالک لکن وضعھا وجد رجلا مع امراتہ او مع محرم لہ او مع جاریتہ وفی نوادر ابن سماعۃ عن محمد رای محصنا یزنی جاز لہ ان یرمیہ ویقتلہ وفی جامع قاضیخان فخر الدین فی باب من الشھادۃ فی الحدود ان الاصل فی کل شخص اذا رای مسلما یزنی ان یحل لہ قتلہ وانما امتنع خوفا من ان یقتلہ ولا یصدق فی قولہ انہ یزنی.
الفتاوى الهندية - (ج 42 / ص 421):
وسئل الفقيه أبو جعفر - رحمه الله تعالى - عن رجل وجد رجلا مع امرأته أيحل له قتله ؟ .قال : إن كان
يعلم أنه ينزجر عن الزنا بالصياح أو بالضرب بما دون السلاح فإنه لا يقتله ، ولا يقاتل معه بالسلاح ،
وإن علم أنه لا ينزجر إلا بالقتل والمقاتلة معه بالسلاح حل له القتل ، كذا في في الذخيرة .
البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 11 / ص 110):
قال في التبيين: وسئل الهندواني عن رجل وجد رجلا مع امرأة أيحل له قتله؟ قال: إن كان يعلم أنه ينزجر بالصياح والضرب بما دون السلاح لا، وإن كان يعلم أنه لا ينزجر إلا بالقتل حل له القتل، وإن طاوعته المرأة حل له قتلها أيضا. وفي المنية: رأى رجلا مع امرأته وهو يزني بها أو مع محرمه وهما مطاوعتان قتل الرجل والمرأة جميعا اه. فقد أفاد الفرق بين الاجنبية والزوجة والمحرم ففي الاجنبية لا يحل القتل إلا بالشرط المذكور من عدم الانزجار بالصياح والضرب، وفي غيرها يحل مطلقا. وفي المجتبى: الاصل في كل شخص إذا رأى مسلما يزني أن يحل له قتله وإنما يمتنع خوفا أن يقتله ولا يصدق في أنه زنى. وعلى هذا القياس المكابرة بالظلم وقطاع الطريق وصاحب المكس وجميع الظلمة بأدنى شئ له قيمة وجميع الكبائر والاعونة والظلمة والسعاة فيباح قتل الكل ويثاب قاتلهم اه. ولم يذكر المصنف من يقيمه قالوا: لكل مسلم إقامته حال مباشرة المعصية، وأما بعد الفراغ منها فليس ذلك لغير الحاكم. قال في القنية: رأى غيره على فاحشة موجبة للتعزير فعزره بغير إذن المحتسب فللمحتسب أن يعزر المعزز إن عزره بعد الفراغ منها. قال رضي الله عنه: قوله إن عزره بعد الفراغ منها فيها إشارة إلى أنه لو عزره حال كونه مشغولا بالفاحشة فله ذلك وأنه حسن لان ذلك نهي عن المنكر وكل واحد مأمور به، وبعد الفراغ ليس بنهي عن المنكر لان النهي عما مضى لا يتصور فيتمحض تعزيرا وذلك إلى الامام ا ه. وذكر قبله من عليه التعزير إذا قال لرجل أقم على التعزير ففعل ثم رفع إلى القاضي فإن القاضي يحتسب بذلك التعزير الذي أقامه بنفسه ا ه. وفي المجتبى: فأما إقامة التعزير فقيل لصاحب الحق كالقصاص، وقيل للامام لان صاحب الحق قد يسرف فيه غلظا بخلاف القصاص لانه مقدر بخلاف التعزير الواجب حقا لله تعالى حيث يتولى إقامته كل أحد بحكم النيابة عن الله تعالى اه. وفي القنية: ضرب غيره بغير حق وضربه المضروب أيضا أنهما يعزران بإقامة التعزير بالبادي منهما لانه أظلم والوجوب عليه أسبق اه.
وفی فتاوی هندیہ :
"القاتل بغير حق لا يرث من المقتول شيئا عندنا سواء قتله عمدا أو خطأ، وكذلك كل قاتل وهو في معنى الخاطئ كالنائم إذا انقلب على مورثه، وكذلك إن سقط من سطح على مورثه فقتله أو أوطأ بدابته مورثه وهو راكبها، كذا في المبسوط."(کتاب الفرائض، الباب الخامس في موانع الإرث، ج:6، ص:454، ط:دار الفکر)
وفی الدر المختار: (767/6، ط: دار الفکر)
(وموانعه) على ما هنا أربعة (الرق)۔۔۔(والقتل) الموجب للقود أو الكفارة وإن سقطا بحرمة الأبوة
على ما مر۔۔۔ (واختلاف الدين) إسلاما وكفرا۔۔۔ (و) الرابع (اختلاف الدارين) فيما بين الكفار عندنا خلافا للشافعي.
وفي فتاوى جامعة الرشيد:
خلاصته أنّه في حال وقوع الجريمة عَيْنًا، ومع شرط عدم إمكان الانزجار بما دون السلاح، يكفي لإسقاط القصاص وجود نفس بيّنة (شاهدين) ، أمّا إذا لم تكن حالة المباشرة قائمة، أو كان يُظنّ إمكان ردعه بغير القتل، فحينئذٍ لا بدّ من أربعة شهود لإسقاط القصاص إذا كان المقتول محصنًا (متزوّجًا) ، وإلاّ فإنّ القاتل يُقتَل قصاصًا على كلّ حال.
كما أنّه في سائر المذاهب هذا الحكم مخصوصٌ بالزوجة أو المرأة المحرَّمة أو الابن أو البنت كما نُقل عن أئمّة المذاهب، أمّا عند الحنفيّة فقد وردت في ذلك روايتان: إحداهما تُخصِّص، والأخرى لا تخصِّص. وكذلك هناك فرقٌ بين القتل في عين الحال والقتل بعد الفعل.
ويرى الحنفيّة أنّ علّة الجواز ديانةً هي الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، فالأصل في الحكم هو جواز القتل ديانةً عند وقوع الفعل عَيْنًا ، أمّا إذا قصّرت الحكومة في أداء واجبها، فبناءً على بعض الفروع الفقهيّة قد يكون القتل بعد المباشرة ومع إمكان الانزجار بغير السلاح جائزًا ديانةً فقط، أي غير مؤاخذٍ عليه في الآخرة، وإن كان ممنوعًا قضاءً. (الحكم الحقّاني)
المعنى الفقهي لجواز القتل ديانةً:
ينبغي أن يُعلَم أنّ جواز القتل ديانةً لا يعني إباحته قانونيًّا أو تشجيع الناس عليه، بل معناه أنّ من ارتكب مثل هذا القتل، وكان متحقّق الشروط والقيود الشرعيّة، فإنّه لا يأثم بينه وبين الله، ولا يُعدّ قاتلًا ظلمًا في الديانة، لكنّه مع ذلك ملزَمٌ بالإثبات أمام القضاء ، وليس حرًّا في التصرّف أو معفى من الأحكام القضائيّة.
فإنّ الفقهاء – رحمهم الله – لم يُثبتوا في كلامهم أيّ دليلٍ على الإعفاء القضائي، بل نصوصهم صريحة في أنّ الدولة لها الحقّ الكامل في تنفيذ القصاص ما لم يُقِم القاتل البيّنة على تحقق شروط الجواز الشرعي، كوقوع الفعل في حال المباشرة وعدم إمكان ردع الفاعل بما دون القتل ،سواء عن طريق الشهود الشرعيّين أو الدليل المعتمد كالفيديو الموثّق.
وعليه، فإذا لم تُثبت الجريمة بشهادةٍ معتبرة أو لم تطمئنّ الدولة إلى صدق دعواه بوسائل الإثبات الأخرى، جاز لها أن تقتله قصاصًا.
الأدلّة الشرعيّة على جواز القتل ديانةً بشروطه:
أمّا الدليل الشرعي على جواز القتل ديانةً دون القضاء فهو ما ورد في الصحيحين (البخاري ومسلم) و الموطأ و سنن ابن ماجه و مصنّف ابن أبي شيبة و مصنّف عبد الرزاق ، من الأحاديث التي استدلّ بها العلماء على جوازه ديانةً ومنعه قضاءً .
ومنها حديث سعد بن عبادة رضي الله عنه في شأن اللعان، وفي بعض طرقه قول النبي ﷺ:> «أتعجبون من غيرة سعد؟»> وفي بعض الروايات:> «كفى بالسيف شاهدًا»> فاستُدلّ بهذه الألفاظ على جواز القتل ديانةً ،> وفي روايات أخرى قوله ﷺ:> «لا، إنّي أخاف أن يتتابع في ذلك السكران والغيران»> وفي بعضها:> «يأبى الله إلا بالبيّنة»> فاستُدلّ بهذه على منعه قضاءً .> وكذلك بما جاء في الأحاديث والآثار من قولهم:> «ما من أمرٍ إلا بالبيّنة»> وحديث:> «إن لم يأتِ بأربعة شهداء فليُدفع في رقبته»> على وجوب البينة القضائية.وقد ثبت في آثارٍ كثيرة أنّ من أُثبت عليه جرم مادون الزنا (كالأفعال الداعية إليه أو الخلوة المريبة) ، فإنّه يُعزّر بمائة جلدة أو دونها بحسب ما يراه القاضي.(انظر: إعلاء السنن ، ج11، ص692)
وأمّا الروايات التي قد تُفهم منها إباحة القتل مطلقًا ، فهي – متى ثبتت – مقيّدة ومؤوّلة بإقامة البيّنة ، ولا يُستدلّ بها على الجواز المطلق.
شرح صحيح البخارى لابن بطال (8/ 480)
قال المهلب: معنى قوله (صلى الله عليه وسلم) : (أتعجبون من غيرة سعد؟ والله أغير منى) يدل على وجود القود فيمن قتل رجلا وجده مع امرأته لأن الله تعالى وإن كان أغير من عباده فإنه قد أوجب الشهود فى الحدود فلا يجوز لأحد أن يتعدى حدود الله، ولا يسفك دما بدعوى. وقد روى مالك هذا المعنى فى حديث سعد بينا، روى مالك، عن سهيل بن أبى صالح، عن أبيه، عن أبى هريرة: (أن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله، أرأيت إن وجدت مع امرأتى رجلا أمهله حتى آتى بأربعة شهداء؟ فقال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) : نعم) ففى هذا من الفقه قطع الذرائع والتسيب إلى قتل الناس والادعاء عليهم بمثل هذا وشبهه، وفى حديث سعد من رواية مالك: النهى عن إقامة الحدود بغير سلطان وبغير شهود؛ لأن الله تعالى عظم دم المسلم وعظم الإثم فيه، فلا يحل سفكه إلا بما أباحه الله به، وبذلك أفتى على بن أبى طالب فيمن قتل رجلا وجده مع امرأته فقال: إن لم يأت بأربعة شهداء؛ فليعط برمته. أى يسلم برمته للقتل، وعلى هذا جمهور العلماء. وقال الشافعى وأبو ثور: يسعه فيما بينه وبين الله قتل الرجل وامرأته إن كانا ثيبين وعلم أنه قد نال منها ما يوجب الغسل ولا يسقط عنه القود فى الحكم. وقال أحمد بن حنبل: إن جاء ببينة أنه وجده مع امرأته وقتله يهدر دمه إن جاء بشاهدين. وهو قول إسحاق وهذا خلاف قوله فى حديث مالك: (أمهله حتى آتى بأربعة شهداء؟ قال: نعم) وقال ابن حبيب: إذا كان المقتول محصنا، فالذى ينجى قاتله من القتل أن يقيم أربعة شهداء أنه فعل بامرأته، وأما إن كان المقتول غير محصن فعلى قاتله القود، وإن أتى بأربعة شهداء، هذا وجه الحديث عندى. وذكر ابن مزين عن ابن القاسم أن ذلك فى البكر والثيب سواء يترك قاتله إذا قامت له البينة بالرؤية. وقال أصبغ عن ابن القاسم وأشهب: أستحب الدية فى البكر فى مال القاتل. وهو قول أصبغ. وقال المغيرة: لا قود فيه ولا دية، وقد أهدر عمر بن الخطاب دما من هذا الوجه، روى الليث، عن يحيى بن سعيد أن رجلا فقد أخاه فجعل ينشده فى الموسم، فقام رجل فقال: أنا قتلته، فمر به إلى عمر بن الخطاب فقال: مررت بأخى هذا فى بيت امرأة مغيبة يقول: وأشعث غره الإسلام منى أبيت على ترائبها وكسرى خلوت بعرسه ليل التمام على صهباء لاحقة الحزام فأهدر عمر دمه. وروى الليث، عن يحيى بن سعيد: (أن زيد بن أسلم أدرك المرأة الهذلية التى رمت ضيفها الذى أرادها على نفسها فقتلته عجوز كبيرة، فأخبرته أن عمر أهدر دمه) وقال ابن مزين: ما روى عن عمر فى هذا أنه ثبت عنده ذلك من عداوتهم وظلمهم، ولو أخذ بقول الرجل فى ذلك بغير بينة لعمد الرجل إلى الرجل يريد قتله، فيدعوه إلى بيته لطعام أو لحاجة فيقتله ويدعى أنه وجده مع امرأته، فيؤدى ذلك إذا قبل قوله إلى إباحة الدماء وإسقاط القود بغير حق ولا إثبات. وقال ابن المنذر: والأخبار عن عمر مختلفة وعامتها منقطعة، فإن ثبت عن عمر أنه أهدر الدم فيها، فإنما ذلك لبينة ثبتت عنده تسقط القود.
وفی صحيح البخاري:
1. «ما أحد أغير من الله، من أجل ذلك حرَّم الفواحش ما ظهر منها وما بطن»(صحيح البخاري، رقم: 4633 / صحيح مسلم، رقم: 2760)
(صحيح مسلم،:
2. «أتعجبون من غيرة سعد؟ لأنا أغير منه، والله أغير مني» (رقم: 1499) )
صحيح البخاري:
3. «إن الله يغار، وغيرة الله أن يأتي المؤمن ما حرّم الله عليه» (صحيح البخاري، رقم: 5220 / صحيح مسلم، رقم: 2761)
سنن أبي داود:
4. «الغيرة من الإيمان، والبذاء من النفاق» (سنن أبي داود، رقم: 2658 / صحيح الجامع، رقم: 4179)
سنن النسائي:
5. «ثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة: العاقّ لوالديه، والمرأة المتبرّجة، والديوث» (سنن النسائي، رقم: 2562 / مسند أحمد، 2/134)
سنن ابن ماجه
6. «إن لكل دين خلقًا، وخلق الإسلام الحياء» (سنن ابن ماجه، رقم: 4181)
شرح صحيح البخارى لابن بطال (7/ 348)
وفيه: أبو هريرة، قال النبى (صلى الله عليه وسلم) : (إن الله يغار، وغيرة الله أن لا يأتى المؤمن ما حرم الله)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
27/4/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


